یہ مسائل ’آئینی‘ یہ ترا بیان غالب


اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ پوری انسانی تاریخ میں سے ایک ایسی دریافت سوچ کر بتاؤ جو سب سے زیادہ حیران کن ہو تو میرا جواب ہو گا ’قانون‘ ۔ یہ انسان کی ایسی دریافت ہے جس پر وہ بجا طور پر داد کا مستحق ہے بلکہ میری رائے میں تو اس کائنات میں اگر کہیں ذہین مخلوق بستی ہے تو شاید وہ بھی ہمیں اس دریافت پر شاباش دے گی۔ قانون کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس کی عمارت انسانی فہم، عقل و دانش، منطق اور معقولیت کی بنیاد پر کھڑی ہے، دنیا کا کوئی بھی قانون نا معقول یا غیر منطقی نہیں ہو سکتا اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس تصور کو ایک مقدمے کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ مثال ریمنڈ ویکس نے اپنی کتاب ’قانون‘ میں لکھی ہے۔ 1944 کے نازی جرمنی میں ایک عورت نے اپنے شوہر پر الزام لگایا کہ اس نے ہٹلر کی جنگی حکمت عملی پر تنقید کی ہے، یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ وہ عورت اپنے شوہر سے خاصی بیزار رہی ہوگی، اس الزام کے بعد نازی جرمنی کی بدنام زمانہ خفیہ پولیس ’گسٹاپو‘ اسے پکڑ کر لے گئی، اس پر ’مقدمہ‘ چلا اور پھانسی کی سزا ہو گئی، بعد ازاں اس سزا کو بدل کر اسے روس کے محاذ پر لڑنے کے لیے بھیج دیا گیا۔

جب جنگ ختم ہوئی تو عورت پر اس الزام میں مقدمہ چلایا گیا کہ وہ اپنے شوہر کی آزادی سلب کرنے کی ذمہ دار ہے۔ بیوی نے اپنے دفاع میں یہ عذر پیش کیا کہ اس کے شوہر نے اس وقت کے نازی جرمنی کے 1934 کے قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ عدالت نے عورت کا یہ عذر قبول نہیں کیا اور اسے سزا سناتے ہوئے یہ تاریخی جملہ لکھا کہ جس قانون کے تحت اس کے شوہر کو سزا دی گئی وہ قانون تمام مہذب انسانوں کے ضمیر کے خلاف اور انصاف کی توہین پر مبنی تھا۔

عدالت کے اس فیصلے پر دو قانونی ماہرین کے درمیان بڑی دلچسپ بحث ہوئی، ایک کا تعلق آکسفورڈ سے تھا اور دوسرے کا ہارورڈ سے۔ آکسفورڈ والے ماہر قانون پروفیسر ہارٹ کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ غلط تھا کیونکہ عورت نے اس وقت کے نازی جرمنی میں رائج قانون کے تحت اپنے شوہر کو سزا دلوائی تھی جبکہ ہارورڈ کے پروفیسر فلر کی دلیل یہ تھی کہ نازی جرمنی کا قانون اخلاقیات سے اس قدر ماورا تھا کہ وہ قانون کہلانے کے لائق ہی نہیں تھا۔

بعد ازاں پروفیسر فلر نے آٹھ اصول وضع کیے جو اخلاقی بنیادوں پر کسی بھی قانون کے مستند ہونے یا نہ ہونے کا ’لٹمس ٹیسٹ‘ ہیں۔ ان اصولوں کو اس نے ایک ایسے بادشاہ کی مثال سے واضح کیا جو کبھی خوش نہیں ہوتا، کوئی قوانین نہیں بناتا اور اگر بناتا ہے تو ان کی مناسب تشہیر نہیں کرتا، قانونی مسائل کو عارضی اصولوں کی بنیاد پر طے کرتا ہے، اس کے بنائے ہوئے قوانین عموماً موثر بہ ماضی ہوتے ہیں، باہم متضاد ہوتے ہیں، عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتے اور اس قدر جلد تبدیل ہوتے ہیں کہ لوگ خود کو ان قوانین کے تابع کر ہی نہیں پاتے اور بد ترین بات یہ کہ بادشاہ سلامت کے اعلان کردہ قوانین اور ان کے عملی نفاذ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

قانون کے یہ مباحث بہت دلچسپ ہیں اور بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کس قانون کی کون سی تشریح درست ہے اور کون سی غلط۔ اگر آپ بینک سے کریڈٹ کارڈ بنوائیں تو وہ کاغذوں کے ایک پلندے پر دستخط کرواتے ہیں جن میں انگریزی میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ کسی جھگڑے کی صورت میں بینک کا فیصلہ حتمی ہو گا اور اس کے خلاف کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکے گا لیکن ظاہر ہے کہ یہ بے معنی بات ہے اور ایک سول عدالت بھی اسے تسلیم نہیں کرتی۔ اسی طرح اکثر ممالک (بشمول پاکستان) کے آئین میں یہ لکھا ہوا ہے کہ پارلیمان کے بنائے ہوئے قانون کو کسی بھی عدالت حتی ٰ کہ عدالت عظمی ٰ میں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ وکلا مختلف قوانین کے خلاف عدالتوں میں رٹ کرتے ہیں اور عدالت عظمی ٰ سے پہلے عدالت عالیہ اکثر قوانین کو کالعدم قرار دے دیتی ہے اور کوئی شخص اسے پارلیمان کی خودمختاری پر حملہ تصور نہیں کرتا۔

عدالتوں کا یہ اختیار دنیا بھر میں مختلف طریقوں سے استعمال ہوتا ہے اور کسی حد تک تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح پارلیمان جب کوئی قانون منظور کرتی ہے تو اکثر کسی مجاز اتھارٹی کے بارے میں یہ الفاظ لکھ دیتی ہے کہ وہ کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس قسم کے الفاظ جہاں بھی استعمال کیے جاتے ہیں وہاں ان کا سیاق و سباق دیکھا جاتا ہے، مثلاً اگر کسی قانون میں یہ لکھا ہو کہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر امن و عامہ قائم کرنے کے لیے کوئی بھی حکم جاری کر سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ وہ لوگوں کو موقع پر پھانسی لگانے کے احکامات بھی دے سکتا ہے۔

کوئی بھی قانون، کسی بھی شخص کو کتنا ہی اختیار کیوں نہ دیتا ہو، وہ اختیار کبھی لا محدود نہیں ہوتا اور ہمیشہ اس اختیار کو استعمال کرتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ اختیار معقول انداز میں نیک نیتی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔ اور اگر ایسا نہ کیا گیا ہو تو پھر عدالت کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ اس مجاز اتھارٹی کے اختیار پر نظر ثانی کر کے حکم جاری کرے۔ آئین کی شق 69 اس کی ایک مثال ہے۔ ایوان کی کارروائی چلانا سپیکر کا اختیار ہے جسے آئین میں یہ لکھ کر تحفظ دیا گیا ہے کہ اس اختیار کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا مگر یہاں بھی وہی اصول لاگو ہو گا کہ دنیا کا کوئی بھی اختیار لا محدود نہیں ہوتا اور ہمیشہ اسی قانون کے تابع ہوتا ہے جس قانون کے تحت وہ اختیار استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ وہی اصول ہے جس کے تحت آپ نے اکثر قانونی ماہرین کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا کہ فلاں مسئلے پر سپریم کورٹ کو اختیار حاصل نہیں یا فلاں مسئلہ عدالت کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اگر عدالت عظمی ٰ کی حدود آئین میں طے ہیں تو پھر سپیکر کی حدود بھی لا محالہ طے ہیں!

آئین اور قوانین عام انسانوں اور عام حالات کو مد نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان میں کسی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کی گنجایش بھی رکھی جاتی ہے تاہم دنیا کی کوئی بھی پارلیمان ان غیر معمولی حالات کے لیے آئین میں کوئی حفاظتی دریچہ نہیں رکھ سکتی جن میں معاشرے کے پڑھے لکھے طبقات ہی آئین اور قانون کو پاؤں تلے روندنے پر تل جائیں۔ کسی ملک کا آئین یہ تو بتا سکتا ہے کہ انتخابات کیسے ہوں گے، حکومت کیسے تشکیل پائے گی، انتقال اقتدار کیسے ہو گا مگر کوئی آئین یہ نہیں بتا سکتا کہ کوئی حکومت اگر اکثریت کھو بیٹھے اور وہ اقتدار اکثریت کو منتقل نہ کرے تو کیا ایسی صورت میں اقلیتی حکومت کا ’بازو مروڑ کر‘ اس سے آئین کے مطابق انتقال اقتدار کروانا درست عمل ہو گا؟

اس ضمن میں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اکثریت سے اقلیت میں تبدیل ہونے والی حکومت کا اقتدار میں رہنا بذات خود ایک ماورائے آئین اقدام ہے لہذا اسے کسی بھی طریقے سے روکنا جائز ہے کیونکہ اگر آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق عمل کرنے کے باوجود انتقال اقتدار نہیں ہو پاتا تو اس صورت میں بھی لا محالہ ایک غیر آئینی حکومت ہی جنم لے گی جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس دلیل میں وزن ضرور ہے مگر میں سو فیصدی اس دلیل سے مطمئن نہیں ہوں اور سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس سوال کا تسلی بخش جواب اب تک نہیں ملا۔ کسی ماہر قانون کے پاس اس کا معمے کا حل ہو تو ضرور بتائے!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada