عمران خان جواب دیں


کوئی عزت دار شخص اس کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں نکلنے کا تصور نہیں کر سکتا۔ یہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ہی خاصہ ہے ساڑھے تین سال پر محیط بد ترین پرفارمنس کے باوجود وہ مخالفین کو آگے لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ ماننا چاہیے کہ پی ٹی آئی پراپیگنڈے کی بے مثال قوت سے مالا مال ہے اور اسی قوت کے بل بوتے پر اپنے اقتدار کا عرصہ مخالفین کی لوٹ مار کی جھوٹی سچی داستانیں سنا کر گزارتی رہی اور اقتدار سے باہر نکل کر اب غیر ملکی سازش کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔

میرے خیال میں تحریک انصاف کے کسی نئے پراپیگنڈے پر یقین کرنے سے قبل عوام کو یہ جواب مانگنا چاہیے کہ ان کی حکومت کی کارکردگی کیسی رہی، تحریک انصاف نے اپنے منشور میں جو وعدے کیے تھے حکومت ملنے کے بعد ان میں سے کتنے وفا ہوئے اور کتنے ادھورے رہے؟ تحریک انصاف کا سب سے بڑا وعدہ احتساب اور شفافیت کا تھا۔ اس وعدے کا حشر سب کے سامنے ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ آئی تھی جس میں تحریک انصاف کی حکومت کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے کرپٹ حکومت قرار دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق مختلف وفاقی وزارتوں میں گھپلوں کی خبریں بھی ہر شخص نے پڑھی ہوں گی۔ آٹے چینی کی مصنوعی قلت اور بعد ازاں ان کے نرخوں میں دگنے سے زائد اضافہ بھی تحریک انصاف کی حکومت کی کرپشن و نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان اشیاء کے بحران پر خود عمران خان کے احکامات پر ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس کی انکوائری میں تحریک انصاف کے بہت سے بڑے نام اور عمران خان کے انتہائی قریبی لوگ قصوروار قرار پائے مگر کسی ایک کے خلاف قابل ذکر کارروائی نہ ہوئی۔

میں عمران خان کے دور اقتدار میں بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ شخصی ایمانداری کی داستانیں بھی جھوٹ ہیں۔ ابھی اقتدار سے نکلے چند دن نہیں گزرے کہ توشہ خانے سے ہار اور گھڑیاں چرانے کی کہانیاں سامنے آ گئی ہیں، مزید تفصیلات سامنے آئیں تو انشاءاللہ ان کے چاہنے والے بھی کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔ یہ بھی دعوی تھا کہ احتساب کے نظام کو شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے گا۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ محض اخباری خبروں کی بنیاد پر تحریک انصاف کے دور میں کئی ماہ بند رکھے گئے کوئی کیس مگر ثابت نہ ہو سکا۔

بی آر ٹی کی لاگت و مدت کئی گنا بڑھ گئی مگر عمران خان کے ہاتھوں بلیک میل ہونے والا چیئرمین نیب اس جانب سے آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔ اسی طرح نیب نے خود کہا کہ بلین ٹری منصوبے میں 462 ملین کی کرپشن ہوئی مگر اس اسکینڈل پر بھی نیب نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کالم کی گنجائش محدود ہے ورنہ اس کے علاوہ بھی کئی مثالیں نظام احتساب کی غیر جانبداری و شفافیت عیاں کرنے کے لیے موجود ہیں۔ ہر کوئی جان چکا ہے کہ گزشتہ عرصے میں نیب صرف حکمران جماعت کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور اس کی قیادت کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ یہ صرف الزام نہیں بلکہ سپریم کورٹ ایک سے زائد بار کہہ چکی ہے کہ نیب کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ سیاسی جماعتوں کو توڑ کر مصنوعی قیادت تیار کی جا سکے۔

معیشت تحریک انصاف کی حکومت میں تباہی کے جس بام عروج پر پہنچی اس کی ملکی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ کوئی ایک بھی معاشی ہدف تحریک انصاف کی حکومت حاصل نہیں کر سکی۔ ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی بھرمار کے باوجود ہر سال حکومت ٹارگٹ کے مطابق محصولات جمع کرنے میں ناکام رہی۔ شرح نمو بھی اسی دور میں ملکی تاریخ میں پہلی بار منفی سے بھی اتنی کم ہو گئی کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد کسمپرسی کے ایام میں بھی نہیں تھی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت تاریخ کی سب سے بلند سطح پر ہے اور اس وقت سب سے زیادہ ٹیکس اس پر لیا جا رہا ہے۔

مہنگائی کے ہاتھوں عوام کا جینا محال ہے آٹے کی قیمت 38 سے بڑھ کر 76 اور چینی 53 سے 110 تک پہنچ چکی ہے۔ اس قلیل مدت میں بیروزگاری کا بھی ریکارڈ قائم ہو چکا تمام آزاد ماہرین معیشت کے مطابق کم از کم پانچ سے آٹھ ملین لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ دیہاڑی دار غریب آدمی فاقوں پر مجبور ہو چکے ہیں کوئی بڑے سے بڑا ماہر معیشت یومیہ سات سو روپے کمانے والے کے گھر کا ماہانہ بجٹ بنا کر دکھا دے۔ ادویات کی قیمتیں ملکی تاریخ میں اتنی بار کبھی نہیں بڑھی جتنی تحریک انصاف کے دور میں بڑھی ہیں۔

قرض بھی سب سے زیادہ اسی دور حکومت میں لیا گیا۔ سوال پوچھا جائے تو اب تک ایک ہی جواب ملتا ہے کہ یہ قرض پچھلے قرضوں کا سود ادا کرنے کی خاطر حاصل کیا اور کچھ قرض روپے کی قدر گرنے سے بڑھا۔ یہ بات درست ہے تو پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ پچھلی حکومتیں قرض حاصل کر کے پیسہ گھر لے گئیں۔ حکومت نے قرضوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا تھا، قرضوں کے معاملات میں کوئی گڑبڑ تھی تو اس کے ذمہ داران کیوں نہیں پکڑے گئے اور اس انکوائری کے نتیجے کے بارے میں عوام کو کیوں نہیں بتایا گیا۔ اس سوال کا جواب بھی ملنا چاہیے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کوئی میگا پراجیکٹ بھی شروع نہیں کیا، پہلے سے جاری ترقیاتی کام بھی بند کر دیے پھر بھی قرض میں ریکارڈ اضافہ ہو گیا اب اسے عمران خان اور ان کے وزراء کی چوری کہنے کی اجازت ہے؟

پولیس اصلاحات کے وعدے کا جو حشر ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کسی کی جان مال آبرو محفوظ نہیں رہی۔ پولیس اصلاحات کے لیے عمران خان ناصر درانی کو لے کر آئے تھے چند ہی روز میں اس ایماندار شخص نے ہاتھ کیوں اٹھا لیا اس کی وجہ عمران خان بتانا پسند فرمائیں گے؟ پھر جنوبی صوبے کے نام پر جو مذاق ہوا اس پر بات کرنا ہی وقت کا ضیاع لگتا ہے۔ خارجہ محاذ پر تحریک انصاف کی حکومت کا حال سب سے پتلا رہا۔

اچھے برے اور ہر آڑے وقت کے آزمودہ عرب دوست ممالک بھی نا تجربہ کار سفارت کاری اور غیر محتاط بیان بازی کی وجہ سے وطن عزیز سے نالاں ہو گئے۔ امریکی سازش کی بات کرنے سے قبل عمران خان یہ بتا دیں سی پیک پر کام بند کر کے انہوں نے کس کو خوش کیا تھا اور تین سال کی بھرپور منتوں کے باوجود ان کے چہیتے وزراء کا چین نے اپنی سرزمین پر داخلہ کیوں بند رکھا؟ بھارت کو گزشتہ بہتر سال میں جس کام کا حوصلہ نہیں ہوا وہ تحریک انصاف کے دور میں کر گزرا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اسی دور میں ہوا اور تحریک انصاف کی حکومت اس پر ردعمل دینے میں کیوں ناکام رہی؟ عمران خان یہ بھی بتا دیں تو ان کی مہربانی ہوگی کہ اپنا اقتدار ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر انڈیا کی مدح سرائی کشمیریوں کے لہو سے غداری نہیں؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments