پارٹی نہیں قومی بیانیہ دیجیے


نوجوان نسل کو ستر اسی کی دہائی کی سیاسی تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ تب بھی جوش تھا جنون تھا امریکی خط تھا اور امریکی سازش۔ اپوزیشن پر امریکی ڈالرز لینے کا الزام اور رجیم چینج کی کوشش۔ پھر ہم نے نظام مصطفے ٰ ﷺ کا نعرہ بھی لگتا دیکھا، سیاسی عدم استحکام اور نتیجتاً طویل آمریت کا دور بھی دیکھا۔

کیا ہم وہی غلطیاں دھرا رہے ہیں؟ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایک قوم بن کے سوچنے کی ضرورت ہے۔ تمام کمزوریوں کے باوجود ادارے میرے ملک کے ہیں۔ ان کی اصلاح کے لیے قابل لوگوں کا انتخاب ہم نے کرنا ہے۔ ایک انتخابی نظام کی موجودگی میں اسی میں رہتے ہوئے ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بجائے جمہوری طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایک مہذب معاشرے کی طرح تہذیب کے دائرے میں اختلاف رائے کریں۔ کسی کو وطن فروش اور غدار قرار دینے کا کام عدالت کے ذمہ ڈالیں۔

توجہ دلانا عوام کا حق ہے لیکن قانون ہاتھ میں لینا انارکی اور انتشار کے سوا کچھ نہیں۔ یہ فاشسٹ فکر ہے جو خود کو تو قومی مفاد کے طور پر پیش کرتی ہے لیکن اختلاف رائے رکھنے والے کو غدار و وطن فروش سے کم لقب دینے کو تیار نہیں۔ یہ بہت خطرناک طرز عمل ہے۔ چونکہ خان صاحب کے حامیوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو فطرتاً جذباتی ہوتے ہیں۔ خدانخواستہ آپ کے غدار قرار دینے کے عمل سے کوئی ماورائے عدالت اقدام کر بیٹھے یا کم از کم تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا پے

گزشتہ روز نون لیگ کے مصدق ملک نے ٹی وی پر کہ رہے تھے کہ میرا عمران خان سے شدید سیاسی اختلاف ہے لیکن نہ میں ان کو غدار سمجھتا ہوں اور نہ کہوں گا۔ میں خود اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہماری قیادت کو سنجیدگی کا ثبوت دینا چاہیے۔ کسی پر غدار یا وطن فروش جیسے القابات لگانے سے گریز کریں جب تک کہ عدالتی طور پر ثابت نہ ہو جائے۔

عوام الناس کے بارے میں عربی کا مقولہ ”عوام کاالانعام“ عوام چوپائیوں کی مانند ہیں۔ ہر شخص کی ذہنی استعداد ایک جیسی نہیں۔ بار بار ایک ہی تاریخ دہرانے کی بجائے ایک تربیت کی ضرورت ہے ماضی سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان عوامی مقبولیت میں سرفہرست ہیں۔ قوم آپ کو سنتی ہے تقلید کرتی ہے۔ اس طرح سے آپ پر بہت بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ فراخ دلی کا مظاہرہ کریں۔ جب حکومت میں تھے تو اداروں لے احترام کی بات کرتے تھے۔ آج بھی اپنے کارکنوں کو اداروں کے احترام کا ہی سبق دیں۔

جمہوری معاشرے میں آپ کو اپنے مخالفین کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اداروں میں بہت کمزوریاں ہیں لیکن یہ بتدریج درست ہوں گی لیکن اداروں پر تنقید کر کے قوم میں احترام کو کم نہ کریں۔ آپ کو یاد ہے جب آپ کرین سے گرے اور ہسپتال داخل تھے تو آپ کے سیاسی حریف نواز شریف خود آپ کی عیادت کے لیے پہنچے لیکن حکومت میں آنے کے بعد آپ لیڈر آف اپوزیشن سے ہاتھ ملانا بھی توہین سمجھتے رہے۔ یہ حب الوطنی نہیں غرور و تکبر ہے۔

آپ نے اپنے حریفوں پہ جلسوں میں الزامات لگائے لیکن عدالت میں معافی مانگنی پڑی۔ میرے جیسے آپ کے بہت سے چاہنے والے آپ کے اس رویے سے اختلاف کرتے ہیں۔ آپ کی ہی اسمبلی میں جب جاوید ہاشمی نے نواز شریف سے اختلاف کے باوجود احترام کی بات کی تو آپ اور آپ کے مقلدین نے جو ہتک آمیز رویہ اپنایا وہ شرمناک ہے۔ بطور لیڈر اس وقت قیادت اور مقبولیت آپ کے ساتھ ہے۔ لہٰذا قوم کی تربیت بھی آپ کا فرض ہے۔ احترام کے دائرے میں رہ کر اختلاف کیجئے۔ سندھ ہاؤس اور ہارس ٹریڈنگ کے ناسور کے خلاف پوری قوم آپ کے ساتھ ہے۔ ان پر قانونی چارہ گوئی کیجئے۔ حکومت کا کام ہے کہ ان حقائق کو سامنے لائے۔ سیاسی تقسیم سے قوم کو چھٹکارا دلائے۔ نفرت کے بیج بہت ہوچکے ان میں مزید اضافہ مت کیجئے

Facebook Comments HS