کیا عمران خان کو واقعی جانا ہی تھا؟
10 اپریل 2022 کا دن نہ صرف ملکی سیاسی، جمہوری تاریخ بلکہ خود تحریک انصاف کی 24 سالہ سیاسی جدوجہد کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا۔ آزادی کے 75 ویں سال میں تاریخ میں پہلی بار عمران خان نے بطور وزیر اعظم عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے حکومت سے بے دخل ہونے والے ”پہلے وزیر اعظم“ کا اعزاز اپنے نام کیا اور یہ اعزاز صرف کپتان ہی لے سکتا تھا۔ عمران خان کی بطور وزیر اعظم حکمرانی کی مدت قریبا تین سال سات، آٹھ ماہ کے عرصے تک محیط رہی۔
وہ اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے محض ڈیڑھ سال کے عرصے کی دوری پر تھے کہ اپنی سیاسی غلطیوں اور اپنے غیر جمہوری مزاج کی بدولت منزل تک پہنچنے سے محروم ہو گئے۔ نون لیگ، پی پی پی جیسی بڑی اور پرانی جماعتیں بھی دو دو بار آئینی مدت کے ٹارگٹ تک پہنچنے میں ناکام رہی تھیں۔ لیکن کپتان کو سہولیات زیادہ میسر تھیں۔ کپتان چونکہ پیدائشی طور پر غیر سیاسی بندہ اور کھیل کا کھلاڑی تھا لہذا وہ ملکی سیاست کے اندرونی داؤ پیچ، پس پردہ کی چالوں کو سمجھتا نہیں تھا اور مغرب کو سب سے زیادہ جاننے، اپوزیشن سے انتقام لینے کے گھمنڈ میں یکے بعد دیگرے غلطیاں کرتا چلا گیا۔
2018 کے الیکشن کے بعد اپنی حکومت کی تشکیل میں ان کا اپنا کوئی کردار نہ تھا بلکہ پس پردہ کسی کی طرف سے بھرپور معاونت کی گئی تھی۔ بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں حکومت کے ”پر“ نکلتے گئے اس کے تیور بدلنے شروع ہوئے اور اپنی حیثیت کو بھولتی گئی اور بالآخر سزا اس کا مقدر ٹھہری اور اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ کپتان کو نہیں بھولنا چاہیے تھا کہ اس کی حکومت کی جان ”اتحادی طوطوں“ کے اندر تھی اور ان طوطوں کی حفاظت ضروری تھا۔
وہ چند مشیروں اور وزیروں کے نرغے میں رہے اور اتحادیوں کو بھلا دیا لیکن جب ہوش آیا تو وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ بالآخر پرانے سیاسی شکاریوں نے انہی ”طوطوں“ ’کا شکار کر کے حکومت کی جان نکال لی۔ جس طرح کی سپورٹ اور تعاون ان کو میسر تھا عمران خان بطور وزیر اعظم شاید پانچ سال پورے کرلیتے لیکن ان کے اندر کے غیرسیاسی طرز کے مزاج، عدم رواداری اور انتہا کی انا پرستی اور تکبر نے ان کو منزل پر پہنچنے سے قبل ہی آدھ راستے سے واپس گھر لوٹا دیا۔
بدقسمتی یا خوش قسمتی سے ان کا مزاج پاکستانی سیاسی، نظام سیاست اور 75 سالوں سے نافذ العمل ریاستی ڈھانچے سے مطابقت نہیں رکھتا تھا یہی وجہ ہے کہ مرکز اور سب سے بڑے صوبہ میں بیوروکریٹ سمیت دیگر افسران کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی نہ ہو پائی۔ نوٹیفیکشن کے مسئلہ پر جو تماشا ہفتوں تک لگایا گیا وہ سب کو یاد ہے۔ پنجاب میں اعلیٰ سطح کے افسران کی ٹرانسفر، پوسٹنگ کی لمبی کہانی ہے۔ قوم کو غلامی سے نجات دلانے کی بات محض جذباتی پن تھا جبکہ ان کا خود اپنی جماعت کے اندر اتحادیوں اور ناپسند اراکین سے تعلق آقا غلام جیسا تھا۔
کپتان بطور وزیر اعظم عالمی سیاست کے مزاج کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ یوکے اور جرمنی کے شیڈول دورے منسوخ کرنا ان کی بڑی غلطی تھی اور اعلیٰ سطح پر مذاکرات کے مواقع ضائع کر دیے تھے۔ اسلام فوبیا کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے دنیا بھر کے ممالک کو لکھے جانے والے خط میں بھی سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور بڑے ممالک پر تنقید کی گئی تھی جبکہ یہ کام تحریر کی بجائے سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہو سکتا تھا۔
ان کے دور میں امور خارجہ میں تین بڑے سانحے رونما ہوئے۔ اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت بھارت نے ختم کردی، بعد میں اس مسئلہ پر اسلامی ممالک سمیت دنیا نے مدد نہ کی۔ یورپی یونین نے تقریباً متفقہ طور پر پاکستان کے خلاف قرار دار پاس کی اور گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششیں ناکام ہوئیں، ان ناکامیوں کے ردعمل میں مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ افغانستان کے مسئلہ پر بھی اسلامی ممالک سمیت دنیا نے تعاون نہیں کیا اور اب تک کسی نے افغانستان کو تسلیم نہیں کیا جبکہ ان کی حکومت نے افغانستان کی وکالت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔
رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئی جب عوامی جلسوں میں امور خارجہ سے متعلق امور ڈسکس کرنے لگ گئے اور اس میں دھمکی آمیز خط بھی شامل ہے جو بعد میں حکومت کے اختتام تک ایک نازک موضوع بنا رہا۔ کپتان کی چھپی منفی صفات جوں جوں کھل کر سامنے آتی رہیں ان کے مسائل میں توں توں اضافہ ہوتا رہا جس کے نتیجہ میں ایسے عالمی مسائل جنم لینے کا خدشہ پیدا ہونے لگا تھا جن کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ غیر جانبدارانہ رائے یہی ہے کہ کپتان جمہوری مزاج کا بندہ نہیں ہے۔
فراست، تدبر کا دور کا بھی ان کی ذات سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکہ سے غلامی کی نجات کا نعرہ زمینی حقائق کے بالکل منافی ہے، اس کا تعلق مضبوط معیشت سے، نہ کہ سیاست سے۔ حقیقت میں ان کا اشارہ کسی اور طرف ہوتا تھا۔ ان کی انہی سیاسی غلطیوں اور عالمی تقاضوں اور ضروریات کے منافی مزاج اور سوچ نے بظاہر ان کی حکومت میں دوبارہ آنے کے دروازے، کھڑکیاں اور روشن دان سبھی بند کر دیے ہیں لیکن پاکستان میں نا ممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔


