عدم اعتماد، آئین شکنی اور امریکی سازش


سب سے پہلے پی ٹی آئی کے مخلص اور پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکنان کی خدمت اقدس میں دلی تعزیت اور افسوس۔ سیاست میں فتح اور شکست دونوں کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔ نہ سیاست ختم ہوئی ہے، نہ ملک ختم ہوا ہے، نہ مسائل ختم ہوئے ہیں۔

بغض معاویہ میں حب علی کے علمبردار، انٹلیکچوئل کرپٹ عناصر کی خدمت میں عرض ہے کہ خدارا! اپنے ذہنی اور نفسیاتی امراض کی تشفی کے لئے نوجوان نسل میں منافرت اور دشمنی کو فروغ دینے سے باز آئیں۔ اسی میں ہم سب کی بہتری ہے۔

حکومت اور اقتدار میں آنے کے مختلف طریقے

قومی ریاستوں سے پہلے جب سلطنتوں کا اور بادشاہت کا دور تھا، اس وقت کوئی بادشاہ کسی ملک کو فتح کر کے اسے اپنی سلطنت میں شامل کرتا تھا اور عوام کو رعایا سمجھا جاتا تھا جس میں حق حاکمیت بادشاہ کو حاصل ہوتا تھا۔ اس کے لئے کوئی خدائی پروانہ یا طاقت اور قوت، جبر و استبداد کے ذریعے لوگوں پر حکومت کی جاتی تھی۔

اب بھی اپنے ابناء جنس پر حکومت کرنے کے لیے تین چار طریقے ہیں۔
1: خدائی پروانہ
2: طاقت اور قوت
3: موروثی بادشاہت جس میں عوام کی رائے اور مرضی کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔
4: عوام کے منشا اور مرضی سے عوام پر بذریعہ آئین حکومت

جمہوریت اور جمہوری کلچر

اس آخری طریقے کو ہم جمہوریت کے نام سے جانتے ہیں۔ اس میں حکمرانی کے لئے عوامی منشا شامل ہوتی ہے۔ حکمرانی کسی شخص کی نہیں ہوتی بلکہ آئین کی ہوتی ہے۔ اس آئین کے سامنے سب برابر ہوتے ہیں۔ مطلق العنانی نہیں ہوتی۔ حکمران جوابدہ ہوتے ہیں۔ تمام ریاستی اداروں کی حدود متعین ہوتے ہیں۔ اظہار رائے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ عوام کو جاننے اور تنقید کرنے کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔ مخالفین کو جینے، بات کرنے، آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاست کرنے کا مکمل حق ہوتا ہے۔ کسی کو بھی ماورائے آئین کوئی قدم اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ حکمرانی کا عرصہ طے شدہ ہوتا ہے۔ عام طور پر 5 یا 4 سال کا عرصہ ہوتا ہے۔ سربراہ حکومت ووٹ کی اکثریت پر منتخب ہوتا ہے۔

وقت سے پہلے حکمران کو برطرف کرنا

اب اگر مقررہ مدت سے قبل اس حکومت کو ہٹانا پڑے تو اس کے لئے کیا کیا جائے؟ کیا بزور طاقت اس وزیر اعظم کو برطرف کیا جائے؟ اگر ایسا کریں گے تو فساد اور انارکی کا اندیشہ ہوتا ہے۔ مسلم فقہ میں مسئلہ خروج علی الحاکم کا مسئلہ یہی ہے کہ اگر حکمران کو معزول کرنا ہے تو کیوں اور کیسے؟ اکثر فقہی مکاتب نے اس کو جائز ماننے کے باوجود اس کی حمایت سے انکار محض فساد سے بچنے کے لیے کیا ہے۔ کفر بواح کی صورت میں بھی اسی وقت عمل ہو گا جب کامیابی کا امکان موجود ہو۔

( بہرحال یہاں خلیفہ نہ عوامی ووٹ سے آتا ہے نہ کسی محدود مدت کے لئے ) جمہوریت میں اس کا حل اور طریقہ بھی موجود ہے۔ اور وہ ہے عدم اعتماد کی تحریک۔ اگر ہاؤس کی اکثریت اپنے وزیر اعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کرے تو وہ وزیر اعظم خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ مسلط رہنے پر ضد کرتا ہے تو یہ بدمعاشی، دھونس اور جبر ہے جو جمہوری اقدار کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ آئین کو روندنے کے مترادف ہے۔ کوئی وزیر اعظم یہ حرکت اسی وقت کر سکتا ہے جب اس کے پاس ریاستی یا غیر ریاستی قوت موجود ہو۔

اب عدم اعتماد اسمبلی میں بذریعہ ووٹ لایا جاتا ہے اور ووٹنگ کا یہ عمل سپیکر کی نگرانی میں پایا تکمیل کو پہنچتا ہے۔ اگر وزیر اعظم کی مخالفت میں عددی اکثریت ہے اور آئینی لحاظ سے سپیکر اس کا پابند ہے کہ وہ ووٹنگ کرائے، اگر سپیکر یہ نہیں کرتا بلکہ کوئی بہانہ بنا کر ووٹنگ کا راستہ مسدود کرتا ہے تو وزیر اعظم کے مخالف اکثریت کے پاس تین راستے رہتے ہیں۔

عددی اکثریت ثابت ہونے کے باوجود اگر وزیر اعظم عہدہ نہ چھوڑے؟

1: زور زبردستی وزیر اعظم کو برطرف کر کے اپنے کسی نمائندے کو زبردستی وزیر اعظم بنائے۔

2: صبر اور شکر کا راستہ اختیار کر کے آئین کی دھجیاں اڑائے۔ کیوں کہ وزیر اعظم اکثریت کا اعتماد کھو جانے کے بعد غیر آئینی طور پر برقرار رہے گا۔

3: آئین کی تشریح اور اس کے مطابق فیصلہ کرنے والی اتھارٹی سے رجوع کیا جائے۔

اپوزیشن نے با امر مجبوری اس تیسری راہ کا انتخاب کیا۔ آئیڈیل صورتحال تو یہ ہے کہ نوبت یہاں تک نہ پہنچے بلکہ پارلیمنٹ خود آئین کے مطابق فیصلہ کرے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آئینی طریقے سے وزیر اعظم کو برطرف کیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد سے جتنے وزراء اعظم برطرف ہوئے یا منتخب حکومتیں ختم کی گئیں وہ یا تو فوجی آمریت کی مرہون منت ہیں یا پھر صدارتی اختیار اٹھاون ٹو بی [ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں یہ ختم کر دیا گیا ہے ] یا پھر کوئی الزام لگا کر عدلیہ کے ذریعے ختم کی گئی ہیں۔ فوجی آمریت کی صورت میں نہتے وزیر اعظم کے لئے مزاحمت کی گنجائش نہیں ہوتی۔ البتہ عدلیہ کی طرف سے برطرفی یا اٹھاون ٹو بی کی صورت میں وزیر اعظم مزاحمت کرتے ہوئے زبردستی اپنے آپ کو اپنے حامیوں کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کر سکتا تھا۔ مگر تمام وزراء اعظم نے آئین کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے بغیر کسی مزاحمت کے اپنا عہدہ چھوڑ دیا اور معاملات پرامن انداز سے آگے بڑھے۔

یہ پہلی بار ہوا ہے بغیر کسی ادارے کی مداخلت کے اپوزیشن نے عددی اکثریت ثابت کر کے آئینی اور جمہوری انداز سے وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کی کوشش کی اور بہت سخت مزاحمت کے بعد کامیابی حاصل ہوئی۔

سپریم کورٹ نے آئین شکنی کی ہے یا پھر سپیکر نے؟

یہاں دونوں آرا پائی جاتی ہیں۔ قانونی ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ سپیکر نے آئین شکنی کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا تھا۔ عدلیہ نے اس بحران کا خاتمہ کیا۔ جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ سپیکر کے اختیارات بادشاہ جیسے ہوتے ہیں وہ آئین اور قانون سے بالاتر ہوتا ہے۔ وہ جو کرے اس کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ باقی اداروں کی طرح عدلیہ کی تاریخ بھی کوئی روشن نہیں، لیکن اس معاملے میں عدالت کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوئی ٹھوس وجوہات نہیں۔

فوج کا کردار

اس پورے معاملے میں بظاہر ایسا نظر آیا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار رہی۔ ابھی تک حکومتی کیمپ کی طرف سے کوئی الزام نہیں آیا لہذا اس کی غیر جانبداری فی الحال مسلمہ ہے۔ البتہ آخری وقت میں انجم اور باجوہ کی عمران خان سے ملاقات اور اس ملاقات میں جسمانی تشدد کے حوالے سے آنے والی خبریں نہایت افسوسناک ہیں۔ اگر عدلیہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کوئی حکم دے تو اس کا ماننا لازمی ہے۔ یہاں فوج اور خفیہ ادارے کے سربراہ نے اگر ثالثی کے طور پر خود سے کوئی قدم اٹھایا ہے وہ قابل تحسین عمل نہیں ہے۔

عدلیہ کا رات گئے متحرک ہونا

عمران خان کے حامیوں نے اس بنیاد پر عدلیہ کی جو کردار کشی شروع کر رکھی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ملک کو انارکی، فساد، آئینی بحران، آئین سے کھلواڑ سے بچانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ اگر کوئی اور راستہ تھا تو آپ نشاندہی فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔

اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ بے نقاب کون ہوا اور نقصان میں کون رہا؟

پی ٹی آئی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خان نے جاتے جاتے تمام اداروں کو بے نقاب کیا۔ جبکہ مخالفین کا خیال ہے کہ اس پورے معاملے میں خود عمران خان نہ صرف مکمل طور پر بے نقاب ہوئے بلکہ ان کی ضد، ہٹ دھرمی اور شہباز شریف کو اچکن پہننے سے محروم رکھنے کے جذبے نے جس طرح پوری ریاست کو داؤ پر لگایا اس سے نہ صرف خان بے نقاب ہوئے ہیں بلکہ وہ سب کے لئے مکمل طور پر ناقابل اعتبار شخص ثابت ہوئے ہیں۔ جو اپنے ذاتی انا اور حب اقتدار میں سب کچھ داؤ پر لگانے کو معمولی عمل سمجھتے ہیں۔

اس لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کو ہوا ہے۔ سنجیدہ، مخلص اور جمہوری قدروں کے حامل ہمدردوں کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔ البتہ جذباتی، غیر جمہوری اور بغض معاویہ میں حب علی کے علمبرداروں کا خیال ہے کہ خان نے تمام اداروں کو بے نقاب کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اپوزیشن، عدلیہ، سول سوسائٹی اور فوج نے امریکی عزائم کی تکمیل کرتے ہوئے خان کی حکومت ختم کرنے میں کردار ادا کر کے سب نے بالواسطہ یا بلا واسطہ غداری میں حصہ ڈالا ہے۔

یہ کہنا کہ سب نے مل کر خان کو نکالا، سب نے اپوزیشن کی طرفداری کی، سب خان کے خلاف ہو گئے، خلاف حقیقت بات ہے۔ کیا اپوزیشن، عدلیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا ہے؟ کیا ان میں سے کسی نے آئین شکنی کی ہے؟ طرفداری اور آئین شکنی آر ٹی ایس کو بٹھانا تھا۔ دوسری پارٹیوں سے لوگوں کو جبرا یہاں لانا تھا، مختلف مواقع پر ٹیلی فون کالز کے ذریعے لوگوں کو مجبور کرنا طرفداری اور غیر آئینی تھا۔ ہر اہم معاملہ میں حکومت کے کام کو اپنے ہاتھ میں لینا طرفداری تھی۔ ملکوں ملکوں پیسہ مانگنے جانا طرفداری تھی۔ عدم اعتماد کے معاملے میں عدلیہ اور ریاستی اداروں کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ غیر آئینی اقدام کی حمایت یا پھر آئین اور دستور کے ساتھ کھڑے ہونا؟

پی ٹی آئی کا المیہ

پاکستان تحریک انصاف کا سب سے بڑا المیہ خود عمران خان صاحب ہیں۔ جن کا خیال ہے کہ دنیا میں وہ واحد ایمان دار لیڈر ہیں۔ سب کچھ جانتے ہیں۔ زعم پارسائی بہت زیادہ ہے۔ اپنے آپ کو منتخب وزیراعظم کے بجائے خدا کی طرف سے مبعوث سمجھتے ہیں۔ مخالفین کو گالیاں دینا، کردار کشی کرنا اور جھوٹے کیسز بنا کر ان کو اذیت دینا خدائی فریضہ سمجھتے ہیں۔ سیاسی اور نظریاتی اختلاف کو کفر و اسلام اور حق و باطل کا معرکہ سمجھتے ہیں۔

ایک تکثیری معاشرے میں اپنے آپ کو 22 کروڑ لوگوں کا متفقہ لیڈر سمجھتے ہیں۔ اپوزیشن کے وجود کو برداشت کرنے کے رودار نہیں۔ اسی وجہ سے خان صاحب کی شخصیت میں خود پسندی، نرگسیت، تکبر، انا ولا غیری اور عدم رواداری نظر آتی ہے۔ پارٹی کے لوگوں کے لئے تو شاید یہ قابل قبول ہو، مگر اتحادی اور اپوزیشن کیوں کر ایسی شخصیت کو قبول کریں؟ یہی ذہنیت اس پارٹی کے باقی رہنماؤں، کارکنان اور حامی دانشوروں، صحافیوں اور اینکر پرسن کا بھی ہے۔ یہ رویہ غیر جمہوری، غیر آئینی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی ہے۔ اس سے جتنی جلدی چھٹکارا حاصل کریں گے اتنا ہی ان کے لئے فائدہ ہو گا۔

امریکی سازش کا نظریہ

خان صاحب نے ایک میمو کو جس طرح استعمال کیا اس سے صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ اس کو محض ایک کارڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے بھی تو عددی اکثریت کھو دینے کی صورت میں برسر اقتدار رہنا یا عدم اعتماد جیسے آئینی عمل کو سبوتاژ کرنا کسی صورت آئینی اور جمہوری عمل نہیں۔ آپ اس خط پر انکوائری کمیٹی بنا کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرواتے۔ یا اپوزیشن میں جا کر اس مسئلہ کو بھرپور انداز میں اٹھاتے اور نئی حکومت کو مجبور کرتے کہ وہ اس کی تحقیقات کروائے۔

مگر اس کو بنیاد بنا کر عددی اکثریت کھو دینے کے باوجود مسلط رہنا یا تحریک عدم اعتماد کو روندنا آئین کی کس شق کے تحت جائز ہے؟ آرٹیکل 5 میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ کیا محض الزام کی بنیاد پر بغیر کسی تحقیق اور عدالتی کارروائی کے اسپیکر کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ جس کو چاہے غدار اور ملک دشمن قرار دے؟ اگر اسپیکر کی رولنگ کو برقرار رکھ کر عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کرنے کے اس عمل کو قبول کر لیا جاتا تو اپوزیشن غدار ثابت ہوتی اور پھر عمرانی حکومت نے سب پر غداری کے مقدمات قائم کرنا تھے۔

خان صاحب اور دیگر کا تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے دعائیں اور چیلنج

خان صاحب کے بقول میں دعا کر رہا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک آئے تاکہ میں اسے ناکام بنا کر اپوزیشن کے لئے ؛؛خطرے ناک؛؛ بن جاؤں۔ ان سب کو شکست فاش دوں۔ شیخ رشید سمیت پی ٹی آئی کے تمام وزراء چیلنج دیتے رہے کہ تحریک عدم اعتماد لے آؤ اور ہمت ہے تو کامیاب بنا کر دکھاؤ۔ لہذا امریکی سازش سے زیادہ خان صاحب کی دعاؤں کا عمل دخل زیادہ ہے۔

سیاسی کارکنوں، دانشوروں اور معماران قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ پارٹی تعلق، کسی سے بغض اور نفرت وغیرہ تعصبات سے بالاتر ہو کر آئین، جمہوریت اور جمہوری اقدار کو پیش نظر رکھ کر بات کریں۔ چاہے اس سے کسی کی حمایت ہو یا مخالفت۔ جب تک ہم اس نہج سے نہیں سوچیں گے باہمی منافرت، تعصبات اور آپسی دشمنیوں کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔

ہماری اصل وفاداری سچائی کے ساتھ ہونی چاہیے۔ سچائی کا معیار، مذہب میں الگ ہے، سیاست میں الگ۔ ایک جمہوری، تکثیری اور آئینی ریاست میں سچائی کا واحد معیار پوری قوم کا متفقہ آئین ہوتا ہے۔

جب تک گلگت بلتستان کی مقدس سرزمین پاکستان میں شامل ہے ہمیں یہاں کے سیاسی، معاشی، معاشرتی مسائل پر بات کرنے کی آزادی ہے۔ اگرچہ ہم پورے پاکستانی نہیں کیوں کہ کوئی بلتی نہ وزیر اعظم بن سکتا ہے نہ صدر، نہ آرمی چیف، نہ چیف جسٹس آف پاکستان نہ ایم این اے نہ سینیٹر۔

آخر میں امید کرتے ہیں کہ معاصر دانشور محترم خورشید ندیم کی یہ بات درست ثابت ہو۔

"اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ پیپلز پارٹی جس جواب تک 1977 میں اور نون لیگ 1999 میں پہنچی، تحریک انصاف اسی جواب تک 2022 میں پہنچ گئی۔ قوم کو یہ اجماع مبارک ہو”۔

Facebook Comments HS