پاکستان کا سیاسی گرداب


پاکستان کا سیاسی بحران ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ یہ بحران محض شخصیات یا حکومتوں کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر سیاسی، انتظامی، معاشی اور قانونی امور پر ایک بڑے انتظامی اور ادارہ جاتی ڈھانچوں میں تبدیلی کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ عمومی طور پر ہم مسائل کی درست اور گہرائی سے مرض کی تشخیص کرنے کی بجائے محض اوپر یا سطحی سطح پر تبدیلی کر کے روزمرہ کے معاملات کو چلانا چاہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی نظام اپنی اصلاح کرنے یا اسے اصلاحات کی مدد سے بہتر بنانے کی بجائے تسلسل کے ساتھ بگاڑ کے کھیل کا حصہ بن گیا ہے۔ طاقت اور اقتدار سمیت شخصیات کی بنیاد پر جاری سیاست و جمہوریت کا کھیل نے پورے ریاستی نظام کو نہ صرف یرغمال بنا کر بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر اس کے مستقل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سیاسی جماعتوں، قیادت اور اہل دانش سمیت دیگر فریقین کے درمیان جاری سیاسی کھینچا تانی یا سیاسی فریقین کی سطح پر ایک دوسرے کو بنیاد بنا کر الزام تراشیوں پر مبنی سیاست نے پورے سیاسی نظام کو ایک غیر یقینی کیفیت سمیت سیاسی گرداب میں پھنسا دیا ہے۔ سیاست و جمہوریت کا راستہ اسی بنیاد پر اختیار کیا جاتا ہے کہ ہم ایک ایسا سیاسی نظام تشکیل دیں یا اسے مضبوط بنائیں جو ہمارے لیے بہتر مستقبل کے لیے نئے سیاسی امکانات کو پیدا کرے۔

کیونکہ سیاست اور جمہوریت میں امکانات کا کھیل ہی ریاستی نظام کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں کلیدی نوعیت کا کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں سیاست، جمہوریت اور اسے جڑے فریقین میں سیاسی تناؤ اور گہرائی یا سیاسی تقسیم اس خوفناک حد تک آگے بڑھ گئی ہے کہ سیاسی محاذ پر جامد ہو گئے ہیں۔ سیاسی محاذ پر جامد عدم لچک کے نہ ہونے کا نتیجہ ہمیں سیاسی طور پر بند گلی میں دھکیل رہا ہے جو سنجیدہ اور بحث طلب مسئلہ ہے۔ سیاسی محاذ پر ہم سب ہی سیاسی استحکام کو پیدا کرنے کی بجائے ایسے طور طریقے یا طرز عمل کو اختیار کر رہے ہیں جو ہمیں سیاسی و جمہوری عمل سے پیچھے کی طرف دھکیل رہا ہے۔

سیاست اور جمہوریت کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاسی فریقین اپنے مسائل کو خود سے یا پہلے سے موجود سیاسی فورمز پر زیر بحث لانے یا اس کو حل کرنے کی بجائے ان اہم اور سنجیدہ یا حساس معاملات کو دیگر اداروں جن میں عدلیہ اور اسٹیبلیشمنٹ پر ڈال دیتے ہیں۔ بظاہر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ہم خود تو مسئلہ حل نہیں کر سکتے اس کے لیے ہمیں آپ کی مدد اور حمایت درکار ہے۔ سیاسی فریقین یہ بھول جاتے ہیں کہ جب ہم سیاسی محاذ پر سیاسی دروازے بند کر دیتے ہیں تو اس کا فائدہ ان ہی قوتوں کو ہوتا ہے جو سیاست اور سیاست دانوں کی ناکامی کو بنیاد بنا کر خود کو متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس وقت بھی جو تمام سیاسی فریقین میں تحریک عدم اعتماد کو بنیاد بنا کر ایک بڑا سیاسی بحران موجود ہے اس کے حل میں ہمیں ناکامی کا سامنا ہے۔ سیاسی فریقین میں بداعتمادی کے ساتھ ساتھ ریاست اور ملکی مفاد کے مقابلے میں ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے اور ذاتی مفاد کو ہر محاذ پر فوقیت حاصل ہے۔

اگرچہ اس وقت جو موجودہ بحران ہے اس کے حل پر سب کی نظریں سپریم کورٹ سے جڑے فیصلے پر ہے۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ جس کے بھی حق یا مخالفت میں آ جائے بحران کی شدت میں کمی ہوگی۔ کیونکہ ہمارے سیاسی بحران کی بنیاد کوئی ایک مسئلہ سے نہیں جڑی ہوئی اس لیے عدالتی فیصلہ کے باوجود بحران حل نہیں ہو سکے گا۔ اس بات کا امکان ہے کہ عدالت کا بڑا فیصلہ معاشرے میں ایک اور نئی سیاسی تقسیم کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

جو لوگ یہ منطق دے رہے ہیں کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا ایک اور واحد راستہ نئے قومی انتخابات ہیں۔ کیونکہ ان کے بقول نیا سیاسی مینڈیٹ ہی مسائل کے حل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کی صورت تمام فریقین کی جانب سے متفقہ طور پر نئے انتخابات کو قبول کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ لیکن کیا واقعی نئے انتخابات ہمیں ایک بڑے سیاسی گرداب سے باہر نکال سکیں گے؟ کیونکہ سیاسی گرداب کا راستہ محض انتخابات نہیں بلکہ بڑا پیمانے پر سیاسی اصلاحات اور ایک ایسے سیاسی نظام کی طرف پیشرفت ہے جو ہماری داخلی سیاست سے جڑے مسائل کے مقابلے میں ایک متبادل بیانیہ سامنے لائے۔

سیاسی و معاشی سمیت داخلی و خارجی مسائل کو بنیاد بنا کر ہمیں ایک بڑے گرینڈ مکالمہ کی طرف بڑھنا ہے۔ اس کی مدد سے شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم کی سطح پر ٹھوس بنیادوں پر اتفاق رائے پر مبنی پالیسیاں درکار ہیں۔ یہ کام سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں بلکہ اس میں تمام فریقین کو شامل کرنا ہو گا تاکہ سب کا نقطہ نظر سامنے آ سکے گا؟ لیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں کون یہ مکالمہ کرسکے گا۔ ہمارا داخلی، علاقائی اور عالمی مسائل کی نوعیت کا فی پیچیدہ ہے۔

یہ کام روایتی اور مصنوعی تبدیلیوں سے بھی ممکن نہیں۔ ہمیں قومی سطح پر جن مسائل کو بنیاد بنا کر قوم کو یکجا کرنا اور ان کا حل سمیت عملدرآمد کے نظام کو یقینی بنانا تھا وہاں ہم حکومتوں کو گرانے اور بنانے کے ایجنڈے کا حصہ بن کر خود بھی اپنے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں اور ملک کو بھی مسائل کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ کھیل آگے جاکر بھی سیاسی و جمہوری عمل سمیت سیاسی نظام کے تسلسل میں مزید رکاوٹیں پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

ہمارے سیاسی نظام کو فریقین کی جانب سے جذباتیت کے مقابلے میں سیاسی رواداری، بردباری، فہم و فراست اور تدبر درکار ہے۔ سیاسی فکر یا سوچ کو اس بند گلی میں نہیں لے کر جانا جہاں سیاسی اختلافات کو سیاسی دشمنی یا سیاسی تعصب میں تبدیل کر دیا جائے۔ اسی طرح سیاست میں غداری اور ملک دشمنی کے سیاسی سرٹیفیکٹ کا کھیل بند ہونا چاہیے۔ سیاسی معاملات کو سیاسی بنیادوں پر ہی حل کر کے ہم پہلے سے موجود سیاسی گرداب سے باہر نکل سکیں گے۔

لیکن اس کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ سب فریقین کو کرنا ہو گا اور انا پرستی یا مفاد پرستی کی سیاست سے باہر نکل کر ہی اصلاح کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے اگر وہ راستہ بھی اختیار کرنا ہے اور اسی کا امکان بھی ہے تو پہلے اس بات کا تعین بھی ہونا چاہیے کہ کیا نئے انتخابات کے نتائج ہارنے والے قبول کر لیں گے۔ کیونکہ اس فکر سے باہر نکلنا ہو گا کہ اگر ہم جیت جائیں تو انتخابات شفاف اور ہار جائیں تو دھاندلی پر مبنی ہوتے ہیں۔ انتخابی اصلاحات خود ایک بڑا مسئلہ ہے مگر ہماری سیاسی جماعتوں کی یہ عمل ترجیحات کی درجہ بندی میں کمزور نظر آتا ہے۔

سیاسی فریقین سمیت ریاستی ادارے اس ملک پر رحم کریں کیونکہ جس انداز سے اس ملک کے سیاسی و ریاستی نظام کو چلایا جا رہا اس کی بنیاد پر ہم ایک مضبوط اور خود مختار پاکستان سمیت معاشی استحکام کے ایجنڈے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ ہم جو نیشنل سیکورٹی پالیسی کے تحت علاقائی سیاست میں جیو معیشت اور جیو رابطہ کاری میں جڑنا چاہتے ہیں اس کا بھی براہ راست تعلق ملک کی داخلی سیاسی استحکام سے ہے۔ یہ ہی سیاسی استحکام مضبوط معیشت کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔

سیاسی گرداب سے باہر نکلنے کا راستہ سیاست، جمہوریت اور قانون کے داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر ایک تبدیلی چاہتا ہے۔ اگر واقعی ہم نے اپنی سیاست اور جمہوریت کو ملکی و عوامی مفادات کے تابع کرنا ہے تو ہمیں پھر موجودہ نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنانا چاہیے۔ کیونکہ سیاست اور جمہوریت کے نام پر فریقین میں جو بڑے بڑے مافیاز بن گئے ہیں ان کو قانون و آئین کی حکمرانی کی مدد سے ہی کمزور کیا جاسکتا ہے۔

بنیادی بات تمام فریقین کو اپنے اپنے سیاسی و قانونی دائرہ کار تک محدود کرنا ہے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ کیونکہ جب تک ہم مسائل کے حل کے لیے درست سمت، مسائل کی بہتر نشاندہی، مرض کی درست تشخیص اور موثر حکمت عملی سمیت سیاست سے جڑے فریقین میں اچھے، سلجھے اور بہتر لوگ نہیں لائیں گے، یہ کھیل ختم نہیں ہو گا۔ سیاست دان ہوں یا اسٹیبلیشمنٹ یا قانون کے محافظ سمیت پالیسی ساز فرد سب کو یہ محسوس کرنا ہو گا کہ پاکستان ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔

اس غیر معمولی صورتحال سے نکلنے کے لیے روایتی طور طریقوں کی بجائے غیر معمولی اقدامات کی بنیاد پرہی آگے بڑھنا ہو گا۔ کیونکہ ہمارا مسئلہ روایتی سیاست و جمہوریت نہیں بلکہ اس کے مقابلے میں موجودہ فریم ورک میں رہتے ہوئے ایک متبادل بیانیہ کی ضرورت ہے۔ وہ بیانیہ جو پاکستان کو مستحکم کرسکے بالخصوص ہم جن حالات سے علاقائی سطح پر مختلف چیلنجز سے گزر رہے ہیں اس کا حل تلاش کرنا ہی درست حکمت عملی ہوگی۔

Facebook Comments HS