پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کیس کا فیصلہ 30 دن میں کرے


پی ٹی آئی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے۔

پی ٹی آئی کے بانی ارکان میں سے ایک اکبر ایس بابر کا دائر کردہ یہ مقدمہ سنہ 2014 سے زیرِ التوا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے تحریر کردہ فیصلے میں پی ٹی آئی کی اکبر ایس بابر کو اس مقدمے سے الگ کرنے اور اس مقدمے کا ریکارڈ اکبر ایس بابر کو دینے سے روکنے کی درخواست خارج کر دی گئی ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں اس حوالے سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں جنھیں الیکشن کمیشن نے 25 جنوری اور 31 جنوری کو مسترد کر دیا تھا۔

اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کا حکم نامہ برقرار رکھا ہے۔

فارن فنڈنگ کیس کیا ہے؟

الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی درخواست تحریک انصاف کے بانی رکن اور 2011 تک پارٹی میں مختلف عہدوں پر فائز رہنے والے اکبر ایس بابر نے اپنے وکلا سید احمد حسن شاہ اور بدر اقبال چوہدری کے ذریعے دائر کی تھی۔

اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں کے لیے موجود قانون ’پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002‘ کی خلاف ورزی کی ہے اور اس لیے پارٹی چیئرمین عمران خان اور خلاف ورزیوں کے مرتکب دیگر قائدین کے خلاف کارروائی کی جائے۔

درخواست گزار اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن کو حال ہی میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے سنہ 2009 سے 2013 کے درمیان 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالرز سے زائد رقم اکٹھی کی۔

اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ فنڈنگ ممنوعہ ذرائع سے حاصل کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈیننس 2002 کے تحت پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے لیے غیر ملکیوں سے فنڈز حاصل کرنا منع ہے۔

الیکشن کمیشن ایکٹ سنہ 2017 کے سیکشن 204 کے سب سیکشن 3 کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کو بلواسطہ یا بلاواسطہ حاصل ہونے والے فنڈز جو کسی غیر ملکی حکومت، ملٹی نینشل یا پرائیویٹ کمپنی یا فرد سے حاصل کیے گئے ہوں وہ ممنوعہ فنڈز کے زمرے میں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فارن فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی کے بانی رکن کی جانب سے کیا دعوے کیے گئے ہیں؟

فارن فنڈنگ کیس کے تحریک انصاف اور پاکستانی سیاست پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

تحریک انصاف نے درجنوں بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دیں نہ فارن فنڈنگ کے ذرائع بتائے: رپورٹ

فارن فنڈنگ کیس: ’یا تو وزیر اعظم کو زیادہ معلومات نہیں یا انھیں کچھ بتایا ہی نہیں گیا‘

اس ایکٹ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی یا جن کو نینشل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی نے نائیکوپ کارڈ جاری کیا ہے، ان پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ سیکشن 204 کے سب سیکشن چار کے تحت اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی سیاسی جماعت نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز اکھٹے کیے ہیں تو جتنی بھی رقم پارٹی کے اکاؤنٹ میں آئی ہے اس کو بحق سرکار ضبط کرنے کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام عطیات اوورسیز پاکستانیوں نے باضابطہ طور پر پی ٹی آئی کو دیے اور ان میں کوئی ممنوعہ ذریعہ شامل نہیں ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے بتایا تھا کہ مبینہ طور پر ممنوعہ ذرائع سے پارٹی کو ملنے والے فنڈز کا معاملہ اُنھوں نے سنہ 2011 میں پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے سامنے اٹھایا تھا اور یہ کہا تھا کہ پارٹی کے ایک اور رکن جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس معاملے کو دیکھے لیکن اس پر عمران خان کی طرف سے کوئی کارروائی نہ ہونے کی بنا پر وہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں لے کر گئے۔

واضح رہے کہ جنوری 2022 میں الیکشن کمیشن کی ایک سکروٹنی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عمران خان کی جماعت نے الیکشن کمیشن سے 31 کروڑ روپے سے زائد کی رقم چھپائی اور درجنوں اکاؤنٹس ظاہر نہیں کیے گئے۔

سکروٹنی کمیٹی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ سمیت امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ سمیت دیگر ممالک سے فنڈ موصول ہوئے۔

کمیشن کے مطابق سکروٹنی کمیٹی کو نیوزی لینڈ سے موصول ہونے والے فنڈز تک رسائی نہیں دی گئی۔

سکروٹنی کمیٹی کے مطابق جب تحریک انصاف سمیت فریقین کی طرف سے مکمل ڈیٹا تک رسائی سے متعلق تعاون نہیں کیا گیا تو پھر کمیٹی نے الیکشن کمیشن کی اجازت سے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان کے دیگر بینکوں سے 2009 سے 2013 کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کی اور یوں یہ رپورٹ مرتب کی گئی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp