پاکستان یا سیاسی بحران کا مرکز


اگر بات کی جائے پاکستان کی موجودہ سیاسی منظر نامے کا تو سیاسی بحران کا تناؤ بہت بہت نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ سیاسی بحران پاکستان کی سیاست میں کوئی نئی بات نہیں اگر ہم ملکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں یہ سیاسی بحران چلتا آ رہا ہے۔ اس سیاسی بحران سے اگر کوئی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے تو وہ ہے ہمارا جمہوری نظام۔ اگر بات کی جائے 1971 کی سیاسی بحران کی تو ہم نے مشرقی پاکستان کی شکل میں ایک قیمتی حصہ کھویا اور برصغیر میں بنگلادیش کے نام سے ایک نئی ریاست معرض وجود میں آئی۔

اس کے علاوہ اکتوبر 1999 میں بھی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان کچھ خاص حد تک ٹھیک نہیں تھے جس کے نتیجے میں اکتوبر 1999 میں سابق جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کو گرا کر ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی۔

ایک علم سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے سیاست کو میں کچھ یوں بیان کرتے ہوئے غلط نہیں ہوں گا کہ سیاست اس طاقت یا قوت کے لئے جدوجہد کا نام ہے جو عوام کی فلاح اور بھلائی میں کارآمد ہو۔

لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں لفظ سیاست کو ہمیشہ سے منافقت سے جوڑا جاتا ہے۔ اور پبلک اس سیاسی جماعت کو سب سے معتبر سمجھتی ہے جو اپنے سیاسی مقصد کے لئے ملکی سالمیت اور مذہب کارڈ جیسے نعرے بلند کرتی ہے

بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں سیاسی شعور نہ ہونے کی برابر ہے جس کی وجہ سے ہماری معصوم پبلک ان نام نہاد سیاسی نعروں کا شکار بن کر متاثر ہوتی ہے۔

اب اگر بات کی جائے موجودہ سیاسی بحران کی تو یہ کہنا شاید غلط نہیں ہو گا کہ سیاسی جماعتوں کی اپنی سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے میں اس قدر مصروف ہیں کہ غریب عوام اپنی روزمرہ ضروریات کے لئے رل رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف 2018 میں نیا پاکستان اور کرپشن سے پاک پاکستان جیسے نعروں کی بدولت عام Iنتخبات میں کامیاب ہو کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ قوم عمران خان سے نئے پاکستان بنانے کی امیدیں باندھنے لگی لیکن بدقسمتی سے عمران خان کی حکومت تو چلی گئی لیکن قوم کو نیا پاکستان نصیب نہ ہوسکا۔ عمران خان کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور اس کے برعکس  پی ٹی آئی حکومت میں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہوا بلکہ رشوت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

آخر کار پاکستان کے دوسری سیاسی جماعتوں نے عمران خان سے تنگ آ کر ان کی حکومت ختم کرنے کے لئے جدوجہد تیز کردی۔ اور ستمبر 20 2020 کو حزب اختلاف جماعتوں نے ملی کر پاکستان جمہوری تحریک بنائی۔ PDM نے بننے کے بعد نہ صرف ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیں بلکہ حکومت کو پارلیمنٹ میں بھی سخت وقت دیا۔ مہنگائی سے تنگ عوام نے اس امید سے ان مظاہروں میں خوب حصہ لیا کہ شاید حزب اختلاف جماعتیں ان کو کوئی خاص ریلیف دیں گی۔

اور حالات تو اس وقت سنگین رخ اختیار کر گئے جب اپوزیشن جماعتوں نے سابق وزیر اعظم کے خلاف 8 مارچ کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع ہو گئی۔ اب تحریک انصاف حکومت تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لئے اتحادیوں کو منانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی لیکن عمران خان اتحادیوں کو منانے میں تو کامیاب نہ ہو سکے اور ان کے اپنے ہی قومی اسمبلی کے ارکان نے ناراضگی کا اظہار کیا اور اپوزیشن جماعتوں کے صف میں شامل ہوئے۔

جب عمران خان کو اپنی کرسی ڈوبتی ہوئی نظر آنے لگی تو اس نے ایک دھمکی آمیز خط کا سہارا لینا شروع کیا اور قوم کے سامنے بار بار یہ بات کہنے لگا کہ امریکہ میری حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات اس قدر بدلے کہ آخر کار عمران خان نے 3 اپریل کو قومی اسمبلی ہی تحلیل کردی۔ بعد میں اپوزیشن نے عمران خان کی اس حکم کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا اور 7 اپریل کو جسٹس عمر عطا بندیال نے پانچ رکنی بینچ کی سربراہی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دے کر قومی اسمبلی کو دوبارہ بحال کیا اور 9 اپریل کو اسمبلی میں عدم اعتماد پیش کرنے کا حکم دیا۔

9 اپریل کو حالات اس قدر خراب ہوئے کہ ملک میں مارشل لاء لگنے کے بادل منڈلانے لگے۔ اور پھر عسکری اداروں نے بھی وزیر اعظم ہاؤس کا رخ کیا اور وزیر اعظم ہاؤس میں اس ملاقات کے بارے میں ابھی تک مختلف تجزیے سننے کو مل رہے ہیں۔

بالآخر قوم کو کشمکش میں ڈالنے کے بعد کہانی کا ڈراپ سین کچھ ایسا ہوا کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی اور عمران خان وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔

اب اپوزیشن کی طرح تحریک انصاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے اور شہباز شریف حکومت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اب پہلی کی طرح ایک بار پھر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں اور ایک طرح سے یہ سیاسی بحران مزید بڑھ رہا ہے جس سے غریب عوام براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ان سیاسی جماعتوں کے اختلافات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں؟

کیا ان سیاسی جماعتوں کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ ان کی ذاتی اختلافات کی وجہ سے عوام کن اذیتوں سے دوچار ہیں؟

کیا ان سیاسی جماعتوں کو یہ اندازہ نہیں کہ ان کی ذاتی اختلافات کی وجہ سے پاکستان کی کمزور معیشت کو کتنا نقصان ہو رہا ہے؟

اگر پاکستان کی یہ سیاسی جماعتیں سچ میں اپنے آپ کو قوم کے خیرخواہ سمجھتی ہیں تو ان کو مل بیٹھ کر یہ معاملات حل کرنا چاہئیں اور ملک کو اس سیاسی بحران سے نکالیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “پاکستان یا سیاسی بحران کا مرکز

  • 20/04/2022 at 6:49 صبح
    Permalink

    Bilkol sahi nishandahi ki Gai ha b

Comments are closed.