تہذیب


ایک بڑے دانا آدمی کا بیان ہے کہ دنیا میں ایک تہذیب ایسی بھی پائی جاتی ہے جس میں کوئی تہذیب نہیں پائی جاتی۔ ان کے ہاں تہذیب سے مراد ان کے دارالحکومت اور ”اصلی دارالحکومت“ یعنی جڑواں شہروں میں پائی جانی والی ایک مشہور بیکری ہے جس کا پیزا، سموسہ، فاسٹ فوڈ اور قیمتیں مشہور ہیں۔ اگر آپ پیراڈوکسز کو مجسم انسانی اشکال میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کو دیکھ لیجیے۔

وہ دانا آدمی آج پڑا سوتا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی اور پھر بجتی چلی گئی۔ ویسے تو ہر شخص کو موبائل سائلنٹ کر کے سونا چاہیے ہم مگر پچھلے پندرہ سال سے فقط اس وہم کے مارے سائلنٹ نہیں کرتے کہ خدانخواستہ کوئی ایمرجنسی اگر ہو گئی اور کال پر آنکھ نہ کھلی تو کیا ہو گا۔ خدا کا شکر ہے آج تک ایمرجنسی نہیں ہوئی۔ لیکن ہم اپنی زندگی کے پچھلے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ خدانخواستہ اگر کبھی ایمرجنسی ہو گئی تو فقط اسی دن ہمارا فون سائلنٹ پر ہو گا اور یہ پندرہ بیس برس سے جو ہم رات دن سوتے میں ڈسٹرب ہوتے ہیں یہ رائیگاں جائے گا۔

مثلاً جوسر بلینڈر کا شیشے کا جو جگ ہوتا ہے وہ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے ہمارے جی میں آیا کہ یہ نازک ہے اگر کہیں فرش پر گر گیا تو ٹوٹ نہ جائے۔ بس اس کی حفاظت شروع کردی اور رکھنے اٹھانے میں احتیاط برتنے لگے۔ الحمدللہ خدا کے فضل و کرم سے تیسرے ہی دن فرش پر گرا اور تڑاخ ہو گیا۔ جب تک احتیاط نہ کرتے تھے بالکل ٹھیک تھا۔

تو فون کی گھنٹی بجی اور پھر بجتی چلی گئی۔ کوئی نامعلوم نمبر تھا۔ ہم کاٹ کر دوبارہ سو گئے۔ اس کا کیا مطلب ہے بھلا؟ اس کا مطلب ہے کہ جس کو بغیر سوچے سمجھے اور وقت اور شیڈول دیکھے کال ملا دی گئی ہے اگر اس نے کاٹ دی ہے تو وہ یقیناً کسی ایسی حالت میں ہے کہ بات نہیں کر سکتا۔ مگر آپ ملاحظہ فرمائیں ٹھیک دس سیکنڈ بعد یعنی کال کٹنے کے فوری بعد دوبارہ فون بجنا شروع ہو گیا دوبارہ کاٹی تو تیسری بار بجنا شروع ہوا۔

اس بار ہم نے غنودگی میں نیم وا آنکھوں کے ساتھ فون کان پر لگایا اور ہیلو بولا

”سر میں لاہور سے سارہ بات کررئی اوں کیپیٹل سمارٹ سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے۔ سر کیسے ہیں آپ؟ آپ کو بتانا چاہوں گی کہ ہمارے پاس 5 سے دس مرلہ اور ایک کنال اور کمرشل اپارٹمنٹ معمولی سی ڈاؤن پیمنٹ کے ساتھ۔ ۔“

قینچی کی طرح زبان چلتی جا رہی تھی۔ میرے اندر کا جوالہ مکھی ابل ابل کر نقطہ کھولاؤ پر پہنچ رہا تھا۔ اس سے قبل کہ میرے منہ سے کچھ ایسا ویسا نکلتا میں نے بغیر کوئی لفظ منہ سے نکالے کال کاٹ دی۔

ہم، آپ سب کو کچھ اپنی شخصیت کی بہتری درکار ہے۔ بلکہ آپ لوگ مجھ ایسے نالائق سے بدرجہا بہتر ہیں میرا مقصد ان تحاریر کے ذریعے تو اپنی اصلاح کرنا ہے اگر کوئی پڑھ کر اس سے اچھی بات اخذ کر لیتا ہے تو ہمیں اور کیا چاہیے؟ مدینہ مدینہ۔

عزیزو! کسی کو بھی بجز ایمرجنسی براہ راست فون کرنے سے پہلے میسج یا وائس نوٹ بھیج کر اس سے مناسب وقت بات کرنے کا معلوم کر لینے سے اسی سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح دیگر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو حقیقت میں بہت بڑی ہیں اگر ہم ان کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیں تو زندگی بہت بہتر ہو جائے۔

مرشد سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عوامی مقام پر ڈسپوزیبل گلاس یا ریپر وغیرہ اردگرد زمین پر پھینکنے کی بجائے کسی ڈسٹ بین میں ڈال دیتا ہے اور صفائی کا خیال رکھتا ہے تو اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ عطا کیا جائے گا جس کا ایک ایک درخت اتنا بڑا ہو گا کہ پانچ سو برس چلتا جائے گا مگر اس کا سایہ ختم نہ ہو گا۔

ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اشیائے خورونوش میں ملاوٹ نہیں کرتا اور اچھی کوالٹی کا صاف ستھرا مال فقط اس نیت سے بیچتا ہے کہ لوگ بیمار نہ ہوجائیں تو ستر حوریں جنت میں اس کو دی جاویں گی جن کے دانت موتیوں کی طرح چمکتے ہوں گے اور جب ان سے ایک بار مباشرت کرے گا تو ستر برس تک کرتا رہے گا۔

Facebook Comments HS