ایک تھا عمران


ذلت آمیز اور رسوا کن انداز میں وہ بالآخر خالص جمہوری اور عدالتی عمل کے ذریعے ناجائز اقتدار سے نکال دیے گئے۔ وارداتیں کرنے اور ملک کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد چور دروازے یعنی غیر آئینی راستے سے نکل کر حکومت اور پارلیمان سے بھاگنے لگا تھا لیکن سپریم کورٹ نے کمال دانائی اور جرات کے ساتھ پکڑ کر ”سزا و جزا“ کے لئے عوام اور پارلیمان کے سامنے پھینک دیا۔

تیزی کے ساتھ بدلتے ہوئے منظر نامے میں کالم مجھے عجلت میں لکھنا پڑا لیکن کون سا مشکل تھا؟ کیونکہ تباہیاں بانٹتے اس شخص (عمران خان ) کی کہانی سامنے پڑی ہے۔

دو ہزار گیارہ میں ”مخصوص ضرورتوں“ کے پیش نظر پندرہ سال سے مسلسل سیاسی ناکامیوں کے سبب ہوئے چڑچڑے پن کے شکار اس آدمی کو میڈیائی مسخروں اور ثاقب نثار ٹائپ اداکاروں کے ذریعے بانس پر چڑھا نے اور جمہوری قوتوں کو گرانے کا عمل شروع ہوا تو یہ خاکسار پہلا لکھاری تھا جو روز اول سے چیختا رہا کہ اس بدنصیب قوم کو اب کے بار کہیں زیادہ گہری اور خوفناک گھاٹی میں گرانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

ان دنوں مخالفت میں لکھنا نہ صرف عمران خان کے طاقتور ”سپانسرز“ کے ساتھ دشمنی مول لینی تھی بلکہ ماں بہن کی گالیوں اور الزام و دشنام کے ساتھ ساتھ قلم کی مزدوری سے بھی محروم ہونا تھا۔

لیکن اللہ تعالی کا شکر ہے کہ یہ سب مشکلات ایک حوصلے کے ساتھ سہ بھی لیں اور برداشت بھی کیں تاہم بعض دوسرے صحافیوں کی مانند اپنے ان مشکلات کے ذکر سے ہمیشہ اس لئے گریز کیا کیونکہ شہرت سمیٹنے اور ہیرو بننے کی بجائے ہمیشہ کام کرنے کو ترجیح دیتا ہوں سو وہی کرتا رہا۔

بھر حال دو ہزار اٹھارہ کے فتنہ انگیز انتخابات کے بعد تاریخ کے چند انتہائی نا اہل، بد زبان اور مکار حکمرانوں میں سے ایک اور کا اضافہ ہوا اور عمران خان نے غلط اور تضحیک آمیز انداز میں حلف اٹھا کر اس ملک کی تباہی اور اپنی وزارت عظمی کا آغاز ایک ساتھ کیا۔

آب پیچھے مڑ کر اس عہد برباد پر نگاہ کر لیجیے جس کے ساڑھے تین سال کے عرصے میں کسی ایک دن کی بھی ایسی کوئی شہادت دستیاب نہیں جس کے بطن سے کوئی معاشی تباہی کوئی جمہوری بیخ کنی کسی کشمیر کی غرقابی کوئی خوفناک مہنگائی کسی ڈالر کی بلندی کوئی میڈیائی ڈرامہ بازی کسی گالم گلوچ کی فراوانی کوئی نیب گردی کوئی پیکا قانون سازی اور قدم قدم پر ناکامی کے علاوہ کوئی خوشخبری یا کامیابی برآمد ہوئی ہو۔

قدرے تلخ اور جذباتی ہی سہی لیکن بولنے دیں کہ یہ شخص (عمران خان ) اتنا مکار تھا کہ

عوام تاریخ کی بد ترین مہنگائی سے بلبلانے لگتے تو یہ ”گھبرانا نہیں“ کا نسخہ تجویز کرتا۔ کشمیر ڈوب جاتا تو تین منٹ کی خاموشی میں کشمیر کی آزادی ڈھونڈنے لگتا۔ ریاست مدینہ کی مثال دیتا لیکن کوفے کی تاریخ دہراتا رہتا۔

دو نہیں ایک پاکستان کی گردان میں لگا رہتا لیکن پرویز مشرف سے عاصم باجوہ اور علیمہ خان سے زلفی بخاری بلکہ اب تو ان سے بھی چند قدم آگے فرح گوگی تک جیسے لوگوں کا سہولت کار بننے اور انہیں بچانے پر مامور رہتا۔

کرپشن کے خلاف جہاد کے نعرے لگاتا لیکن عامر کیانی کے میڈیسن گھپلوں سے رزاق داؤد کے ٹھیکوں اور رنگ روڈ سکینڈل سے آٹا چینی تک موصوف کھلے عام ہر کرپٹ کا دست و بازو بنا رہتا۔

پارٹی کے نام میں بھی انصاف کا لفظ گھسیڑ دیا اور صبح و شام انصاف کا ڈول بھی پیٹتا رہا لیکن انصاف کرنے کا موقع آتا تو کسی عام مظلوم تو کیا انصاف پسند اور دلیر منصفوں تک کے خلاف کھڑا ہو جاتا۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ مرحوم کا دلیر اور تاریخی فیصلہ تو کیا پوری عدالت تک کو اڑانے میں ایک بد عہد سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ محترم ججز جسٹس فائز عیسی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈکٹیشن لینے کی بجائے انصاف کا ترازو تھاما تو سوشل میڈیا پر ایک سفاک لشکر ان پر پل پڑا لیکن اس لشکر کا ”بروٹس“ بھی یہی شخص (عمران خان ) ہی ثابت ہوا۔

جلسوں اور تقریروں میں پہلے اخلاقیات پر لیکچر دیتا اور پھر اپنے ہر مخالف کی عزت اچھالتے اچھالتے گھر کی دہلیز تک پہنچ جاتا۔ مخالفین کے نام بگاڑنا سٹیج پر نقلیں اتارنا اور جنسی حوالے سے فقرے کسنا تو معمولی بات ہے بچوں اور خواتین تک حتی کہ جاں بلب مریضوں اور لحد میں اترے ہوئے لوگوں کو بھی بخشنے سے انکاری تھا۔ قمیض کی دو موریوں سے احمقوں کو مزید احمق بناتا لیکن ساڑھے تین سو کنال کے بنی گالہ محل میں صرف ”ارب پتی کلب“ کے ممبران ہی داخل ہو سکتے تھے۔

قوم کو خودداری کا سبق پڑھاتا لیکن خود ہمیشہ طاقتور اور امیر لوگوں سے مرعوبیت کی انتہا کو چھوتا ہوا دکھائی دیا۔ خودداری ایسی کہ سعودی عرب جیسے ملک کے حکم پر ملائیشیا کانفرنس کے لئے محو پرواز جہاز کا رخ واپس پاکستان کی طرف موڑ دیا۔

شخصیت کی مضبوطی کی تبلیغ کرتا رہا لیکن معمولی سا دباؤ آتے ہی نفسیاتی مریض کی مانند یا تو خوشامدی بن جاتا یا گالم گلوچ پر اتر آتا۔ امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کے فون کالز کا بے ثمر انتظار ایک الگ شرمندگی تھی۔

مغرب کی مثالیں دیتا لیکن عملی طور پر کسی نیم وحشی قبیلے کے سردار کا رویہ ہوتا۔ دوسروں پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے سر عام الزامات لگاتا رہتا لیکن خود اپنی سابقہ اہلیہ ریحام خان کی تحریری شہادت (کتاب ) کے ذکر پر بھی بھڑک اٹھتا۔ قوم بنانے کے دعوے کرتا لیکن قوم کو بھکاری بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

خود کو ٹیم بنانے کا ماہر کہتا لیکن اسد عمر اور حفیظ پاشا کے ذریعے معیشت فواد چودھری شیخ رشید اور شہباز گل کے ذریعے اخلاقیات حماد اظہر سے توانائی عامر کیانی سے صحت بزدار سے پنجاب اور شہزاد اکبر سے قانون کو ”ٹھیک کرنے“ کے کام لیتا رہا۔

سول سروسز میں اصلاحات اور شفافیت کے ساتھ ساتھ اچھی شہرت کے حامل افسروں کو آگے لانے کے دعوے کرتا رہا لیکن حالت یہ تھی کہ سیکرٹریٹ گروپ کے عباس خان کو ایک انتظامی عہدے پر لے کر آیا۔ کبھی صرف اس ”عجوبے“ کے کارنامے عدالت میں ثابت ہو گئے تو عمران خان کی گڈ گورننس اور سول سروسز میں اصلاحات کا بھید کھلنے کے لئے یہی کافی ہو گا۔

عمران خان کا ہنر یہ بھی تھا کہ جو جو واردات وہ خود یا اس کے ”پارٹنرز“ کرتے انہیں اپنے مخالفین کے سر تھوپنے کے لئے فوراً کسی جلسے یا تقریر کا اہتمام کرتے جہاں خود کو صاف شفاف اور دوسروں کو گندا ثابت کرنے کے لئے حماقت و جہالت کے سامنے کمال کی ایکٹنگ بلکہ اوور ایکٹنگ کرتے ہوئے اپنے بے شعور اور جذباتی پیروکاروں کو مخالفین کے پیچھے لگا دیتے۔

ذاتی طور پر خود اتنے ایماندار تھے کہ توشہ خانے کے تحائف تک اڑا دینے سے فارن فنڈنگ تک ہر جگہ ہاتھ مارتا رہا۔ اپنے کارکنوں کو سیاسی شعور دینے کے دعویدار تھے لیکن ”پولیس مارے گی تو انقلاب کیسے آئے گا“ اور ننگی دشنام طرازی جیسا ”شعور“ دیا۔ شفافیت اور احتساب کا ڈھنڈورا پیٹتا رہا لیکن اپنے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں سات سال سے سٹے پر سٹے لیتے ہوئے خود کو احتساب سے بچاتا رہا۔

ہر جگہ کہتا پھرتا کہ مجھے اقتدار کی کوئی خواہش نہیں لیکن اسی اقتدار کی خاطر نہ صرف اسی پرویز الہی کی دہلیز پر بیٹھا رہا جسے پنجاب کا سبب سے بڑا ڈاکو کہتا بلکہ آسی ایم کیو ایم کے تر لے کرنے لگا جنہیں قاتل اور دہشت گرد کہتا رہا۔

آئین سے انحراف اور ڈرامہ بازی پر تو معزز سپریم کورٹ کی مہر لگ چکی۔ آخری دنوں میں اقتدار ہاتھ سے جاتا دیکھ کر ایک نفسیاتی مریض کا روپ دھار گیا۔ کبھی اپنے ”محسنوں“ کو جانور کہتا اور پھر منت سماجت بھی کرنے لگتا۔ کبھی اپنے منحرف ممبران اسمبلی کو کرپٹ اور بد دیانت کہنے کے بعد کبھی بچوں کو سکولوں میں ہراساں کرنے تو کبھی بچوں کے لئے رشتے نہ آنے کی دھمکیاں دیتا اور پھر کہتا کہ پارٹی میں واپس آ جائیں۔ کبھی اپنے سیاسی مخالفین کو بھرے جلسوں میں گالیاں دیتا ہوا آپے سے باہر ہو جاتا۔ اور آج بالآخر یہ عہد اذیت اپنی تباہیوں بے شرمیوں اور ناکامیوں سمیت اپنی اختتام کو پہنچی۔

لیکن دوران اقتدار حد درجہ نا اہل اس اذیت پسند اور منتقم مزاج شخص نے اس بدنصیب ملک کی آئین و قانون جمہوریت معیشت سیاست تہذیب اور اداروں کے ساتھ جو کیا سو کیا لیکن المیہ ملاحظہ ہو کہ ایک کم عمر اور ناتجربہ کار نسل کو بھی اس مقام پر لے آیا کہ خلق خدا کے لئے وہ حماقت اور بے بصیرتی کا ایک استہزائی اور قابل رحم استعارہ بن گئے ہیں۔

اب جبکہ قوم کو اس آدمی سے چھٹکارا مل چکا جو صرف اپنے اقتدار کے لئے جھوٹ دروغ گوئی الزام و دشنام اور گالم گلوچ سے مسلسل کام لیتا اور ملک کا بیڑہ غرق کرتا رہا لیکن اس کے ساتھ ہی تمام سیاسی جماعتوں اور مقتدر قوتوں کا اصل امتحان بھی شروع ہوا کیونکہ اس بدبخت ملک کو عمران خان ہر حوالے سے ایک ملبے میں تبدیل کر چکا ہے اور اس ملبے پر کھڑے ہو کر نئے آنے والوں کو صرف اپنے اقتدار کا علم لہرانا نہیں بلکہ اس کی تعمیر نو اور ترقی بھی ان کی ذمہ داری ہے۔

اگر وہ اس توقع پر پورا اتریں تو ہم ساتھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن خدا نخواستہ ایسا نہ ہوا تو پھر وہ جانیں اور ان کا اقتدار۔ ہمارا قلم تو ہمارے ہی ہاتھ میں رہے گا۔

Facebook Comments HS