کوئی ہارا نہیں ہے، پاکستان کا آئین فتح یاب ہوا ہے
ہفتہ 9 اپریل کا دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مشکل ترین قرار پائے گا۔ تاہم اسے ہار جیت کے پیمانے سے ماپنے کی بجائے یہ دیکھنا اہم ہے کہ ماضی کے برعکس ایک آئینی و جمہوری عمل کے نتیجہ میں تبدیلی واقعہ ہوئی ہے۔ ایک منتخب وزیر اعظم کو اسی ایوان میں اکثریت کی حمایت سے محروم ہونے کی وجہ سے عہدہ چھوڑنا پڑا ہے۔ اسے عمران خان کی شکست کی بجائے آئین پاکستان کی فتح یابی کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہونے والی کارروائی کے دوران سرکاری بنچوں سے جو تقاریر کی گئیں اور سابق اسپیکر اسد قیصر نے جیسے اپوزیشن کے اصرار اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے انکار کیا، اس سے بے چینی کی ایک غیر معمولی صورت حال ضرور پیدا ہوئی تھی۔ اسی کے نتیجہ میں ایک طرف سپریم کورٹ نے نصف شب کے لگ بھگ عدالت لگانے اور 7 اپریل کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت حال پر اقدام کا عندیہ دیکھنے میں آیا۔ تو دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزیر اعظم عمران خان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی برطرفی کے مبینہ حکم کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی۔ اور نہایت عجلت میں رات گئے اسلام آباد ہائی کورٹ کھولنے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے عدالت پہنچنے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ تاہم خبروں کے مطابق وزارت دفاع نے اس حوالے سے کوئی نوٹی فکیشن جاری کرنے سے گریز کیا جس کی وجہ سے کوئی عدالتی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے اپنے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کا جائزہ لینے کے لئے نصف شب سے تھوڑی دیر بعد ہی عدالت لگانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن رات پونے بارہ بجے اسپیکر اسد قیصر نے استعفیٰ دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ایاز صادق کو اسمبلی کی کارروائی چلانے کی درخواست کی۔ اس طرح رات 11 بج کر 58 منٹ پر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شروع ہو گئی۔ یوں عدالتی حکم پر عمل ممکن ہوا اور مزید کارروائی کی نوبت نہیں آئی۔
سابق اسپیکر اسد قیصر نے رات گئے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے یہ عذر پیش کیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد چونکہ غیر ملکی سازش ہے، اس لئے وہ پاکستانی آئین و حکومت کے خلاف اس کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے جس کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دینے کو ترجیح دی۔ یہ عذر اسی پروپیگنڈے کا حصہ ہے جس کا آغاز سابق وزیر اعظم نے تحریک عدم اعتماد کو ’غیر ملکی سازش‘ قرار دیتے ہوئے کیا تھا۔ 27 مارچ کو اسلام آباد کے ایک جلسہ میں کاغذ کا ایک پرزہ لہراتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک غیر ملکی طاقت نے ان کی حکومت گرانے کے لئے خط لکھا ہے لیکن وہ قومی مفاد میں اس خط کے مندرجات کا اعلان نہیں کر سکتے۔ البتہ بعد کے دنوں میں یہ واضح ہو گیا کہ یہ خط امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید کا ایک سفارتی مراسلہ تھا جو انہوں نے امریکی عہدیدار ڈیوڈ لو کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد لکھا تھا۔
اس قسم کی سفارتی مواصلت عام طور سے وزارت خارجہ میں معاملات کا تجزیہ کرنے اور ان سے سفارتی طریقوں سے نمٹنے کے لئے کی جاتی ہے۔ اس لئے نہ تو ایسی خط و کتابت کو منظر عام پر لایا جاتا ہے اور نہ ہی اس پر عام مباحثہ کیا جاتا ہے۔ ایسی ملاقاتوں میں کسی بھی حکومت کے عہدیدار بے تکلفی سے اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔ اور اسی جذبے سے یہ معلومات متعلقہ سفارت کار اپنی وزارت خارجہ کو روانہ کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی ملاقاتوں میں ہونے والی باتوں کو دھمکی، سازش یا حکومت گرانے کی کوشش قرار دینا انتہائی غیر روایتی اور سفارتی معاملات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرنے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔
تاہم سفیر اسد مجد کے مراسلہ کے حوالہ سے ایک سنسنی خیز صورت حال پیدا کی گئی ہے۔ سابقہ حکومت اور اس کے اہلکار حتی کہ اسپیکر نے اس خط کی بنیاد پر تحریک عدم اعتماد کو امریکی سازش قرار دیا اور اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کو اس کا حصہ دار بتایا تھا۔ بدقسمتی سے عمران خان اپنی حکومت کے آخری دنوں میں ایک غیر ملکی طاقت کی ملی بھگت سے حکومت گرانے کی سازش کرنے والے کسی سیاسی لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے قاصر رہے لیکن انہوں نے اس مراسلہ کے مندرجات کو سیاسی مقصد کے لئے پرجوش طریقے سے استعمال کیا۔ اگرچہ بدستور یہی کہا جاتا رہا ہے کہ حساس معلومات کی وجہ سے یہ مراسلہ عام نہیں کیا جاسکتا لیکن عمران خان نے اس خط کے مندرجات عام بھی کیے حتیٰ کہ امریکی انڈر سیکرٹری ڈیوڈ لو کا نام لے کر یہ واضح کیا کہ یہ دھمکی کس امریکی عہدیدار کی طرف سے دی گئی تھی۔
امریکی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ تاہم اس سے ان پاکستانیوں کی تشفی نہیں ہو سکتی جو عمران خان کو سچ کا دیوتا اور ان کی حکومت کی ناکامیوں کو غیر ملکی سازش قرار دینے کے ہتھکنڈے کو درست سمجھتے ہیں۔ اس الزام کا سایہ اسلام آباد میں بننے والی کسی بھی نئی حکومت کی اتھارٹی اور وطن دوستی پر سوالیہ نشان بنا رہے گا۔ تحریک انصاف کی ساری قیادت تحریک عدم اعتماد کو غیر ملکی سازش قرار دے کر کسی متوقع حکومت کو ’امپورٹڈ‘ حکومت کا نام دے رہی ہے جس سے پاکستان کی خود مختاری متاثر ہوئی ہے۔
یہ ستم ظریفی ہے کہ ملک کی سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایسی کسی سازش کے بارے میں کوئی خاص ’تشویش‘ نہیں ہے اور عسکری قیادت کو بھی اس سفارتی مراسلہ میں کوئی سازش دکھائی نہیں دی۔ اس کے باوجود سابق وزیر اعظم اور حکمران پارٹی کے اس خطرناک سیاسی رویہ کو بدحواسی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان اپنا آئندہ سیاسی کیرئیر اسی سفارتی مراسلہ کو سازش قرار دے کر تعمیر کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کی خواہش ہوگی کہ عوام ان کے پونے چار سالہ دور حکومت کی ناکامیوں کا جائزہ لینے کی بجائے اس سازشی نظریہ کے سراب میں گرفتار رہیں اور ایک بار پھر انہیں وزیر اعظم منتخب کر لیا جائے۔
ملکی انتخابی نظام کا حصہ بن کر کامیابی حاصل کرنا تحریک انصاف سمیت کسی بھی حکومت کا آئینی و جمہوری حق ہے۔ لیکن سابق وزیر اعظم نے ایک سفارتی مراسلہ کی بنیاد پر جس طرح ملکی آئین کو نظرانداز کرنے اور تمام سیاسی پارٹیوں، سپریم کورٹ حتیٰ کی فوجی قیادت پر اس حوالے سے الزام تراشی کا جو طریقہ اختیار کیا ہے، اس سے عوام کے ذہنوں میں متعدد سوالات نے جنم لیا ہے۔ عمران خان کے دعوے کو جھوٹ قرار دینے اور اسے اقتدار سے چمٹے رہنے کی کوشش کہنے سے ملکی عوام کی ایک بڑی تعداد کی تشفی نہیں ہوگی۔ اس لئے اس خط کی حقیقت اور اس سے منسلک معلومات کو عام لوگوں کے لئے فراہم کرنا، اب آئندہ حکومت کی ذمہ داری ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن بھی دائر کی گئی ہے۔ تاہم سوموار کو قائم ہونے والی حکومت کو قومی یک جہتی اور پاکستان کا سفارتی امیج بحال کرنے کے لئے سازش کے ان دعوؤں کے بارے میں ازخود ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کس طرح اس خط کے مندرجات کو عام کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے مریم نواز یہ الزام بھی عائد کرچکی ہیں کی یہ اصل سفارتی مراسلہ نہیں ہے بلکہ اس میں وزارت خارجہ میں تحریف کی گئی تھی۔ اس پہلو سے بھی اس مراسلہ کی حقیقت جاننا اور حقائق عام کرنا قومی مفاد کی حفاظت کے لئے بے حد ضروری ہے۔
مراسلہ کے خالق سفیر اسد مجید کو برسلز میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم اگر انہوں نے سابقہ حکومت کے خلاف امریکی سازش کی خبر دی تھی تو بہتر ہو گا کہ انہیں ملک واپس طلب کیا جائے اور کسی مناسب فورم پر حلفاً ان سے پوچھا جائے کہ امریکی عہدیدار ڈیوڈ لو سے ان کی ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں اور اگر اپنے مراسلہ میں انہوں نے تحریک عدم اعتماد کو امریکی سازش قرار دیا تھا تو انہوں نے یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا۔ یہ بیان اعلیٰ عدالت کے ججوں پر مشتمل کمیشن کے سامنے دیا جانا چاہیے تاکہ اعلیٰ ترین سطح پر ریکارڈ کا حصہ رہے اور اس بارے میں وہ تمام معلومات سامنے لائی جائیں جو عوام میں اس ہیجان و پریشانی کو دور کرسکیں۔ یہ تاثر دور ہو سکے کہ ایک بڑا ملک پاکستان کی ’خود مختار‘ خارجہ پالیسی کی وجہ سے ایک منتخب حکومت کے خلاف سازش کر رہا تھا اور پاکستان کے سفیر کے سامنے اس کا اقرار بھی کیا گیا تھا۔
اس حوالے سے اہم ترین اقدام البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت امریکی وزارت خارجہ سے درخواست کرے کہ سفیر اسد مجید اور ڈیوڈ لو کے درمیان 7 مارچ کو ہونے والی ملاقات میں ہونے والی باتوں کے ان حصوں کو عام مطالعہ کے لئے جاری کیا جائے جن میں پاکستانی حکومت کی پالیسیوں پر بات کی گئی ہے اور ان پر امریکی رد عمل کا ذکر ہے۔ تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ ایک معمول کی سفارتی مواصلت تھی یا اس میں کسی دھمکی و سازش کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔
ملک میں کسی بھی حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے عدم اعتماد یا کسی بھی طریقے سے اس کے خاتمہ کی روایت افسوسناک ہے۔ عدم اعتماد کو ایک آئینی طریقہ قرار دینے کے باوجود یہ سوال جواب طلب رہے گا کہ آخر اپوزیشن کو عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کی جلدی کیا تھی۔ حلیف پارٹیوں کا آخری لمحے پر تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ اپوزیشن نے اگر اسٹبلشمنٹ سے نیوٹرل رہنے کی ضمانت حاصل کرلی تھی تو وہ پارلیمنٹ میں اپنی عددی برتری کی بنیاد پر عمران خان کی اقلیتی حکومت کا جینا حرام کر سکتی تھی۔ لیکن عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس بارے میں متعدد افواہ نما خبریں سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ گزشتہ شب عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے آخری لمحات میں وزیر اعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمیوں اور بعض ناخوشگوار واقعات کے بارے میں بی بی سی اردو نے رپورٹ بھی شائع کی ہے۔ آئی ایس پی آر نے اس خبر کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ اس کے باوجود یہ جاننا اہم ہو گا کہ وہ کون سے حالات تھے جن میں قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ تعطل کا شکار رہی اور اسپیکر حسب وعدہ ووٹنگ کروانے کی بجائے ہدایات لینے وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے تھے۔ عمران خان نے عدم اعتماد پر ووٹنگ سے چند لمحے پہلے کابینہ کا ایمرجنسی اجلاس کیوں بلایا اور اس میں کیا فیصلے ہوئے۔
ایسے بیشتر سوالوں کا جواب اس مراسلہ کی حقیقت سامنے لانے سے ہی دیا جاسکتا ہے جو عمران خان کے بقول ان کی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا ایسا ٹھوس ثبوت ہے کہ وہ اس کے لئے قومی اسمبلی کے علاوہ سپریم کورٹ اور فوج سے ٹکر لینے پر تیار ہو چکے تھے۔


