پاکستان کی خاتونِ اوّل کون ہوں گی؟
شہباز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے اور چند ہی گھنٹوں میں اپنے عہدے کا حلف لیا تو مہمانوں کی گیلری میں ان کے بیٹے شہباز شریف اور بھتیجی مریم نواز موجود تھیں لیکن ان کی اہلیہ دکھائی نہیں دیں۔
اوپر پریس گیلری میں یہ موضوع بھی اٹھا کہ اب فرسٹ لیڈی کا ٹائٹل کس کو ملے گا؟ کسی نے کہا کہ ’شہباز شریف کی زوجیت میں تو غالباً تین خواتین ہیں۔‘
شہباز شریف نے حلف لینے کے ساتھ ہی بطور وزیراعظم یہاں دارالحکومت میں اپنی مصروفیات کا آغاز کر دیا ہے۔ لیکن وزیراعظم ہاؤس یہ تصدیق کرنے سے قاصر ہے کہ ملک کی فرسٹ لیڈی یعنی خاتون اول کون ہیں؟
بطور ایم این اے شہباز شریف نے قومی اسمبلی کی ڈائریکٹری میں اپنی تفصیلات میں ماڈل ٹاؤن لاہور کا پتہ لکھوایا ہے۔
ہم نے ان کے گھر رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ ’فرسٹ لیڈی اور پروٹوکول کے بارے میں ہم لاعلم ہیں اس لیے پی ایم ہاؤس سے رابطہ کیا جائے‘۔ تاہم انھوں نے تصدیق کی کہ ’جب سے اسلام اباد میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں اب یہاں گھر کا کوئی فرد نہیں۔‘
ہم نے پی ایم ہاؤس میں رابطہ کیا جو حلف برداری کی تقریب کے بعد سے ہی وزیر اعظم شہباز شریف کا مسکن ہے لیکن وہاں بھی عملے نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
ہم نے پروٹوکول اور پی ایس او دونوں دفاتر میں کال ملائی اور یہی سوال دہرایا کہ فرسٹ لیڈی کا سٹیٹس (رتبہ) کس کو ملا ہے اور ان کے لیے کیا پروٹوکول ہوتا ہے کیونکہ فرسٹ لیڈی بھی ہمیں ہمیشہ تقریبات اور ملکی و غیر ملکی دوروں میں اکثر دکھائی دیتی ہیں۔
حیرت انگیز طور پر دونوں دفاتر کے عملے نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے کہا ’ہمیں ابھی کچھ معلوم نہیں کہ فرسٹ لیڈی کون ہیں۔‘
صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی نے جو شریف خاندان کو بہت قریب سے جانتے ہیں بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ’شہباز شریف کی تین بیویاں ہیں لیکن کبھی بھی ان کی کسی اہلیہ کو عوامی سطح پر تقریبات میں ان کے ہمراہ نہیں دیکھا گیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شریف خاندان اپنے گھر کی خواتین کا سامنے آنا پسند نہیں کرتا ہاں البتہ جب بھی مشکل وقت آیا ہم نے دیکھا کہ پہلے نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز ان کی جلاوطنی کے دور میں باہر نکلیں اور پھر نواز شریف کی نا اہلی کے وقت مریم نواز نے سیاست میں قدم رکھا اور شاید یہ دو خواتین نہ کھڑی ہوتیں تو آج شہباز شریف وزیراعظم نہ بن پاتے اور نہ ن لیگ کی سیاست ہوتی۔‘
تاہم اس دور میں بھی شہباز شریف کے بیٹے کے علاوہ ان کی اہلیہ اور نہ بیٹیوں میں سے کوئی منظرِعام پر دکھائی دی۔
شہباز شریف کی پہلی اہلیہ نصرت شہباز ہیں جن کے حمزہ شہباز سمیت تین بچے ہیں۔ وہ شہباز شریف کی فرسٹ کزن بھی ہیں۔ نصرت شہباز کو کبھی بھی سیاسی اور سماجی سطح پر متحرک نہیں دیکھا گیا نہ ہی کبھی کسی عوامی تقریب میں دیکھا گیا۔ ہاں البتہ ان کے اثاثہ جات کی مالیت عوامی سطح پر الیکشن کمیشن کے توسط سے تب تب سامنے آتی رہی ہے جب شہباز شریف اپنے اثاثہ جات ڈکلیئر کرتے ہیں۔
یہاں تک کہ سنہ 2018 میں ڈان اخبار نے اپنی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے گوشواروں اور اثاثہ جات کی تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ نصرت شہباز اپنے شوہر شہباز شریف سے زیادہ مالدار ہیں۔
’ان کے اثاثہ جات میں سپننگ ملیں، پولٹری فارم، ٹریڈنگ کمپنی، ٹیکسٹائل ملز، ڈیری فارمز اور پلاسٹک کی صنعت سمیت دیگر اثاثے شامل ہیں۔‘
لاہور کے صحافتی حلقوں میں بتایا جاتا ہے کہ شہباز شریف نصرت شہباز کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔
ان کی دوسری بیوی عالیہ ہیں جن سے ان کی ایک بیٹی خدیجہ ہیں تاہم ان دونوں کے درمیان اب علیحدگی ہو چکی ہے۔
نومنتخب وزیراعظم کی تیسری بیوی سماجی کارکن اور مصنفہ تہمینہ درانی ہیں جن کا تعلق چارسدہ سے ہے۔ تہمینہ جن کی کتاب ’مائی فیوڈل لارڈ‘ نے بہت شہرت پائی۔ یہ ان کی خودنوشت ہے جس میں وہ اپنی گزری زندگی اور سابقہ شادی کے تجربے کو بیان کرتی ہیں۔
اس کی وجہ سے انھیں اپنے والدین کی ناراضگی بھی مول لینا پڑی تھی۔ تہمینہ درانی نے عبدالستار ایدھی کی بائیو گرافی ’اے مرر ٹو دا بلائنڈ‘ بھی تحریر کی ہے۔ ان کی دیگر دو کتب ’بلاسفیمی‘ اور ’ہیپی تھنگز ان سارو ٹائمز‘ بھی بہت مقبول ہوئیں۔
تہمینہ نے 19 برس قبل شہباز شریف سے شادی کی تاہم سلمان غنی کے مطابق وہ منظر عام پر پہلے کی مانند متحرک نہیں رہیں۔
تہمینہ کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ منظر سے اوجھل ہی رہتی ہیں۔ شہباز شریف کے وزارت اعلیٰ کا دور ہو یا جلا وطنی کا انھیں منظر عام پر یا کسی تقریب میں تو نہیں دیکھا گیا لیکن ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جائیں تو آپ کو ان کی سماجی سرگرمیوں اور ایدھی صاحب کے مشن کی ترویج کرنے کے علاوہ شہباز شریف کی حمایت میں نیک خواہشات کا اظہار اور ان کے ساتھ گاہے بگاہے کچھ تصاویر دکھائی دیں گی۔
وہ لاہور میں دس مرلے کے ایک گھر میں رہتی ہیں۔ ٹوئٹر پر اپنی ایک تصویر میں انھوں نے لکھا کہ آزادی کیا ہے ’دس مرلہ گھر، رات بارہ بجے، کمرے میں وہ (شہباز شریف) کے ہمراہ بیٹھی مسکرا رہی ہیں اور دیوار پر بہت سی تصاویر دکھائی دیتی ہیں۔ ‘
شہباز شریف کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد تو تہمینہ درانی نے کوئی ٹویٹ کی نہ ہی وہ تقریب حلف برداری میں تھیں۔
تاہم اینکر مبشر لقمان کے ساتھ ان کے یو ٹیوب چینل پر ایک مختصر انٹرویو میں انھوں نے خود کو فرسٹ لیڈی کہا اور پھر تین دن بعد تہمینہ درانی نے بلقیس ایدھی کی عیادت کے ہمراہ ایک تصویر پوسٹ کی۔
انھوں نے لکھا ’آج بلقیس اور میں ہسپتال کے اس کمرے میں بہت روئے۔ وہ ایدھی صاحب کے لیے روئیں اور میں ان کے لیے روئی۔ وہ بہت بیمار ہیں اور جب انھوں نے مجھے فرسٹ لیڈی کہا تو میں نروس ہو گئی۔‘
بلقیس ایدھی کی عیادت کرتے ہوئے ان کی تصویر کے ساتھ ایک ٹویٹ کی اور اس میں فرسٹ لیڈی کا ٹائٹل اپنے لیے استعمال بھی کیا۔ ’بلاشبہ کوئی بھی فرسٹ لیڈی بلقیس ایدھی کی عظمت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔‘
اینکر پرسن مبشر لقمان نے جب اپنے پروگرام میں ان سے ایک مختصر گفتگو میں پوچھا کہ آپ وہاں حلف برداری کی تقریب میں دکھائی نہیں دیں تو ان کا جواب تھا کہ ’میرے جانے کی ضرورت نہیں تھی اتنے لوگوں میں، جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں میں ہوتی ہوں، میں یہ کہوں گی آپ نے مبارک دی، مبارک کے ساتھ بہت دعائیں بھی دیں۔ اس لیے کہ جس موڑ پر ہمارا ملک کھڑا ہوا ہے اس موڑ پر شہباز شریف کو جو کام ملا ہے یہ ان کے کندھوں پر صرف پہاڑ نہیں میرے کندھوں پر بھی ہے کیونکہ اب ہم جوابدہ ہیں۔ اس وقت کیا کام ہو گا چاہے تھوڑی دیر ہو زیادہ دیر ہو۔‘
یہ بھی پڑھیے
شہباز شریف کی تقریب حلف برداری، آرمی چیف کی غیر موجودگی اور صدر علوی سے لوگوں کو شکوہ
شہباز شریف نے برطانوی اخبار کو نوٹس بھیج دیا
تہمینہ درانی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف بہت غریب نواز ہیں۔ ہر چیز کو دیکھتے ہیں اور ایک سیکنڈ کا آرام نہیں کرتے۔ ’دس سال جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو میں نے ان کو دیکھا ہی نہیں۔ یہ کوئی بادشاہت نہیں یہ بہت بڑی نوکری مل گئی ہے ان کو اور اس نوکری کو اللہ کرے وہ نبھا سکیں اور غریب اور پسے ہوئے عوام کے لیے وہ کچھ کر سکیں۔ وہ کریں گے اپنی طرف سے، میں کروں گی اپنی طرف سے، رہوں گی میں تہمینہ درانی ہی۔‘
مبشر لقمان نے ان سے پوچھا کہ وہ محلات چھوڑ کر دس مرلے کے گھر میں کیوں رہ رہی ہیں؟ تہمینہ درانی نے جواب دیا ’دس مرلے کے گھر میں مڈل کلاس رہتی ہے ناں تو میں مڈل کلاس ہوں اور اب آپ کا وزیراعظم بھی مڈل کلاس ہے۔ میں ایدھی صاحب کے گھر تین تین سال رہ کر آتی ہوں۔ میری اوقات اور شروعات وہی ہے۔‘
تہمینہ نے، جو بہت کم انٹرویو دیتی ہیں، مبشر لقمان سے کہا کہ ’میں دس مرلے کے گھر میں رہ رہی ہوں اور اس کی عزت بنانا چاہتی ہوں۔ آپ کی فرسٹ لیڈی مڈل کلاس کے گھر میں رہ رہی ہوں۔ میں ایک مثال بنا رہی ہوں۔‘
چند برس پہلے انھوں نے سہیل وڑائچ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں کبھی بھی ایم این اے یا ایم پی اے نہیں بننا چاہتی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ منظر پر رہیں تو پھر کام نہیں ہو سکتا۔‘
ان سے پوچھا گیا کہ ’نام کیوں نہیں بدلا تو انھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا نام تھا جس کی شناخت اس کے کام سے ہوتی تھی اور اس کو بدلنا غیر مناسب ہی نہیں تھا بلکہ یہ میری شناخت تھی جو میں نے ایک جدوجہد کے ذریعے بنائی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’وقت کسی کے پاس جتنا ہو وہ اتنا ہی دے سکتا ہے۔ شہباز شریف کے ساتھ شادی کے بعد کوئی تبدیلی آئی تو ان کا جواب تھا زیادہ نہیں۔‘
دل تو کرتا ہو گا کہ فرسٹ لیڈی کی حیثیت سے فلاحی کام کریں؟ تو ان کا جواب تھا اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ’کتنے اور لوگ ہیں جو سرکاری حیثیت سے کام کرتے ہیں، فلاحی کام میں دنیا کے شہری کی حیثیت سے کر رہی ہوں۔‘
69 سالہ تہمینہ درانی ایدھی کی زندگی میں بھی ان کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں رہیں اور ان کی وفات کے بعد انھوں نے سنہ 2017 میں تہمینہ درانی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔
ان دنوں وہ بلقیس ایدھی کے ہمراہ دارالحکومت سے بہت دور کراچی میں رہ رہی تھیں۔ بلقیس ایدھی کا جمعے کو انتقال ہو گیا ہے۔ وہ پی ایم ہاؤس آتی ہیں یا لاہور میں اپنے دس مرلے کے گھر میں۔ انھیں فرسٹ لیڈی کا پروٹوکول ملے گا یہ آنے والے چند دنوں میں ہی معلوم ہو سکے گا۔


