جب ہر عطا اس ذات کی طرف سے ہے تو پھر ہمیں غرور اور تکبر کس بات کا ہے؟
سفید قمیض شلوار میں ملبوس اس آدمی کو میں نے ایک سفید لینڈ کروزر کے ساتھ ٹیک لگائے دیکھا اور شام کے ڈھلتے سائے جیسا ایک سایہ اس کے چہرے پر بھی تھا۔ وہ شاید کسی کا انتظار کر رہا تھا پھر اچانک سے سامنے والے ہوٹل سے ایک گارڈ پانی کی بوتل لایا اور اس ڈرائیور کو دی۔ افطاری کے وقت پے اس مہنگے ہوٹل کے باہر ایسے اور بھی ڈرائیور تھے جو اپنے مالکوں کا انتظار کر رہے تھے جو افطار اسپیشل ڈیلز سے لطف اندوز ہونے آے تھے۔
میں نے اپنے فون سے اس کی تصویر بنا لی جو بعد میں یہ سوچ کہ ڈیلیٹ کی کہ بغیر اجازت کسی کی تصویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنا غلط بات ہے۔ مگر جو ہم لوگ ان مجبور لوگوں کے ساتھ کر رہے ہیں وہ درست ہے کیا؟ آپ روزہ کی افطاری کے لیے آے ہو تو یہ روزہ کس کے لیے رکھا ہے اس ذات کے لیے جو کہتا ہے میں اپنے حقوق معاف کر دوں گا مگر اپنے بندوں کے نہیں کروں گا۔ ڈرائیور کا بھی تو روزہ ہو سکتا ہے۔ آپ نہیں ساتھ لے جا سکتے ہوٹل میں، نہ لے کر جاؤ مگر ان کو افطاری کے لیے باہر سے کھجور اور پانی لے دو۔
روزہ تو افطار ہو جائے ان کا۔ اکثر ڈرائیور ہوٹلوں سے آنے والی مزیدار کھانوں کی خوشبو پر گزارا کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ واپسی پر کچھ کھانا پیک کروا کے ان کے لیے لے آؤ گے تو زیادہ نقصان نہیں ہو گا آپ کا ۔ کیا یہ ہماری لاپرواہی ہے یا تکبر کہ ہم انسان کو انسان ہے نہیں سمجھ رہے۔ میرے اور آپ کے مالک نے تو جانوروں پر رحم کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمارے نزدیک انسانوں کی قدر کم ہو رہی ہے۔ ہم اپنی ذات میں جدید سے جدید تر ہوتے جا رہے ہیں بس کیوں کہ معاشرتی اور اخلاقی قدریں تو ہم کھوتے جا رہے ہیں۔
اچھا کھانا خوبصورت لباس مہنگی کار اور لگژری چیزیں رکھنا یا ان کی خواہش کرنا تکبر نہیں ہے مگر ان سب کی وجہ سے خود کو دوسروں سے افضل سمجھنا تکبر ہے۔ دوسروں کو حقیر سمجھنا تکبر ہے۔ تکبر کا تو ایک زرہ بھی جنت کا راستہ ہمارے لیے بند کر سکتا ہے۔ تکبر چاہے دولت کا ہو طاقت کا ہو رتبے کا ہو حسن کا ہو حیثیت کا ہو حسب و نسب کا ہو حتی کہ تقویٰ کا ہی کیوں نہ ہو انسان کو رسوا کرتا ہی ہے۔ اپنی عبادت تک کا تکبر تو اللہ کو نہیں پسند۔ جب کہ کچھ حضرات تو خود کو بظاہر نیک ظاہر کر کے دوسروں پر اسلام کے نام پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔
جدید دور کا تکبر بھی جدید ہے میرے جیسا گھر لباس موبائل فون کسی کا نہ ہو۔ جتنا علم میرے پاس ہے اتنا کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ جہاں سے میں کھانا کھاتا ہوں وہاں سے میرا ملازم نہیں کھا سکتا۔ یہاں تک کہ میرا ملازم میرے برابر بیٹھ نہیں سکتا چل نہیں سکتا۔ اور پتا نہیں کیا کیا۔ افسوس صد افسوس۔
بعض دفعہ انجانے میں ہم کسی کی دل آزاری کر جاتے ہیں۔ میں آپ ہم سب لوگوں سے کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ غلط ہو جاتا ہے مگر اس غلط پر قائم رہنا اور مزید اترانا تکبر ہے۔ یاد رکھیں جو مالک و رازق آپ کو سب کچھ دے سکتا ہے اس کو واپس لینے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ جب ہر عطا اس ذات کی طرف سے ہے تو پھر ہمیں غرور اور تکبر کس بات کا ہے؟


