عمران حکومت کا اختتام


بالآخر متحدہ اپوزیشن تحریک انصاف کی حکومت کو نمبرز گیم میں مات دے کر اقتدار سے الگ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ مگر اس طرح نمبرز پورے پورے کرتے کرتے مسلم لیگ نون بڑی خاموشی سے اپنے بیانیہ سے الگ ہو گئی جو ”ووٹ کو عزت دو“ اور سویلین بالادستی کا تھا۔ نواز شریف کے مخالفین کا یہ موقف سچ ثابت ہوا کہ یہ بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کو انڈر پریشر کر کے اپنے لئے ریلیف لینا تھا اور یہ ریلیف صرف مقدمات میں نرمی کی صورت میں نہیں ملا بلکہ پورے کا پورا اقتدار شریف فیملی کی جھولی میں آن گرا ہے۔

شہباز شریف کو پچھلے تقریباً پانچ سال کے صبر اور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے انتہائی انکساری اور عاجزی کا بھرپور صلہ مل چکا ہے۔ یہ دراصل شہباز شریف کے بیانیہ کی جیت ہوئی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کو ایک بالاتر قوت تسلیم کر کے ان کے آگے سر خم کر کے حکومت کو اس طرح چلانا ہے کہ معیشت کو بتدریج مضبوط بنا کر لوگوں کے مسائل حل کرنا ہے، جبکہ نواز شریف کا بیانیہ تھا کہ سویلین ہی بالاتر ہیں اور اپنی طاقت اداروں سے منوا کر جمہوریت کی اصل روح کے مطابق ملک کو چلانا ہے۔

نواز شریف کا نہ صرف بیانیہ غائب ہو چکا ہے۔ وہ اور ان کی بیٹی بھی خود اقتدار میں براہ راست شامل نہیں ہو پائے اب وہ باہر بیٹھ کر حکومت کی ڈوریاں ہلائیں گے دیکھنا پڑے گا اس طرح شریف فیملی کی دونوں شاخوں میں کس حد تک ہم آہنگی رہتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وہ کس حد تک اپنے تعلقات معمول پر رکھ پاتے ہیں۔ ادھر لگتا ہے نواز شریف کا یہ بیانیہ اب عمران خان کے پاس آنے والا ہے۔ عمران خان کو حالیہ بحران کے دوران پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔

اس سے پہلے وہ اپنے دور حکومت میں ان منتخب نمائندوں کو نظر انداز کرتے رہے ان کی قریبی ٹیم میں غیر منتخب لوگوں کی بھاری اکثریت تھی۔ لگتا ہے وہ اپنی حکومت کو مستقبل میں لاحق خطرات کو نہیں بھانپ سکے تھے کہ ان کی حکومت کی عمارت کمزور اور ٹیڑھی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ یہ سب ان کے ایک عمدہ لیڈر ہونے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حالات کے تھپیڑوں کی بدولت اب ایک بار پھر وہ اپوزیشن رہنما کے طور پر بھرپور کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔

ان کے ناقدین کا خیال ہے ان کے اندر اپنے آپ کو بدلنے کی اور بہتر بنانے کی صلاحیت بہت کم ہے انہوں نے اپنے دور اقتدار میں جو غلطیاں کیں اور جو اپنی اچھی خاصی چلتی حکومت کے خاتمہ کا سبب بنیں اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آ بھی گئے تو پھر وہی غلطیاں دہرائیں گے۔ حالانکہ ایک اچھے لیڈر کو اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے۔ ان ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی دوبارہ اقتدار میں آئی تو ان کے یہی غیر منتخب مشیر ہوں گے جو امریکہ اور برطانیہ کی شہریت رکھتے تھے اور مشیر بننے سے پہلے تحریک انصاف کے لئے ان کی خدمات کا کہیں ذکر نہیں ملتا ہے۔

اسی طرح وہ نیب کو مخالفین کے پیچھے لگائیں گے، عثمان بزدار پھر ان کا وزیراعلی کا انتخاب ہوں گے۔ کچھ لوگوں کو اس طرح کھلی چھٹی ہوگی کہ وہ جس طرح من چاہے وارداتیں ڈالیں اور جب حکومت جاتی دکھائی دے پھر بیرون ملک فرار ہو جائیں۔ اس کے برعکس ان کو دوسری پارٹیوں سے بھی ڈائیلاگ کرنا چاہیے تھا اپنے اقتدار کا فائدہ اٹھا کر مزید سیاسی اتحادی بناتے نہ کہ اپنے انداز بیان سے لوگوں کو اپنا دشمن بنا لیتے۔ لوگوں کی ایک خاص کلاس جو ان کے فین ہیں وہ تو ان کی خاطر سڑکوں پر بھی آئے گی اور شاید ڈنڈے بھی کھا لے مگر اقتدار حاصل کرنے کے لئے ان کو عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف کھینچنا ہو گا اور یہ وہ عوام ہے جو مہنگائی سے متاثر ہوتی ہے جن کو عدل و انصاف ملنا مشکل ہوتا ہے اور جن کو روزگار چاہیے ہوتا ہے۔

عمران خان عوام کی اس بڑی تعداد کو اپنے تین سال اور آٹھ ماہ کے اقتدار کے دوران اپنے سے مایوس کر چکے ہیں اور مہنگائی میں مسلسل اضافے اور تھانہ کچہری کے نظام کو بدلنے میں ان کی ناکامی نے ان کی حکومت کو غیر مقبول بنا دیا جس سے اسٹیبلشمنٹ پر پریشر پڑا اور تعلقات میں دراڑیں آنا شروع ہو گئیں۔ اس کے بعد ایک حساس ادارے میں تعیناتی کے مسئلہ پر انہوں نے اپنے طاقتور اتحادیوں کو ناراض کر دیا۔ جس کے بعد اداروں نے نیوٹرل ہونے کا اعلان کر دیا اپوزیشن نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایک بھر پور سیاسی دنگل کے بعد ان کو حکومت سے باہر کر دیا گیا۔

نہ صرف ان کے اتحادیوں نے اس دوران ان کو چھوڑا بلکہ ان کے اپنے بیس سے اوپر ممبران ان سے منحرف ہو گئے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ایک تو حکومت بنانے کے لئے کچھ ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیے گئے جو اپنے حلقوں میں طاقتور حیثیت کے حامل تھے ان کو پتہ ہے ان کی کامیابی تحریک انصاف کے ووٹ کی مرہون منت نہ ہے اس طرح کچھ ممبران آزاد حیثیت میں جیت کر آئے تھے اور ان کو پارٹی میں شامل کیا گیا تھا مگر عمران خان ان کو اہمیت دینا بھول گئے اور ان میں کافی ممبران پہلے سے ناراض تھے پھر ان کو منانے کی بجائے ان کو بک جانے اور پیسے لے کر وفاداریاں تبدیل کرنے کے الزام لگائے گئے۔

لیکن اس طرح اقتدار سے اچانک بے دخلی پر عمران خان کو سیاسی فائدہ بھی ہوا ہے جو کارکن ان سے مہنگائی اور دوسرے معاملات میں ناراض تھے اب دوبارہ ان کی حمایت کے لئے سرگرم ہیں ایک طرح سے وہ سیاسی شہید بھی بن سکتے ہیں امریکی سازش کے الزام کو کم از کم ان کی اپنی پارٹی پی ٹی آئی نے لگتا ہے حقیقت سمجھ لیا ہے۔ اور ان کو ملکی آزاد خارجہ پالیسی کا چیمپئن بننے کا موقع ہاتھ آ چکا ہے مگر کیا نئے الیکشن سے پہلے پورے ڈیڑھ سال تک یہ جذباتی نعرے ان کی مقبولیت برقرار رکھیں گے یا ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ہونے والے کرپشن کے مبینہ مقدمات ان کی اس مقبولیت کو ختم کر ڈالیں گے یہ آئندہ ایک دو ماہ میں صورتحال واضح ہو جائے گی اس طرح مسلم لیگ نون میں مریم نواز کیمپ جلدی الیکشن چاہتا ہے اور شہباز کیمپ پورے ڈیڑھ سال حکومت چلانا چاہتا ہے۔ اس طرح دیکھنا ہے وزارتوں اور عہدوں کی تقسیم پر پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتیں راضی رہتی ہیں۔ بہرحال یہ طے ہے کہ آئندہ چند ماہ سیاسی طور پر خاصے ہنگامہ خیز ہوں گے۔

Facebook Comments HS