سیاسی پارٹیاں اور جمہوریت


وطن عزیز میں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں جو کہ ملک خداداد میں جمہوریت کے نفاذ کے لیے شب و روز کوشاں رہتی ہیں اور اس کے لیے قید و بند، جلاوطنی سے لے کے شہادت تک قربانیاں بھی دیتی ہیں مگر انتہائی افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان تمام سیاسی پارٹیوں میں جو کہ پاکستان میں جمہوریت کی داعی ہیں ان کی اپنی پارٹیوں کے اندر جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ قانون یہ کہتا ہے کہ ہر سیاسی پارٹی کے اندر الیکشن ہونے چاہئیں اور جمہوری انداز سے کارکنان اپنا لیڈر منتخب کریں۔

مگر ہمارے ہاں پارٹی لیڈر خود کو، بھائی، بہن یا بیٹے بیٹی کو پارٹی سربراہ کے لیے نامزد کرتا ہے اور باقی کسی کارکن میں اتنی جراًت نہیں ہوتی کہ وہ ان کے مقابلے پہ آ جائے۔ یا شاید وہ خود کو اتنا کمتر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوشش کرنا ہی مناسب نہیں سمجھا۔ ماضی میں پی ٹی آئی نے یہ روایت ڈالی تھی ایک دفعہ بھرپور طریقے سے الیکشن بھی ہوئے مگر وہ بھی اندرونی لڑائیوں کی نذر ہو گئے اور اس کے بعد وہاں بھی اس سلسلے میں مکمل خاموشی پائی جاتی ہے۔

کچھ جماعتیں تو ایسی بھی ہیں کہ اگر حکومت یا اپوزیشن میں آئیں تو بھی گھر سے باہر کوئی عہدہ نہیں نکالتیں۔ ہاں پی پی پی میں موروثیت کسی حد تک کم ہے یا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ محترمہ بے نظیر کی شہادت کے بعد خاندان میں کوئی ایسا بندہ نہیں تھا جو وزیراعظم کے عہدے پر آتا۔ زرداری صاحب خود صدر بن گئے۔ اس لیے سندھ کی وزارت اعلیࣿ اور وزارت عظمیٰ دوسرے لوگوں کو دینی پڑیں۔ انہوں نے آئین میں کچھ اچھی ترامیم کیں جیسے اٹھارہویں ترمیم کر کے صوبوں کو طاقتور بنایا اور صدر کے اختیارات کو محدود کیا۔ باقی جماعتوں میں موروثیت ہی ہے۔ اور نون لیگ میں تو ایسا رواج ہی نہیں کہ وہ کسی اور کو خود سے زیادہ قابل اور عاقل سمجھیں۔ پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ خان صاحب کے بعد ان کے خاندان میں کوئی ایسا ہے نہیں جسے پاور ٹرانسفر کی جائے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ جماعتیں اپنی پارٹی کی حد تک جمہوریت پسند نہیں کرتیں اور کسی دوسرے بندے کو پارٹی الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دیتیں تو یہ ملک کو کیا جمہوریت دے سکتی ہیں؟ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اپنی ذات اور اپنے خاندانی اور کاروباری فوائد حاصل کرتے کرتے اگر کچھ ملک کا بھی بھلا ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اپنا تو ہو ہی رہا ہے۔

اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ کہ پارٹی کی سیکنڈ لیئر کی لیڈرشپ نے بھی کبھی نہیں سوچا کہ چلو ہم بھی صدارت یا چیئرمین کا الیکشن لڑ کے دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے۔

اس معاملے میں جماعت اسلامی والوں کی تعریف بنتی ہے جو باقاعدگی کے ساتھ اپنے امیر کا چناؤ کرتے ہیں اور پھر اسے عزت دیتے ہیں۔ اور وہاں آزادی ہے کہ جو بھی کارکن کسی دوسرے کارکن کو اس قابل سمجھتا ہے وہ امیر بنے اسے ووٹ دیتا ہے اور نتیجے کو وہ کھلے دل کے ساتھ قبول کرتا ہے۔

باقی سیاسی پارٹیوں میں دوسرے نمبر کے لیڈران کو پارٹی کی لیڈر شپ کے لیے اہل ہی نہیں سمجھا جاتا جو کہ ایک غلط اور غیر جمہوری رویہ ہے۔ جب تک یہ رویہ نہیں بدلے گا تب تک ملک میں آمریت ہی رہے گی خواہ وہ کوئی سیاسی جماعت کی حکومت میں ہو یا مقتدر حلقوں کی طرف سے۔ اس میں بہت سارا قصور ہمارا بھی ہے ہم نے اپنی اپنی پسندیدہ پارٹی میں کبھی ایسی تحریک ہی نہیں چلائی۔ بس لیڈر نے جس کھونٹے سے باندھا اسی سے بندھے رہے اور آنکھیں بند کے کے اندھی تقلید جاری رکھی اور ہم لوگ خود پہ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ پارٹی لیڈر کی پالیسی چاہے اچھی ہو یا بری ہمیں ہر حال میں اس کا دفاع کرنا ہے۔

کچھ لوگ اسے پارٹی سے عشق کا نام دیتے ہیں کچھ اسے پارٹی سے وفا کا نام دیتے ہیں۔ مگر وفا یا عشق کا رشتہ اپنے کسی دوست، رشتہ دار سے بنتا ہے حقیقت میں ہم اپنے ملک سے محبت یا عشق کر رہے ہوتے ہیں اپنے اپنے نظریے کے مطابق ہم کسی نا کسی سیاسی و مذہبی پارٹی کو سمجھتے ہیں کہ یہ ملک کی باقی پارٹیوں کی نسبت بہتر فلاح کر سکتی ہے۔ پارٹی سے وابستگی ہوتی ہے نا کہ عشق یا وفا۔ عشق یا وفا تو در حقیقت ہم اپنے وطن سے کر رہے ہوتے ہیں۔

اور اس وفا یا عشق کا تقاضا یہ ہے کہ جس پارٹی سے ہماری وابستگی ہے اس کے اچھے کم کی تعریف کریں اور اگر پارٹی کوئی غلط پالیسی اپنا رہی ہے تو اس پہ کھل کے تنقید کریں تاکہ لیڈران کو یہ احساس ہو کہ عوام کی ہماری پارٹی سے وابستگی ضرور ہے وہ ہمیں اس ملک کے مسائل کا نجات دہندہ ضرور سمجھتے ہیں لیکن وہ ہمارے زر خرید نہیں ہیں۔ میری نظر میں اس وقت عوام کو بہترین اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیے وابستگی خواہ کسی بھی جماعت سے رکھیں اچھے کو اچھا کہیں اور غلط پہ کھل کے تنقید کریں۔

یہی اپوزیشن کا بنیادی کام ہوتا ہے۔ اب ملک میں نا تو حکومت کا کوئی پتہ چل رہا ہے نا ہی اپوزیشن کا تو اس عشق اور وفا جو ہم پاکستان سے کرتے ہیں کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہم عوام کو اپوزیشن کا کردار ادا کرنا پڑے گا تاکہ ہم پاکستان سے عشق اور وفا کا قرض اتار سکیں۔ اور آئین قانون بھی ہمیں یہی کہتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو بھی موروثیت ختم کرنی ہو گی۔ اور دوسرے لیڈران کو بھی موقع دیں ان پہ اعتماد کریں۔ اس سے یقیناً بہتری آئے گی۔

پروردگار پاکستان کا حامی و ناصر ہو
پاکستان زندہ آباد
پاکستان پائندہ آباد

Facebook Comments HS