تحرِیکِ انصاف کی تین سال اور آٹھ ماہ کی حکومت
فواد چوہدری، فرخ حبیب، شہباز گل، شیخ رشید، بابراعوان جیسے اور میڈیا کے بعض خوشامدیوں نے عمران خان کو مروا دیا۔ انھوں عمران خان کو ہوا میں رکھا اور انھوں یہ باور کروائے رکھا کہ وہ ناقابل شکست ہیں۔ اور اب حکومت بھی ختم ہونے کو ہے اور تین سال آٹھ ماہ کے اندر حقیقی ساتھیوں سے دوری، پارٹی کے پرانے دوستوں، سیاسی اتحادیوں، میڈیا، بین الاقومی دوستوں، عدلیہ، حتٰی کہ سلیکٹرز سے بھی ایسے مشیروں نے خان کی لڑائی کروا دی۔
آج قوم سے آخری خطاب میں بھی شاید کچھ ریڈ لائنز کراس کروا دیں اور خان صاحب نے سیکرٹ ایکٹ کی شاید خلاف ورزی کر دی۔ عدم اعتماد آنے کے بعد وزیراعظم اگر آئین کی پاسداری کرتے اور میچور لیڈر کی طرح اسے فیس کرتے تو نہ ان پر آئین شکنی کا دھبہ لگتا اور نہ ہیانھیں تخیلاتی سازش کا بیانیہ گھڑنا پڑتا۔ عمران خان کے پاس اندازہً 140 سے زائد ارکان ہیں اتنی بڑی اپوزیشن کے ساتھ ایوان کے اندر اور باہر نئی آنے والی حکومت کا مقابلہ کریں، تو ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
شہنشاہ اکبر تاریخ میں اپنی اچھی حکومت کی وجہ سے زندہ ہے اور اس کی بڑی وجہ اس کے اچھے مشیر تھے۔ عمران خان کو بری کارکردگی، گرتی ہوئی معیشت، بدترین مہنگائی، بڑھتی بے روزگاری، بدامنی، عالمی تنہائی جیسے حالات میں عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں انھیں تین سال میں زیادہ تر پکی پکائی چیزیں ملتی رہیں۔ جب اپنے بل بوتے پر مقابلہ کرنا پڑا تو نتیجہسامنے ہے۔ اب ہوائی، جذباتی اور لفاظی پر مبنی ایجنڈا ہے اور عوام کے ایشوز اور کارکردگی کا ذکر بھی نہیں۔
اور مقابل میں سیاسی گھاگ ہیں جنھوں نے خان کو چاروں شانے چت کر دیا۔ کیا شیخ رشید، فواد چوہدری، شہباز گل، فیصل واوڈا، علی زیدی، اور دیگر عقاب صفت مشیر اس برے وقت میں کسی ایک اتحادی یا رکن اسمبلی عمران خان کے حق میں توڑ کر لائے ہیں؟ عمران خان کے مشیر کبھی بھی انھیں کامیاب نہیں کروا سکیں گے۔ جذباتی اور تخریبی ایجنڈے کی بجائے مثبت سیاست ہی عمران خان کو سیاسی میدان میں قائم رکھ سکتی ہے۔ حکومت سے باہر ہوتے ہی اپنے کئی مشیر بھی شاید انھیں چھوڑ جائیں۔ عمران خان مبالغے پر مبنی سیاست کی بجائے حقائق، سچائی اور عوامی مسائل کے ٹھوس ایجنڈے پر سیاست کر کے ہی سروائیو کر سکتے ہیں۔ فی الحال ان کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی اور رویہ بھی مایوس کن ہے اور بیرونی سازش کا واویلا وقتی موقف ہو سکتا مگر ٹھوس ایجنڈا نہیں۔


