نیویارک کے زیر زمین سٹیشن میں فائرنگ: پولیس نے مطلوب شخص کی تصویر جاری کر دی


نیویرک
نیویارک کے زیر زمین ریلوے سٹیشن پر منگل کی صبح فائرنگ کا واقع پیش آیا
امریکہ کے شہر نیویارک میں منگل کی صبح ایک زیر زمین ریلوے سٹیشن پر فائرنگ کے واقعہ میں نیو یارک سٹی پولیس نے عوام سے 62 سالہ فرینک جیمز کی تلاش میں مدد کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ اس واقعے میں 20 افراد اس وقت زخمی ہوئے جب ایک مشتبہ شخص نے زیر زمین ریلوے سٹیشن پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق 10 افراد کو گولی لگنے سے زخم آئے ہیں جب کہ باقی بھگڈر مچنے سے زخمی ہوئے۔

اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق حملہ آور نے صبح ساڑھے آٹھ بجے زیرِ زمین ریلوے سٹیشن میں پہلے ایک سموک بم پھینکا، جس سے دھواں پھیل گیا اور پھر فائرنگ شروع کر دی۔

پولیس کے مطابق فرینک جیمز کو فی الحال حملے کے ملزم کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا لیکن انھوں نے ایک وین کرائے پر حاصل کی جس کا تعلق اس حملے سے ہو سکتا ہے۔

پولیس کے مطابق اس وین کی چابی، جسے فلیڈیلفیا میں کرائے پر حاصل کیا گیا تھا، زیر زمین ریلوے سٹیشن سے ملی تھی۔

نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے جیمز ایزگ کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ فرینک جیمز کے پاس اس حملے کے بارے میں معلومات ہوں۔

نیو یارک کے زیر زمین ریلوے سٹیشن میں کیا ہوا؟

منگل کو پولیس کی جانب سے ایک بریفنگ میں واقعے کی مذید تفصیلات بتائی گئیں جن کے مطابق ایک مرد حملہ آور نے صبح ساڑھے آٹھ بجے سن سیٹ پارک کے علاقے میں 36 سٹریٹ سٹیشن پر پہلے دو سموک گرینیڈ پھینکے، جن سے دھواں پھیل گیا، اور پھر گلوک پستول سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

پولیس چیف جیمز ایزگ کا کہنا ہے کہ کم از کم 33 گولیاں چلائی گئیں اور 10 افراد زخمی ہوئے۔

اس زیرِ زمین ریلوے سٹیشن سے گلوک ہینڈ گن اور اس کے تین غیر استعمال شدہ میگزین سمیت کچھ ایسے دھماکہ خیز آلات بھی ملے ہیں جو پھٹ نہیں سکے۔

نیویارک سٹی پولیس کے مطابق ’اس مسلح شخص نے پہلے گیس ماسک پہنا اور پھر فائرنگ کر کے متعدد افراد کو ٹرین اور پیلٹ فارم پر زخمی کیا۔‘ پولیس کے مطابق کسی بھی زخمی کی حالت تشویش ناک نہیں ہے جبکہ اہلکار اب بھی اس حملے کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور کا قد تقریبا پانچ فٹ پانچ انچ تھا اور اس نے تعمیراتی جیکٹ اور گیس ماسک پہن رکھا تھا۔

جائے واردات سے موصول ہونے والی تصاویر میں دھوئیں سے بھرے سٹیشن میں خون میں لت پت مسافروں کو فرش پر پڑے دیکھا جا سکتا ہے۔

پریس

ہر طرف دھواں اور خون تھا

حملے کے عینی شاہد سیم کارکامو نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ہر طرف دھواں تھا اور خون تھا، لوگ چیخ رہے تھے۔‘

بروکلن کے رہائشی یحییٰ ابراھیم نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انھوں نے لوگوں کو ٹرین سٹیشن سے بھاگتے ہوئے دیکھا۔

’مجھے ایک خاتون نظر آئی جن کو ٹانگ میں گولی لگی تھی اور وہ مدد کے لیے چلا رہی تھیں۔ ایک ایمبولنس آئی اور ان کو لے گئی۔‘

اس واقعے کی تحقیقات میں پولیس کو آّغاز سے ہی مشکل کا سامنا ہے جس کی ایک وجہ زیر زمین سٹیشن پر نصب کیمرا میں خرابی بتائی جاتی ہے۔ نیو یارک میئر ایڈم نے بعد میں اس بات کی تصدیق بھی کر دی۔

واضح رہے کہ امریکہ میں گزشتہ دو سالوں میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp