وزیراعظم کی کرسی پر آسیب کا سایہ ہے


اس کرسی پر کیا کوئی آسیب کا سایہ ہے یا کوئی بددعا ہے یا پھر کوئی بری نظر ہے، کیا ہے آخر اس کرسی پر جو بھی اس کرسی تک پہنچا اپنی مراد کو نہ پہنچا۔ کوئی پھانسی لگ گیا کوئی قتل ہو گیا کوئی غداری کے تمغے سجائے جلاوطن ٹھہرا تو کوئی بظاہر آئینی طریقے سے گھر بھیجا گیا۔ کیوں پاکستان کا کوئی وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پاتا؟

کیا ہوجاتا ہے اس کرسی تک پہنچنے کے لیے تو ہر حربہ ہر منت ہر مصلحت ہر مفاہمت کرلی جاتی ہے۔ اس کرسی کے لیے ان کی نظر کرم حاصل کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جاتا جن کو آج نیوٹرل کہا جا رہا ہے۔ یہ کرسی کس قدر دل فریب ہے اس کا نشہ ایسا کہ کوئی دوا کام نہ کرے اور اس کا کاٹا ایسا کہ کوئی پانی بھی نہ مانگے۔

لیکن کیا عجب ستم ہے اس کرسی پر بیٹھنے والا اپنے آپ کو عقل کل سمجھ لیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جو کچھ ہے بس اس کی موجودگی کی وجہ سے ہے وہ نہیں ہو تو سب کچھ ختم ہے اور یہ گمان کہ میں جو چاہوں فیصلہ کرلوں جسے چاہے انتقام کا نشانہ بنا لوں اور جسے چاہے گھر بھیج دوں۔

اس کرسی پر بیٹھنے والا اپنی بینائی کھو دیتا ہے اور سننے کی صلاحیت بھی۔ نہ اسے ماڈل ٹاؤن میں بے گناہ گولیاں کھانے والے دکھائی دیتے نہ در در انصاف مانگتے لاپتہ افراد کے گھر والوں کی آہیں سنائی دیتی ہیں نہ ہی تڑپ ٹرپ کر جان دیتے بے گناہ مشعل خان نظر آتے۔ نہ ہی ساہیوال کے معصوم بچوں کی خون بھری فیڈر دکھائی دیتی نہ ہی سخت سردی میں کھلے آسمان تلے لاشوں کے ساتھ بیٹھے تڑپتے سسکتے مظلوم نظر آتے ہیں۔ نہ ہی وہ جوان مظلوم بیوہ نظر آتی ہے جو کسی ظالم قاتل وڈیرے کے خوف سے اپنے شوہر کا خون معاف کر دیتی ہے۔

یہ پاکستان کی اقتدار کی کرسی ہے اس پر بیٹھنے والے پر جب وہ نظر مہربان ہو جاتی ہے تو پھر بٹھایا تو بہت ارمانوں کے ساتھ ہے لیکن وہ نظر کسی ایک پر مہربان نہیں۔ جب خفا ہو جائے تو اس کرسی سے ایسے گراتی ہے کہ گرنے والے کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور گرنے والا بس بے بسی سے یہی پوچھتا نظر آتا ہے بتاؤ مجھے کیوں نکالا۔

عمران خان ایک پوسٹر بوائے جس کے کریڈٹ پر کرکٹ ورلڈ کپ اور کینسر ہسپتال جیسا کارنامہ ہے۔ پھر ہینڈسم بھی اور ایک ایسے لیڈر کے طور پر سامنے لایا گیا جس نے یہ نعرہ لگایا کہ وہ کرپشن کو ختم کر دے گا، ملک کو چور ڈاکوؤں سے نجات دلائے گا اور ہاں ایسی ریاست کی بنیاد رکھے گا جس کی بنیاد ریاست مدینہ کے اصولوں پر ہی ہوگی۔

موروثی سیاست کا خاتمہ کرنے کا وعدہ کیا۔ ملک کے جوانوں کو اپنی طاقت قرار دیا۔ دھرنے کے دنوں میں للکار للکار کر وہ نواز شریف کی حکومت کو اس کے کردہ ناکردہ گناہ یاد دلاتے تھے اور جب وہ اقتدار میں آئے تو ان سے بہت امیدیں تھیں۔ کم از کم یہ امید تھی کہ وہ احتساب کے لیے کچھ ایسی اصلاحات لائیں گے جن سے کم از کم احتساب کا عمل شفاف ہو جائے گا مگر انہوں نے تو وہی کیا جو اس کرسی پر بیٹھنے والے کی تاریخ رہی۔

ان کو نہ اپنا کوئی وعدہ یاد رہا نہ کوئی دعوی بس یاد رہا تو یہ کہ وہ ہیں اور بس وہی ہیں۔ اس گھمنڈ میں کہ سب ایک پیج پر ہیں، اس زعم میں کہ مجھ سے زیادہ کون ناگزیر وہ غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے گئے۔ ایک کروڑ نوکریاں پچاس لاکھ گھر تو نہ مل سے ہاں جو مل گیا وہ احساس پروگرام کے نام پر ہاتھ میں بھیک کا پیالہ۔ شہزاد اکبر جیسے شخص کے حوالے انہوں نے احتساب کا عمل پکڑا دیا جس کا مقصد انتقام ہی رہا اور ایک بھی کرپشن کیس اپنے مخالفین پر ثابت نہ کرسکے۔ الٹا شہزاد اکبر ”گلاس توڑا بارہ آنے“ کر کے چلتے بنے۔

وہ کہتے تھے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا، خودکشی کر لوں گا، مگر ان کی معاشی ٹیم آئی ایم ایف کے قدموں میں بیٹھی رہی۔ انہوں نے تو اس حکومت کو کرکٹ کا کھیل سمجھ لیا بزدار جیسے کمزور شخص کو وزیراعلی پنجاب لگا کر سمجھا سب کچھ میرے ہاتھ میں رہے گا۔ لیکن سب کچھ کیسے ہاتھ سے نکل گیا یہ ان کو سمجھتے سمجھتے اب بہت وقت لگ جائے گا۔ ان کو مقتدر حلقوں کی محبت اور حمایت بغیر کسی شراکت کے ملی اور سب نے دیکھا کہ واقعی سب ایک پیج پر ہیں۔ ان کو یہ حمایت ملی رہی تو ان کو لگا کہ یہی ان کی سب سے بڑی قوت ہے۔ اسی زعم میں انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹی فکیشن پر جو تماشا لگایا وہ ساری دنیا نے دیکھا اور ان کو پتہ بھی نہیں چلا کہ کب خاموشی سے وہ نظر ان سے خفا ہو گئی۔

ان کے ہمدرد ان کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے بتانے کی کوشش کرتے رہے لیکن یہ اس کرسی کا سراب ہے جو بس وہی دکھاتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ یہ دیکھ ہی نہیں سکے کہ ان سے ناراض ہو ہو کر کتنے لوگ ان سے کنارہ کشی کر رہے ہیں۔ ان میں ان کے بہت ہی اپنے ترین اور علیم خان جیسے لوگ بھی تھے۔

ان کو پتہ ہی نہیں چلا وہ اتحادی جن کی وجہ سے ان کا یہ اقتدار بیساکھیوں ہر کھڑا تھا کب ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ وہ تو بس اپوزیشن کے ساتھ بدزبانی میں مصروف رہے۔

تحریک عدم اعتماد ان کے سر پر تلوار کی طرح لٹک گئی مگر بجائے اس کے وہ ہوش مندی سے فیصلے کرتے انہوں نے پھر تماشا لگانا مناسب سمجھا اور ایسا تماشا لگایا کہ تاریخ یاد رکھے گی۔

انہوں نے اس ملک کی خارجہ پالیسی کو داؤ پر لگا دیا۔ ایک مبینہ خط پر اپنا پورا بیانیہ تیار کر لیا؛ ان کو لگا کہ وہ جس کو چاہے غدار ٹھہرا دیں گے اور کوئی کچھ نہیں کہے گا نہ سوال کرے گا، جو وہ کہہ رہے وہی درست ہو گا۔ آئین سے ایسا کھلواڑ کیا کہ حیران پریشان عدلیہ کو نوٹس لینا پڑ گیا۔ اس دوران ملک کی معیشت کا کیا حال ہوا ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ اس کرسی کا عشق ہی ایسا کہ بیٹھنے والا اترنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا۔ بھول جاتا کہ جب اس کی باری ختم ہوگی تو اس کو اٹھنا ہی پڑے گا۔

نو اپریل کو سارا دن اسمبلی میں تماشا لگا رہا حتی کہ یہ نوبت آ گئی کہ لگا اس ملک میں پھر ایمرجنسی لگنے والی ہے۔ سارا دن آدھی رات کے ڈرامے کے بعد وزیراعظم عمران خان اس ملک کے وزیراعظم نہیں رہے۔ وہ اپنی اکثریت کھو چکے تھے مگر اب بھی ماننے کو تیار نہیں کہ اس کرسی سے اترنے میں ان کی اپنی غلطیوں کا کتنا بڑا ہاتھ ہے۔

سارا دن ٹی وی دیکھتے اور خبریں وصول کرتے کوئی خوشی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ دکھ ہو رہا تھا کہ پڑوسی ملک میں پاکستانی سیاسی ہل چل ہیڈلائن میں چل رہی ہے۔ دکھ ہو رہا تھا ایک بار پھر تماشا بن گیا۔ عدلیہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان سب ہی کا مذاق بن گیا۔ یہی اقتدار کی منتقلی وقار کے ساتھ بھی ہو سکتی تھی یہ گلہ خان صاحب سے رہے گا۔

لیکن یہ دکھ سب سے بھاری رہے گا کہ ایک بار پھر پاکستان کا منتخب وزیراعظم اپنی آئینی مدت نہیں پوری کر سکا۔ قصور منتخب یا سیلیکٹڈ وزیراعظم کا بھی نہیں، قصور تو اس کرسی کا ہی ہے جس پر سچ میں آسیب کا سایہ ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “وزیراعظم کی کرسی پر آسیب کا سایہ ہے

  • 10/04/2022 at 2:08 شام
    Permalink

    bihtreen tahreer good job

Comments are closed.