میٹاورس


ڈی سینٹرا لینڈ میں ٹہلتے اوتار کا ایک منظر۔ یہ تصویر کمپیوٹر مانیٹر سے لی گئی ہے جس میں عمیق تاثرات کو نہیں دیکھا جا سکتا

اپنی الگ دنیا بنانے اور بسانے کا خواب کم و بیش ہر انسان میں ہی پایا جاتا ہے۔ فکری طور پر اب تک مفکر، لکھاری اور ہدایتکار کسی دوسری دنیا کے تخیلات کو لفظوں اور مناظر میں پرو کر قارئین، سامعین اور ناظرین کو پیش کرتے تھے۔ یہ پیشکش سامعین کے ذہنوں پر تو نقش چھوڑتی تھی مگر حقیقی زندگی میں براہ راست اس کا اثر نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پیش کردہ دنیا کا حقیقی دنیا سے کسی قسم کا تعامل اور اس کے پس منظر میں کوئی تبدیلی بھی ممکن نہ تھی۔

میٹاورس شاید اسی جہد کو اگلی سطح تک پہنچانے کا نام ہے۔ یہ ایک متبادل دنیا ہے جو کسی شخص کی حقیقی زندگی کا استعارہ ہو سکتی ہے۔ ایک اور تعریف کے مطابق یہ ایک نیاء مواصلاتی نظام ہے۔ حقیقت میں یہ کیا ہے، یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ سائنسدان اور مفکر بھی اب تک اس کی متفقہ تعریف نہیں بیان کر سکے۔ ان کے مطابق یہ ایسا ہی ہے جیسے نصف صدی پہلے کوئی انٹرنیٹ کی تعریف بیان کرے۔ عام سمجھنے کے لئے یہ کہا جا سکتا ہے کے میٹاورس ایک مجازی دنیا کا نام ہے جسے حقیقی دنیا کی طرح جیا جا سکتا ہے اور اس مجازی دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیاں حقیقی زندگی پر اثر انداز بھی ہو سکتی ہیں

میٹاورس کی مجازی دنیا میں نمائندگی کے لئے صارف سے تشبیہ رکھتے اوتار استعمال ہوتے ہیں۔ میٹاورس کی حالیہ تشکیل کے مطابق اس کے تین مراحل ہیں : (1) ڈیجیٹل ٹون، (2) ڈیجیٹل نیٹو اور (3) جسمانی۔ مجازی حقیقت کا بقائے باہم۔ ڈیجیٹل ٹون جسمانی دنیا اور چیزوں کے معیاری ماڈل کا نام ہے۔ یہ اپنے جسمانی ٹون کے افعال، خصوصیات اور حرکات کا عکس ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل اور جسمانی ٹون کا تعلق ڈیٹا سے بندھا ہوتا ہے اور ایک میں تبدیلی دوسرے میں تبدیلی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یہی ڈیجیٹل ٹون جسمانی۔ مجازی حقیقت میں باہمی تعامل پیدا کرتی ہے۔ اوتار اور ڈیجیٹل ٹون مل کر میٹاورس کی مجازی دنیا بناتے ہیں جبکہ ڈیجیٹل نیٹو ایسی ہے بہت سی مجازی دنیاؤں کا مرکب ہے

اب سوال ہے کے میٹاورس کی دنیا کیسے بنتی ہے۔ مواد بنانے والے ڈیجیٹل دنیا میں ڈیجیٹل چیزیں تخلیق کرتے ہیں۔ ان ڈیجیٹل تخلیقات کا جسمانی دنیا سے تعلق آگمنٹڈ ریلیٹی سے جوڑا جا سکتا ہے یا انہیں حقیقی دنیا سے تعلق کے بغیر ورچوئل ریلیٹی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ (آگمنٹڈ اور ورچوئل ریلیٹی کے بارے میں مزید معلومات کے لئے پچھلی تحریر سے رجوع کریں (۔ میٹاورس کی دنیا آزادی سے خود کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صارف اگر ایک جسمانی اور مجازی دنیا کا حصہ ہوں تو بیک وقت اپنی سرگرمیوں کو محسوں کر سکتے ہیں۔ نظریاتی طور پر لاتعداد صارف میٹاورس میں بہت سی دنیاؤں کا حصہ ہو سکتے ہیں

میٹاورس کے حالیہ ویژن کے مطابق یہ نظام اور ٹیکنالوجی کا مرکب ہے۔ نظام کے بنیادی جزو ’فرد‘ کی طرح میٹاورس کا بنیادی جزو اوتار ہیں۔ یہ اوتار ایک ڈیجیٹل معاشرے کا حصہ ہیں جس میں حقیقی دنیا جیسے ادارے اور نظام موجود ہیں۔ اس نظام کو چند منتخب تخلیق کار اوتار کے ذریعے سے چلایا جاتا ہے۔ ایک مجازی معیشت بھی اس نظام کا حصہ ہوتی ہے جس کی کرنسی کو حقیقی کرنسی کے ساتھ تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ میٹاورس کے نظام میں حقیقی دنیا کی طرح ہر اوتار سماجی معیار، قوانین اور ضابطے کا پابند ہوتا ہے اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔

اس طرح یہ نظام ایک خودکار دنیا کو چلاتا ہے۔ ٹیکنالوجی اس دنیا کو صارف سے ملانے والے پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں آگمنٹڈ اور ورچوئل ریلیٹی ٹیکنالوجی اہم ہیں جو صارف کا تعامل میٹاورس کی دنیا سے جوڑتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں ترقی اور جدت عام زندگی میں میٹاورس کے استعمال کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اس کے بعد کمپیوٹر ویژن، مصنوعی ذہانت، بلاک چین، روبوٹس، نیٹ ورک اور کلاؤڈ ٹیکنالوجیز میٹاورس کو چلانے میں کام آتی ہیں

میٹاورس نئی ٹیکنالوجیز اور دنیاؤں کے ساتھ ساتھ ایک نئی معیشت کو بھی جنم دے رہی ہے۔ 2021ء میں میٹاورس کا کاروباری حجم 64 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھا جو 2025ء تک دس کھرب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس میں اضافہ دنیا کی بڑی اور مایہ ناز کمپنیز کی فعال سرمایہ کاری کے مرہون منت ہے۔ اسی عزم کے نتیجے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ نے اپنا نام بدل کر ’میٹا‘ رکھا تھا۔ ان کے ویژن کے مطابق میٹاورس سماجی رابطوں کا ارتقا ہے۔

منافعے کے اعتبار سے کمپنیز کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں۔ بہت سے سٹارٹ اپس بند ہو چکے ہیں جبکہ میٹا سے منسلک ریلیٹی لیب کو 2021ء میں 10 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ لیکن تجارت کے لئے میٹاورس میں بہت سے مواقع موجود ہیں۔ کرپٹو کرنسی میٹاورس میں لین دین کا کلیدی ذریعہ ہیں۔ ’این ایف ٹی‘ کسی بھی جسمانی یا ڈیجیٹل چیز کی ملکیت کے ریکارڈ کا نام ہے۔ یہ بھی میٹاورس میں لین دین کے معاملات میں استعمال ہوتی ہیں۔ 2021 میں ’این ایف ٹی‘ سال بھر کے سب سے اہم لفظ ہونے کا اعزاز جیت چکا ہے۔


کرپٹو ووکسل کی دنیا میں ایک کاروباری مرکز

اس وقت میٹاورس میں موجود مجازی دنیاؤں میں ’دی سینڈباکس‘ ، ’ڈی سینٹرا لینڈ‘ ، ’کرپٹو ووکسل‘ ، ’ارتھ 2‘ ، ’سپر ورلڈ‘ اور ’وائلڈ ورلڈ‘ وغیرہ مشہور ہیں۔ ان میں کوئی بھی اپنا اوتار بنا کر جا سکتا ہے اور کمپیوٹر سکرین یا ’ایچ ایم ڈی‘ آلے کے ذریعہ ان سے تعامل پیدا کر سکتا ہے۔ صارف وہاں گھوم پھر سکتے ہیں، اپنے اوتار میں تبدیلیاں کر سکتے ہیں، اپنے گھر اور کاروبار کے لئے جگہ خرید سکتے ہیں، دوسرے صارفین کے ساتھ بات چیت اور چیزوں کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔

صارف ان دنیاؤں میں ہونے والے کنسرٹ میں حصہ لے سکتے ہیں اور نشر کیے جانے والے کھیلوں کے مقابلے دیکھ سکتے ہیں۔ ان دنیاؤں میں اوتار، جائیداد، کپڑے، ٹوپی، جوتے سمیت بہت سی چیزیں کاروبار کے لئے موجود ہیں۔ جائیداد کا کاروبار میٹاورس میں بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان ورچوئل زمینوں کی قیمتیں 500 فیصد اس روز بڑھ گئیں جب ’فیس بک‘ نے اپنا نام ’میٹا‘ رکھا۔ ہر دنیا میں حقیقی دنیا سے ملتے جلتے شہر، کاروباری مراکز، پارک، گھریلو سکیمیں اور اسٹیڈیم وغیرہ بنائے گئے ہیں۔ نومبر 2021 میں ڈی سینٹرا لینڈ میں ایک پرائم جگہ پر واقع پلاٹ چوبیس لاکھ ڈالر میں بکا۔ بہت سے برانڈ اور کمپنیز نے بھی کاروباری مراکز میں اپنی جگہیں خرید رکھی ہیں جبکہ چند مشہور شخصیات نے بھی ان مجازی دنیاؤں میں اپنے گھر خرید رکھے ہیں


دی سینڈباکس میں امریکی ریپر اور سنگر ’سنوپ ڈاگ‘ کا پلاٹ

میٹاورس کے ناقدین کی نظر میں یہ ایک ناقابل عمل منصوبہ ہے۔ مفکر اور سائنسدان اس ضمن میں کئی مسائل اور وجوہات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اول تو میٹاورس ایک تیس سال پرانا تصور ہے جس میں اب تک کوئی خاطر خواہ بہتری یا پیشرفت نہیں ہوئی۔ یہ ایک کارٹونوں سے گھلنے ملنے کا منصوبہ ہے جو عام لوگوں کی حقیقی زندگیوں میں اپنی جگہ بنانے سے قاصر رہے گا۔ آج کل کی تیز رفتار زندگی میں کسی کے پاس خاطرخواہ وقت نہیں کے وہ حقیقی زندگی کی ذمہ داریاں، مسائل اور پریشانیاں چھوڑ کر ایک مجازی زندگی کو بھی ساتھ جینا شروع کردے۔

کچھ لوگ اس بات کے حامی ہیں کے میٹاورس میں حقیقی دنیا کی نقل تیار کرنی چاہیے اور اپنی حقیقی زندگی کے فیصلے اس مجازی دنیا میں لے کر ان کے اثرات دیکھنے چاہئیں۔ یوں یہ ٹیکنالوجی انسانیت کی بھلائی کے بھی لئے استعمال ہو سکتی ہے۔ کچھ سائنسدانوں کے مطابق میٹاورس ایک تصور ہی رہے گا کیوں کے اس کو حقیقت بنانے کے لئے جو ٹیکنالوجی چاہیے وہ اگلی تین سے چار دہائیوں میں دستیاب ہونے کے امکانات شاذ ہیں۔ مفکروں کے مطابق ایسی ٹیکنالوجیز اور مجازی دنیا انسان کے اندر کے خالی پن کو مزید تقویت دے گی۔

یہ ایک سرمایہ کاری نظام کا چکمہ ہے جس کے ذریعہ ہمیں ان چیزوں کو خریدنے اور استعمال کرنے کی طرف مائل کیا جاتا ہے جن کی ہمیں ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ایک ہجوم کا پاگل پن ہے جو ہمیں کسی بڑے بحران کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔ حقیقت میں یہ کیا ہے اور کیسے ہماری زندگیوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا

Facebook Comments HS