کہہ دینا زرداری آیا تھا
سپریم کورٹ سے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیے جانے اور قومی اسمبلی کی بحالی کے بعد کسی منچلے نے فیس بک پر آصف علی زرداری کی تصویر پر مشتمل ایک پوسٹ لگائی تھی جس کا کیپشن بڑا معنی خیز تھا۔ ”کہہ دینا زرداری آیا تھا“ پانچ لفظوں پر مشتمل کیپشن وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کہانی بیان کرتا ہے۔ میں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار میں سینئر اخبار نویس اظہر سہیل مرحوم کی وساطت سے آصف علی زرداری کو راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب (جو اب نیشنل پریس کلب کہلاتا ہے) کے صدر کی حیثیت سے میٹ دی پریس پروگرام میں مدعو کیا۔ ہمارے درمیان تاریخ طے ہو رہی تھی کہ کہ کراچی میں بھٹو کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا جس کے باعث آصف علی زرداری میٹ دی پریس پروگرام میں نہ آ سکے۔
جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمہ کے بعد آصف علی زرداری کو بھی دھر لیا گیا اس کے بعد انہوں نے طویل عرصہ تک جیل میں گزارا۔ احتساب کورٹ میں پیشی کے دوران ان سے ہونے والی ملاقاتوں نے دوستی کی شکل اختیار کر لی یہ دوستی ہی تھی کہ انہوں نے مجھے اعجاز الحق کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کا نہ صرف ٹکٹ دینے کی پیش کش کی بلکہ انتخاب کے اخراجات برداشت کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
میں ان سے ملاقات سے گریز کرتا اور مجھے تلاش کرتے پھرتے ان کی خواہش تھی کہ جنرل ضیا الحق کا بیٹا کسی صورت انتخاب نہ جیتے۔ میرے انتخاب سے فرار کے بعد انہوں نے زمرد خان کو پارٹی ٹکٹ دے دیا۔ چونکہ میرا کبھی بھی پیپلز پارٹی کی طرف رجحان نہیں تھا۔ لہذا میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب نہیں لڑنا چاہتا تھا البتہ اس دوران آصف علی زرداری سے تعلقات میں اضافہ ہی ہوا۔ مجھے معلوم نہیں پیپلز پارٹی والوں نے ”ایک زرداری سب پہ بھاری“ نعرہ کب لگایا میں بھی کبھی اس نعرے کو اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن جس خوش اسلوبی سے آصف علی زرداری نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو منطقی انجام تک پہنچایا ہے، مجھے بھی اس بات کا اعتراف کرنا پڑا کہ ”اک زرداری سب پہ بھاری“
اگرچہ عمران خان کو مسند اقتدار سے نکالنے میں متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کا اپنا اپنا کردار ہے لیکن جس طرح آصف علی زرداری نے بکھری ہوئی اپوزیشن کو عمران خان کو اقتدار سے نکالنے کے ایک نکتہ پر اکٹھا کیا اس پر ان کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ جب عمران خان کو اقتدار کا سنگھاسن ڈولتا نظر آیا تو انہوں نے اپنا سب سے زیادہ غصہ آصف علی زرداری پر نکالا اور دھمکی دی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے بعد وہ انہیں چھوڑیں گے۔ وہ آصف علی زرداری کو کیا فکس اپ کرتے ان کے بچھائے جال میں ایسے پھنسے ہیں کہ ابھی تک پھڑ پھڑا رہے ہیں۔
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم سوری کی وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل آئین کے آرٹیکل ( 1 ) 5 کی آڑ لے کر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ملک و قوم کے خلاف مبینہ سازش تھیوری کی بنیاد پر عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کر کے ایک آئینی بحران پیدا کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 3 اپریل 2022 ء کی ڈپٹی سپیکر کی رولنگ اور صدر عارف علوی کی جانب سے عمران خان کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کا تاریخی متفقہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے سپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔ جس کے بعد کابینہ 3 اپریل 2022 ء کی حیثیت سے بحال ہو گئی ہے۔
عمران خان کلین بولڈ ہو گئے۔ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے بعد کیے جانے والے تمام اقدامات غیرآئینی قرار دے دیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے ڈپٹی سپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وزیراعظم صدر کو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس نہیں دے سکتے تھے۔ تحریک عدم اعتماد کی کارروائی جاری رکھی جائے، کامیابی کی صورت میں نئے قائد ایوان کے انتخاب تک اجلاس ملتوی نہ کیا جائے، ووٹنگ والے دن کسی رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے نہ روکا جائے، سپریم کورٹ نے صدر کے نگران حکومت کے لئے احکامات بھی کالعدم قرار دے دیے
دلچسپ امر یہ ہے کہ اٹارنی جنرل نے سپیکر رولنگ کا دفاع کرنے سے معذرت کرلی۔ سپریم کورٹ کے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ نے جہاں سپیکر کو تحریک عدم اعتماد نمٹانے کے لئے گائیڈ لائن دی ہے وہاں پورا سیاسی منظر تبدیل کر دیا ہے۔ عمران خان کی جماعت جو کل تک جشن منا رہی تھے۔ میں صف ماتم بچھ گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ سپیکر نے 25 مارچ 2022 ء کو آرٹیکل 54 ( 1 ) کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اس اجلاس کی منسوخی کا کوئی بھی حکم کسی بھی قسم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا اور اس حوالے سے سپیکر کے تمام تر احکامات کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کی صورت میں یہی حکومت کام کرتی رہے گی جب کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں اسی اجلاس کے دوران ہی فوری طور پر نئے وزیراعظم کا انتخاب ہو گا۔ متحدہ اپوزیشن پہلے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا چکی تھی۔ اب ڈپٹی سپیکر محمد قاسم سوری کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرا کر سپیکر آفس کو اپوزیشن کے خلاف استعمال ہونے سے روک دیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے تاحال شکست تسلیم نہیں کی قوم سے خطاب کے دوران انہوں نے قوم اور نوجوانوں کو ”امپورٹڈ اور بیرونی سازش سے لائی جانے والی حکومت“ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور پر امن احتجاج کی کال دی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملک پر کسی قسم کی امپورٹڈ حکومت مسلط نہیں ہونے دی جائے گی اور نہ ہی ایسی کوئی حکومت تسلیم کی جائے گی۔ اپنی خود مختاری اور آزادی کی حفاظت کریں گے۔ عمران کا اقتدار سے نکالے جانے کے بعد نیا بیانیہ جو وہ سیاسی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی کوشش کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک سانس میں ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے تو دوسری سانس سپریم کورٹ کی عزت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
مسلم لیگ (ن ) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پورے پاکستان اور 22 کروڑ عوام کی دعائیں اللہ نے قبول کی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ایک ایسا فیصلہ دیا ہے جس سے نہ صرف پاکستان کا آئین بچ گیا ہے بلکہ پاکستان بھی محفوظ ہو گیا ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا ہے کہ پوری قوم کی فتح ہے۔ آئین پاکستان کی فتح ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ کوئی اس اقتدار جاتا دیکھ کر پاگل ہو جانے والے شخص کو بتائے کہ اس کو کسی اور نے نہیں، اس کی اپنی جماعت نے باہر نکالا۔
وزیر اعظم عمران خان کی شکست کی بنیادی وجہ یہ ہے۔ ان کے طرز عمل نے نہ صرف اپوزیشن کو متحد کیا بلکہ اپنی جماعت کے ارکان کو خود چابک مار مار کر بغاوت پر آمادہ کیا عمران خان کی میدان سیاست میں شکست کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپوزیشن کی یلغار کی شدت کا اندازہ ہی نہیں کر سکے۔ ایک سیاست دان جب اپنی کشتی ڈوبتی دیکھتا ہے تو وہ ان کی مدد لینے میں عار محسوس نہیں کرتا جن سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ عمران خان کی شکست کی ایک وجہ ان کا تکبر اور فسطائیت ہے جس جماعت کے 25 سے زائد ارکان اپنے نشستیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں آخر اس کی کوئی وجہ تو ہے۔
راتوں رات ان کی جماعت میں بغاوت نہیں ہوئی ناراض ارکان پچھلے پونے چار سال سے موقع کی تلاش میں تھے جوں ہی تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ناراض ارکان نے اپنے بلوں سے نکل کر سندھ ہاؤس میں پناہ لے لی۔ اتحادی جماعتوں کے الگ ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ عمران خان اپنے رویے سے ان کو اپنے دور کرتے رہے ان کو اس بات کا اندازہ ہی تھا کہ ان کا آشیانہ شاخ نازک پر بنا ہوا ہے اور آٹھ دس ارکان کی بغاوت سے ان کا آشیانہ زمین بوس ہو جائے گا۔ ان کا پالا نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمنٰ جیسے سیاست دانوں سے پڑا ہے جنہوں نے محض اپنی سیاسی حکمت عملی سے عمران خان کو ڈھیر کر دیا۔

