اور تلوار ٹوٹ گئی: ٹویٹو سلطان کا آخری معرکہ


دشمن کے بھاری لشکر نے سلطان کے پایہ تخت کا محاصرہ کر لیا۔ ساڑھے تین برس قبل سلطان نے اس دشمن کو عبرتناک شکست دی تھی۔ اس جنگ میں عام شہریوں کی حمایت تو سلطان کو حاصل تھی ہی مگر غیر مرئی قوتوں نے بھی اس کے دشمن کو باندھ دیا تھا۔ بلکہ باندھا کیا تھا، ان میں سے بہت سے سرداروں کا کا قلب ایسا پلٹا تھا کہ وہ سلطان کے لشکر میں شامل ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ ارد گرد کے چھوٹے چھوٹے رجواڑے بھی سلطان کے جھنڈے تلے جمع کر دیے گئے تھے۔ لیکن اب حالات تبدیل ہو چکے تھے۔

دشمن نے دیکھا کہ وہ کھلے میدان میں بہادر سلطان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس نے اب چالیں چلنا شروع کر دیں۔ پہلے تو اس نے روحانی وار کیا۔ وہ تمام غیر مرئی قوتیں جو سلطان کی اصل طاقت تھیں، اس نے بے اثر کر دیں اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ سلطان کی مدد کرنے سے انکاری ہو گئیں۔ یوں وہ سردار جو روحانی اثر کے تحت سلطان کے لشکر میں شامل ہوئے تھے ان پر سے نور کا سایہ ہٹ گیا اور ان کا دل ایسا پلٹا کہ ان میں سے بہت سے سلطان کے احکامات ماننے سے انکاری ہوئے اور غنیم سے مل گئے۔

اس کے بعد غنیم نے سنہرا جال بچھا دیا۔ وہ رجواڑے جو بلند آہنگ سلطان کے ساتھ کھڑے تھے، ان کی اکثریت سلطان کو چھوڑ کر غنیم سے مل گئی۔ رفتہ رفتہ یہ حالت ہوئی کہ سلطان کا لشکر دشمن کے لشکر سے بہت چھوٹا پڑ گیا۔ اب کھلے میدان میں مقابلہ کرنا آسان نہیں رہا تھا کیونکہ سلطان کی تمام تر بہادری کے باوجود شکست سامنے دکھائی دے رہی تھی۔

سلطان قلعہ بند ہو گیا اور دشمن کا کھلے میدان میں مقابلہ کرنے سے کترانے لگا۔ اس کے فوجی شہر پناہ پر پہرہ دینے لگے۔ گو دشمن نے ایسا سخت محاصرہ کر رکھا تھا کہ چوہے کا بھی شہر سے نکلنا ممکن نہ تھا مگر سلطان کے پاس ایسے شہباز موجود تھے جو گل کھلانے میں کوئی وقت نہیں لگاتے تھے۔ یوں سلطان نے ایسے دلیر کو بھیج کر رعایا کو اپنی مدد کے لیے بلانے کی کوشش کی۔ مگر بدقسمتی سے رعایا نے بھی سلطان کو اس آفت کی گھڑی میں تنہا چھوڑ دیا۔ سلطان نے بیس لاکھ لوگوں کو بلایا تھا مگر صرف چالیس ہزار میدان میں آئے۔

سلطان نے گنتی کی ذمہ داری ایک ایسے سردار کے ذمے لگائی جس کا قول وہ فیصل سمجھتا تھا۔ اس نے سلطان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان چالیس ہزار کو گننے میں ایسا کمال دکھایا کہ وہ چالیس ہزار بھی پچیس لاکھ قرار پائے۔

پچیس لاکھ افراد کو یوں اپنے ساتھ پا کر سلطان کا دل کچھ بڑھا۔ لیکن اب تک غنیم شہر پناہ توڑ کر اندر قلعے کی دیواروں تک پہنچ چکا تھا اور اس کے دروازے توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ غنیم بار بار دعوت مبارزت دے رہا تھا مگر دانشمند سلطان نہایت چالاکی سے اسے تھکانے کے منصوبے پر کام کر رہا تھا۔ وہ دشمن سے مقابلے کا وقت طے کرتا، دشمن پہنچ کر انتظار کرتا رہتا مگر سلطان مقابلے کے لیے وہاں پہنچتا ہی نہ۔ یوں دشمن پر اس کی بے مثال بہادری کا سکہ جم گیا۔ وہ جان گیا کہ کھلے میدان میں سلطان کا مقابلہ کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ بہادر سلطان وہاں آتا ہی نہیں۔

پھر ایسا وقت آیا کہ قلعے کا دروازہ غنیم نے ایک نئے ہتھیار سے توڑ دیا۔ قلعے کی گلیوں میں غنیم کے سپاہی داخل ہو گئے۔ اب یا تو مقابلہ کرنے کا وقت تھا یا ہتھیار ڈالنے کا۔ سلطان کا خادم خاص دوڑتا ہوا آیا۔

”سلطان۔ دشمن سر پر آن پہنچا۔ اب کیا حکم ہے؟“

”میں کسی سے نہیں ڈرتا۔ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ ہماری شاہی سواری تیار کرنے کا حکم جاری کرو“ ۔ ٹویٹو سلطان نے تلوار کے جڑاؤ قبضے پر ہاتھ رکھتے ہوئے حکم دیا۔ تلوار میں جڑے سرخ جواہرات سے گویا خون پھوٹ رہا تھا۔ ”اور توشہ خانے میں اس کے ساتھ کا خنجر ہو تو وہ بھی لیتے آنا۔ اور توشہ خانے سے گھڑی بھی لیتے آنا۔ جنگ میں وقت کا خیال رکھنا لازم ہے تاکہ فوجی دستوں کا تال میل برقرار رہے۔ اس گھڑی کی قیمت کتنے کروڑ روپے تھی؟“

”ننانوے کروڑ تھی سلطان۔ جڑاؤ تھی اور خاص شہزادے کے لیے بنائی گئی تھی۔ آپ کے بڑے بڑے سردار دشمن سے مل گئے ہیں۔ دشمن کی تعداد کثیر ہے۔ آپ اکیلے رہ گئے ہیں۔“

بہادر سلطان نے پرعزم انداز میں سر اٹھایا اور نہایت دلیری سے بولا ”اب یہ آخری جنگ ہے۔ یہ ہمیں لڑنی ہی ہو گی۔ ہم تاریخ میں بزدل کے طور پر یاد نہیں رکھا جانا چاہتے۔“

وفادار خادم گڑگڑایا ”سلطان باہر مت جائیں۔ باہر بہت خطرہ ہے۔ باغی ہر طرف دندناتے پھر رہے ہیں۔“

پرعزم سلطان نے ایک سچے سورما کی طرح دبنگ آواز میں کہا ”ہم باہر نہ جائیں تو کیا اس وحشیوں بھرے جنگل میں بزدلوں کی طرح پڑے اپنے خاتمے کا انتظار کریں؟ ہم آخری سانس تک دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ ایسی چال چلیں گے کہ وہ بے بسی سے ہاتھ ملتا رہ جائے گا اور مدتوں اس ہزیمت کو یاد رکھے گا۔ چیک کرو کہ ہمارا شاہی ہیلی کاپٹر تیار ہے اور ائرپورٹ پر لندن کا ٹکٹ کنفرم ہو چکا ہے یا نہیں۔“

راوی کہتے ہیں کہ سلطان کے اس آخری معرکے کے بعد اس کے دشمن شدید خفیف ہوئے، وہ اسے تلاش کرتے رہ گئے مگر اسے پکڑ نہ پائے۔ دشمن یہی سمجھتا رہا کہ وہ میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرے گا مگر دشمن کو یوں غلط فہمی میں مبتلا کر کے وہ اس نے خود کو سیاست کا نہیں بلکہ اقلیم ٹویٹ کا فاتح ثابت کیا جو محض غیر مرئی قوتوں کے بل پر ہی سلطانی کرتا تھا۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Comments are closed.