بچپن میں ایک بار میرے گھر کے کونے پر ایک بلی اپنے پیدا ہوئے بچوں کے ساتھ دبکی رہتی تھی پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی جب وہ ذرا ادھر ادھر ہوئی اس میں سے ایک بہت پیارا والا بلی کا بچہ میں اٹھا کر گھر لے آئی۔
اب سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں اس کو میں نے گھر کے اسٹور میں چھپا دیا تھا۔ چھوٹا سا بچہ آواز بھی نہیں نکل رہی تھی اس کی لیکن کچھ دیر میں ہی بلی میرے گھر کے گیٹ پر پاگلوں جیسے چکر کاٹ رہی تھی۔ اس کی میاؤں میاؤں سن کر میری دادی گیٹ پر اس بلی کو دیکھنے آئیں اور مجھ سے پوچھا اس نے تو ابھی ابھی بچے دیے ہیں یہ یہاں کیوں تڑپ رہی ہے؟
میں نے ڈرتے ڈرتے ان کو بتا دیا کہ اس کا ایک بچہ میں لائی ہوں اسٹور میں ہے۔ دادی نے مجھے ایک نظر دیکھا اور کہا جاؤ اس کا بچہ لاؤ میں چپ چاپ اسٹور سے وہ چھوٹا سا بچہ لے کر گیٹ پر آ گئی۔
آج بھی وہ منظر میری آنکھوں میں کہیں ٹھہر سا گیا ہے جب بلی اپنے بچے کو منہ میں دباکر بھاگی تھی اور آج بھی دادی کی بات مجھے یاد آتی ہے ماں ہے وہ کیا ہوا اگر جانور ہے۔ خدا کسی ماں کو اس کی اولاد کے چھن جانے کا غم نہ دے آئندہ ایسی حرکت مت کرنا۔
Read more