نئی حکومت اور عوام کے لیے معاملات آسان نہیں
تحریک انصاف کی حکومت کی رخصتی پر خوشی سہی لیکن ایک ہیرو کو یوں گرتے دیکھنا بھی اداسی کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ خواہ یہ ہیرو باوقار ہیکٹر ہو یا بہادر مگر انتقام کی آگ میں اندھا ہونے والا اکیلیس، اسے گرتے دیکھ کر دل پر ضرب پڑتی ہے۔ عمران خان بلاشبہ کروڑوں افراد کے لیے امید کی ایک کرن تھا۔ لیکن اس نے ایک قوم کی تعمیر کرنے کی بجائے اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی راہ چنی۔ اس نے نفرت کی ایسی آگ سلگائی جس نے بھائی کو بھائی سے اور دوست کو دوست سے قطع تعلق پر مجبور کیا۔ جس نفرت کے اس نے بیج بوئے ہیں، ان کا پھل ہمیں ایک طویل مدت تک کھانا پڑے گا۔ عمران خان سے پہلے سیاسی مخالفت گھر سے باہر تک محدود رہتی تھی۔ وہ لوگوں کا باہمی تعلق خراب نہیں کرتی تھی۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے حامی ایک میز پر بیٹھ کر دوسرے کو غدار اور بدترین دشمن سمجھے بغیر ہنس بول سکتے تھے۔ تحریک انصاف کے حامی اور مخالف ایسا کرتے کم ہی دیکھے جاتے ہیں۔
عمران خان ایک مدبر راہنما کا کردار ادا کر سکتا تھا لیکن اس نے نفرت کی سیاست کو بہتر سمجھا۔ جب کسی سے نفرت کی ترویج کی جائے تو وہ بھی پھول نہیں بھیجتا بلکہ جواب اسی سکے میں دیتا ہے۔ دعا ہے کہ اب اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان کچھ مدت تک اپنی ناکامیوں کا تجزیہ کرے اور ملکی سیاست میں اس کی واپسی ایک تعمیری سوچ کے ساتھ ہو۔
عمران خان تو رخصت ہوا، لیکن اس کے بعد کیا ہو گا؟ اس وقت ملکی معیشت کی بری حالت ہے۔ پیسے کمانے کے لیے تحریک انصاف کی حکومت بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ کرنے کی راہ اختیار کیے ہوئے تھی۔ نئی حکومت کو بھی پیسے درختوں پر لگے ہوئے نہیں ملیں گے۔ اس نے بھی کہیں سے پیدا کرنے ہیں۔ آئی ایم ایف اور اس کے پیچھے چلنے والے اداروں کی پالیسی تو واضح ہے، وہ ان ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے ایک دو ارب ڈالر کا قرضہ دے گی اور باقی قرض دینے والے ادارے بھی اسی کے اشارے پر چلتے ہیں۔ نئی حکومت نے چند ماہ یا ڈیڑھ برس بعد اپنی کارکردگی دکھا کر عوام کا سامنا کرنا ہے اور ووٹ مانگنا ہے۔ اسے ان ضروریات کی قیمت کم کرنا ہو گی۔ کیا اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے؟
چند امکانات بہرحال موجود ہیں جن سے اس مخلوط حکومت کو کچھ مدد مل سکتی ہے۔ اس کے پاس چند مثبت نکات ہیں جن میں سے اہم خارجہ معاملات پر اس کا مثبت تاثر ہے۔ گزشتہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ کے علاوہ چین اور عرب ممالک سے تعلقات بھی بری سطح پر آ گئے تھے۔ نئی حکومت کو اس کا کچھ فائدہ پہنچے گا۔
امریکہ سے تعلق اہم ہے۔ ہم امریکی غلامی کے متعلق چاہے جو بھی غل غپاڑا کریں، مگر حقیقت یہی ہے کہ سرمایہ دار دنیا کا بادشاہ امریکہ ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو کہ نائن الیون کے بعد جب فرانس جیسی بڑی یورپی طاقت نے عراق پر حملے وغیرہ کی امریکی پالیسیوں کے خلاف کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اسے چند دن کے اندر اندر اپنے گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے۔ ہماری معیشت اور عالمی اثر و نفوذ تو فرانس کے پاسنگ بھی نہیں۔ امریکی پابندیوں نے عراق، لیبیا اور ایران جیسے امیر ممالک کا برا حال کر دیا تو پاکستان جیسی بیرونی امداد پر چلنے والی ریاست تو کسی شمار قطار میں ہی نہیں۔
جس طرح گزشتہ حکومت نے امریکہ سے تعلق کو مقامی سیاسی جلسوں میں منفی انداز میں استعمال کیا تھا، اس کے بعد نہ صرف امریکہ سے معاملات خراب ہوئے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستانی سفارتی اہلکاروں کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان سفارت کاروں کا ان کی برادری میں سماجی مقاطعہ کیا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق دیگر ممالک کے سفرا ان افطار پارٹیوں تک میں شرکت کرنے سے گریز کر رہے ہیں جن میں پاکستانی سفارت کار موجود ہوں۔ نئی حکومت کو نسبتاً کم منفی ماحول ملے گا۔
امکان ہے کہ امریکی اشارے پر آئی ایم ایف اور دیگر ادارے پاکستان کے لیے سازگار شرائط پر قرض کی فراہمی ممکن بنائیں گے۔ جس امریکی اہلکار ڈانلڈ لو کو عمران خان نے اپنی سیاسی مہم میں نشانہ بنائے رکھا، وہ چینی نژاد ہے اور امریکی انتظامیہ میں پاکستان کا دوست سمجھا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کی گزشتہ قسط دلوانے میں بھی پاکستانی وزیر خزانہ اور سفارتی اہلکاروں نے اسی کے گھٹنے پکڑے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس معاملے کو ریاست پاکستان کے ذمے ڈالے گا یا عمران خان کی غلطی سمجھ کر سکور برابر کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسحاق ڈار ان عالمی مالیاتی اداروں سے پہلے ہی رابطے میں ہیں اور بظاہر امریکی انتظامیہ ان کی راہ میں روڑے نہیں اٹکائے گی۔
باوثوق ذرائع کے مطابق چین نے میاں نواز شریف کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی چین نہ صرف سی پیک پر پوری استعداد کے ساتھ عمل پیرا ہو گا بلکہ دیگر معاشی منصوبوں میں بھی اس کا تعاون شامل حال ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ نون لیگ کی حکومت کے قیام کے بعد تعاون کرے گا یا اس مخلوط حکومت کے لیے بھی دست تعاون دراز کرے گا۔
قطر کے ساتھ تو خیر میاں صاحب کے تعلقات سے زمانہ واقف ہے، قطری گیس کی کم نرخوں یا دیر سے ادائیگی پر فراہمی کی سہولت سے پاکستانی معیشت کو سہارا مل سکتا ہے۔
سعودی عرب کو نہ صرف ایک بری گھڑی نے خفا کیا بلکہ ترکی اور ملائشیا کا بلاک بھی اس کی ناراضگی کا سبب بنا۔ شریف خاندان کے لیے وہاں اچھے جذبات ابھی بھی قائم ہیں بلکہ عمران خان کی حکومت دیکھنے کے بعد وہ جذبات مزید اچھے ہوئے ہوں گے۔ ادھر سے تیل کا معاملہ بھی بہتر ہو سکتا ہے جو پاکستانی کے تجارتی خسارے کا ایک اہم جزو ہے۔
ایران سے آصف علی زرداری کے تعلقات اچھے ہیں۔ اپنی حکومت کے جاتے جاتے وہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے پر دستخط کر گئے تھے۔ اب روس یوکرین جنگ کے تناظر میں امریکہ اور یورپ، ایران پر سے پابندیاں اٹھانے کا سوچ رہے ہیں تو اس سے فیض یاب ہونے والوں میں پاکستان سرفہرست ہو گا۔
یہ سب تو ہمارے نیک گمان ہیں، دیکھتے ہیں کہ ایسا ہوتا بھی ہے یا نہیں۔ لیکن جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ مسلم لیگ نون ڈالر کی قیمت کم رکھنے کی حامی ہے۔ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے بھی اسی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کا خیال تھا کہ روپے کی قیمت گرا کر وہ ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتی ہے لیکن اس کا اضافہ اس نمبر تک بھی نہیں پہنچا جس تک پیپلز پارٹی کی حکومت سستے ڈالر کے ساتھ 2013 میں چھوڑ کر گئی تھی۔ ان دونوں پارٹیوں کا خیال ہے کہ ایک ایسی معیشت جس کا انحصار درآمدات پر ہو اور جس کا بال بال قرضے میں جکڑا ہو، کے لیے مہنگا ڈالر زہر قاتل ہے۔
ڈالر کی قیمت گرانا نئی حکومت کی پہلی ترجیح ہو گا۔ اس کے فوری نتائج یہ ہوں گے کہ تیل کی قیمت کم ہو گی۔ اس وقت اوگرا نے تیل کی فی لیٹر قیمت تیس سے پچاس روپے زیادہ کرنے کی سمری بھیجی ہوئی ہے جس سے نہ صرف معیشت کا بھٹا مزید بیٹھے گا بلکہ عام آدمی پر اس کا براہ راست اثر پڑے گا۔ نہ صرف اشیائے ضرورت مہنگی ہوں گی بلکہ پٹرول اور بجلی کا بل اتنا زیادہ بڑھے گا کہ لوگ بلک اٹھیں گے۔ دوسری طرف حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ سبسڈی دے کر یہ بوجھ عوام پر منتقل کرنے کی بجائے خود اٹھا سکے۔
ڈالر سستا ہونے سے حکومت پر سے یہ بوجھ ختم ہو گا۔ ابھی عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے ہی ڈالر کی قیمت تین روپے گر گئی تھی۔ اب حکومت گرنے کے بعد کی صحیح صورت حال پیر کو سامنے آئے گی۔ مگر آٹھ دس روپے کمی پر تعجب نہیں ہو گا اور چند ماہ میں تیس چالیس روپے تک کی کمی بھی ممکن ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی سے گھبراتے ہیں اور اس کے خاتمے سے انہیں حوصلہ ملے گا۔
نئی حکومت اور عوام کے لیے اگلے چند ماہ آسان نہیں، مگر امید کی کرن بہرحال موجود ہے کہ معیشت بہتری کی راہ پر گامزن ہو جائے گی۔


