سادگی اپنی، اوروں کی عیاری بھی دیکھ


پاکستان کو ایسا ہمسایہ ملا ہے کہ اس کی دوستی پر اعتبار نہیں اور دشمنی میں مزہ نہیں۔ اس میں نہ خلوص ہے کہ ایک شریف کا دل موہ لے اور نہ مردانگی کہ ایک ”بہادر“ سے بے ساختہ داد تحسین لے۔ اس ہمسائے کے منہ تو رام رام ہے لیکن بغل میں چھری ہے، آزادی سے پہلے اس چھری کا بے محابا استعمال ہوتا رہا تھا، آزادی کے بعد یہ چھری، ایسی بے دریغی سے چلتی رہی کہ اس کا بہایا دریائے خون دونوں آزاد ہمسایوں میں دائمی حد فاصل بن گیا۔ برصغیر میں آزادی کی پو پھٹی تو غلامی کی شب تار سے دو آزاد ممالک نمودار ہوئے۔ برصغیر کا وہ حصہ جو راجوں اور مہاراجوں کی ریاستوں پر مشتمل تھا، ان میں شامل نہ تھا، یہ چھوٹی بڑی ریاستیں جن کی تعداد چھ سو کے لگ بھگ تھی، برطانوی حاکمیت کے تحت تھیں۔ جب ان کی حاکمیت ختم ہو گئی تو سوال پیدا ہوا کہ ان کا کیا ہو، 25 جولائی کو انہیں برصغیر کے انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن، یہ مشورہ دے چکے تھے کہ ان کا مفاد اس میں ہے کہ وہ دونوں سے ایک ملک سے باقاعدہ الحاق کر لیں اور ایسا کرنے میں جغرافیائی، معاشی اور معاشرتی ملحوظات پیش نظر رکھیں۔

بھارت کے پاس انگریز وائسرائے تھا اور انگریز کا ریاستوں میں بہت اثر دخل تھا، اس وائسرائے کی مدد سے بیشتر ریاستوں کو الحاق پر مجبور کر لیا گیا، البتہ تین ریاستیں ایسی رہ گئیں جن کا الحاق سنگین نزاع کا باعث بن گیا یہ ریاستیں تھیں، جونا گڑھ، حیدرآباد اور کشمیر۔ بھارت کا رویہ معقول ہوتا تو کسی قسم کا تنازع برپا نہ ہوتا، ہر چند بھارت سے صفائی معاملہ کی توقع عبث تھی، پاکستان اس خوش فہمی میں رہا کہ معاملہ صلح و صفائی سے طے ہو جائے گا۔

تاآنکہ بھارت اپنا سارا لاؤ لشکر لے کر اور بغیر اعلان جنگ کیے اس سرحدوں میں گھس آیا، بہر کیف جونا گڑھ کے مسلمان نواب نے یہ صورت قبول نہ کی کہ بھارت سے پہلے دن سے ہی الحاق کر لیا جائے، اس نے 15 اگست کو پاکستان سے استقرار کا معاہدہ کیا اور ایک مہینے بعد یعنی 15 ستمبر کو پاکستان سے الحاق کر لیا۔ بھارت کی نیت صاف ہوتی تو شاید یہ صورت پیدا نہ ہوتی۔ 23 ستمبر کو گورنر جنرل نے پاکستان کے گورنر جنرل کے نام احتجاجی تار میں جونا گڑھ کو بھارت کا علاقہ قرار دیا، اس میں تجویز دہرائی گئی کہ بھارت، ریاست کی حکومت سے مل کر استصواب کرانے کے لیے تیار ہے، گویا بھارت کا موقف یہ تھا کہ جونا گڑھ اس سے الحاق کرے اور بھارت اپنی نگرانی میں استصواب کرا کے دنیا کو دھوکا دینے کے لیے اس پر عوامی پسند کی مہر لگوا لے۔

تجویز دینے کے باوجود بھارت نے انتظار نہیں کیا بلکہ جونا گڑھ پر حملہ کر کے ریاست پر کشمیر کی طرح غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ یہ سوال واضح طور پر سامنے آ گیا تھا کہ جونا گڑھ، حیدر آباد اور کشمیر کی ریاستوں کے الحاق کا فیصلہ عوام کو کرنا چاہیے یا حکمرانوں کو۔ یہ مسئلہ آپس میں طے کیا جاسکتا تھا، بھارت نے نہ محض اس سے گریز کیا بلکہ تینوں ریاستوں میں اس نے فوج کے زور پر ہی فیصلہ کیا۔ بھارت تو ہر حال میں ریاستوں کا الحاق اپنے ساتھ چاہتا تھا، جہاں ایسا نہیں ہوا، وہاں اس نے زبردستی الحاق کرا لیا، اسے عوام کی منشا کا کوئی لحاظ نہ تھا، عوام کو تو وہ دنیا کو فریب دینے کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا، یہی وجہ ہے کہ اس کا اصرار تھا کہ ریاستیں پہلے سے ہی اس سے الحاق کر لیں اور پھر وہ اپنی مرضی سے استصواب کرائے، بھارت سے الحاق کے بعد بھارت ہی کی نگرانی میں کرایا ہوا استصواب بھارت کے خلاف کیسے جاسکتا تھا۔

وہ ایسا ہی اصول پرست ہوتا تو جونا گڑھ کے معاملہ میں پاکستان سے مذاکرات کے ذریعے مفاہمت کرتا اور فوج کے ساتھ یلغار نہ کر دیتا اور پھر یہ محض اتفاق نہیں کہ اس نے جونا گڑھ میں فوج استعمال کی، حیدرآباد میں اور کشمیر میں بھی اس نے یہی کچھ کیا اور فوجی کارروائی کر کے دونوں ریاستوں پر قبضہ جما لیا۔ بھارت نے تینوں جگہ مکاری سے کام لیا اور پاکستان، اپنی عادت سے مجبور امن پسندی کا مظاہرہ کرتا رہا اس لیے برصغیر میں جنگ کے شعلے بھڑکانے سے احتراز کیا اور دفاع کو چنا، کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا اور ہے۔ کسی قسم کے لیے جان کی بازی لگا دینے کے لیے اس سے بڑی وجہ جواز نہیں ہو سکتی تھی، کوئی اور قوم ہوتی تو کشمیر جیسے تنازع کے لیے برسوں پہلے ہر قسم کی طرح ڈال چکی ہوتی۔

پاکستان نے امن کا راستہ اختیار کر کے دوہرا دھوکا کھایا، ایک طرف اس نے یہ فرض کر لیا کہ آزاد بھارت تہذیب، شائستگی اور امن کی راہ اختیار کرے گا اور دوسری طرف یہ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ حق و انصاف اٹھے گا اور کشمیر کے منصفانہ حل میں مخلصانہ حل میں مدد دے گا، دونوں مفروضے غلط تھے، بھارت اور اقوام متحدہ دونوں نے پاکستان کو دھوکے میں رکھا اور بڑی دیدہ دلیری سے، پاکستان دھوکہ کھاتا رہا، بھارت نے ستمبر 65 میں حملہ کر دیا، اس کھلی جارحیت کی مذمت نہ تو اقوام متحدہ نے کی اور نہ اس کی رکن بڑی طاقتوں نے۔

الٹا ان کی کوشش یہ ہو گئی کہ محاذ جنگ پر بھارت نے جو شکست کھائی ہے اسے سیاسی محاذ پر فتح میں تبدیل کیا جائے۔ 71 میں بھارت نے وطن فروشوں کے ساتھ مل کر پاکستان کا ایک بازو الگ کر دیا۔ پاکستان کو دھوکا دیا جاتا رہا اور یہ دھوکا آج بھی دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی غیور عوام نے مودی سرکار اور آر ایس ایس کی منظم و مذموم سازشوں کو اپنی کھلی آنکھ سے دیکھ لیا ہے کہ اب نہ تو کشمیر کے نام پر کوئی بھی انہیں دھوکا دے سکتا ہے اور کسی بھی ملک کے نام پر۔

اب نہ بھارت کی نیت پر کسی بھی پاکستانی کو اعتماد ہے اور نہ اقوام متحدہ کی ضمانت پر یقین کر سکتا ہے، کشمیر اور پاکستان دونوں نے دیکھ لیا ہے کہ اس تنازع کا حل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ غنیمت یہ ہے کہ ریاست نے اپنی عسکری قوت میں اضافہ اور اتنی تیاری کرلی ہے کہ اس وقت انہیں کسی سپر پاور کے جنگی بیڑے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، جس وقت بھارت پوشیدہ مکاری سے کھلی جارحیت پر اترنے کی کوشش بھی کرے گا تو اسے دنداں شکن جواب دیا جا سکے گا۔

Facebook Comments HS