توانائی پیدا کرنے کے بڑے منصوبے اور غریب مچھیرے


کراچی پاکستان کا میٹرو پولیٹن شہر ہے اور صوبہ سندھ کا دارالحکومت بھی۔ قیام پاکستان یعنی 1947 سے لے کر 1959 تک کراچی مملکت خداداد پاکستان کا دارالحکومت بھی رہا۔ سندھ کے عظیم شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کے سورما مورڑو میر بحر کے اس شہر کے اصل باسی آج بھی کولاچی کے گہرے سمندر کی طغیانیوں سے نکل نہیں پائے۔ ایک طرف ڈی ایچ اے ہے تو دوسری جانب کراچی شہر میں ڈی ایچ اے سے چند میل کے فاصلے پر ابراہیم حیدری، ریڑھی گاؤں، لٹھ بستی اور مچھیروں کے چھوٹے چھوٹے قصبے اور گاؤں آباد ہیں جو کہیں سے بھی کراچی نہیں لگتے، ہاں البتہ کسی غریب کی بد نصیبی کی دہائی دیتے ضرور نظر آتے ہیں۔ سمندر کا ہونا جہاں خوش نصیبی سمجھا جاتا ہے وہاں اسی سمندر کے اندر اور آس پاس رہنے والے مچھیروں کے لئے وہی سمندر بد نصیبی کی علامت بنا کھڑا ہے۔

پاکستان قدرتی گیس کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں 29 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں قدرتی گیس کے وسائل کو تیل اور قدرتی وسائل کی وزارت کے ذریعہ چلایا جاتا ہے جبکہ اوگرا ان کی ترسیل اور تقسیم کا ذمہ دار ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی ملک کے مغربی علاقوں اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ شمالی علاقہ جات کی ترسیل اور تقسیم کو دیکھتی ہے۔ پاکستان یومیہ 4 ارب مکعب فٹ گیس پیدا کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ایشیا اس وقت معدنی گیس کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ کان کنی کی صنعت اور اس کے حامی اگلی دہائی میں ایشیا میں 380 بلین ڈالر گیس ٹرمینلز، پائپ لائنز اور پاور پلانٹس کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ابتدائی طور پر گیس کو مہنگے فرنس آئل کے مقابلہ میں سستے ایندھن کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ 2011 کے دوران، پاکستان کی بجلی کی پیداوار کا 50 فیصد قدرتی گیس پر منحصر تھا اور گیس کے ذخائر کم ہونے پر ایل این جی کو متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ پر آج صورتحال یہ ہے کہ اسی ایل این جی کے دام آسمانوں کو چھوتے ہیں۔

دنیا بھر کے ماہرین اس تصور کو یکسر مسترد کرتے ہیں کہ ایل این جی صاف ایندھن ہے۔ درحقیقت گیس نکالنا، اس پر عمل کرنا، اسے ذخیرہ کرنا، نقل و حمل کرنا اور اسے اس کی اصل شکل میں دوبارہ استعمال کرنا سوچ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ایل این جی کا بنیادی جزو میتھین گیس ہے جو کوئلے سے چلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سے 80 فیصد زیادہ خطرناک ہے۔ ایل این جی کی پوری سپلائی چین کے دوران میتھین گیس خارج ہوتی ہے جو کہ ناقابل حل امر ہے۔

رپورٹس کے مطابق 2000 اور 2019 کے درمیان میتھین گیس کے اخراج میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ جب گیس جمائی جاتی ہے تو اس سے میتھین گیس کا اخراج اوزون کی سطح کو کافی حد تک نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایل این جی کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے اور پھر اسے گیس میں تبدیل کرنے کے لیے اضافی توانائی درکار ہوتی ہے۔

پاکستان کا پہلا ایل این جی پلانٹ 2015 میں اس وقت کے وزیراعظم نے اینگرو کمپنی کو ایوارڈ کیا تھا، جس پر نیب نے پلانٹ کو سستا ایوارڈ کرنے پر ان پر مقدمہ بھی چلایا تھا۔ اس معاملے میں عدالت سے وہ باعزت بری ہوچکے ہیں۔

ریڑھی گاؤں کے رہنے والے حسین شیخ کہتے ہیں، ”اینگرو ایل این جی اور لکی کول پلانٹس کے بعد مچھلی کی پیداوار میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ کمپنیاں اور باالخصوص پورٹ قاسم اتھارٹی نے مینگروو کے جنگلات کا جیسے خاتمہ ہی کر ڈالا ہے۔ ریڑھی گاؤں کے قریب حکومت کی جانب سے فیکٹری زون قائم کیا گیا ہے لیکن فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں نے ماحول کو بہت زیادہ آلودہ کر دیا ہے۔ یہ تمام فیکٹریاں اپنا فضلا سمندر میں ڈالتی ہیں۔

ایل این جی کا فضلہ جسے سلیج کہا جاتا ہے وہ بھی مینگرووز کے اوپر پھینک دیتے ہیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ بھینس کالونی میں قائم مویشیوں کے فارموں کی غلاظت اور قائدہ آباد کے کپڑے کی صنعت کا کیمیائی فضلہ بھی یہیں پھینکا جاتا ہے، گویا یہ ہمارا گھر نہ ہوا کوئی کچرے کا ڈھیر ہوا۔ کئی بار سمندر میں نہاتے ہوئے ہمارے بچوں کو سرنجیں آ چبھی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میڈیکل اور ہسپتالوں کا کچرا بھی سمندر میں پھینکا جا رہا ہے۔“

اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے، ستار شیخ نے کہا، ”ایل این جی کے جہازوں کی آمد کے بعد سے ہمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ راستے اور پگڈنڈیاں جن پر ہم آبا و اجداد سے سفر کرتے تھے اور مچھلیاں پکڑتے رہے تھے، انہوں نے ہم سب پر پابندی لگا دی ہے۔ غلاظت کی وجہ سے اب مچھلی کی افزائش بھی بہت کم ہو گئی ہے۔ اب ہمیں بڑا چکر کاٹ کر پھر شکار پر جانا پڑتا ہے جس کے لیے ہمارا تیل بہت زیادہ لگتا ہے۔ ہمارا ہوڑا یعنی کشتی جو پہلے بیس سال تک چلتی تھی لیکن اب سمندر کی غلاظت کی وجہ سے لکڑی جلدی گل سڑ جاتی ہے۔ اب وہی ہوڑا چھ سے سات سال بمشکل نکالتا ہے۔ ان کمپنیوں نے نہ تو ہمیں کوئی روزگار دیا اور نہ ہی علاقے میں کوئی ترقی کی۔ سونے پہ سہاگا یہ ہے کہ ہمارا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ان کمپنیوں کے سیکیورٹی گارڈز اور نیوی کے سیکیورٹی گارڈز ہماری توہین کرتے ہیں۔ پشاور میں ہونے والے بم دھماکہ میں جھوٹی ایف آئی آر ہم پر کاٹ کر جھوٹے مقدمات میں ہمیں لاک اپ کر دیتے ہیں۔ ہم جو یہاں آبا و اجداد سے بستے ہیں اور اپنے بال بچوں کے ساتھ رہتے ہیں یہ انہیں دہشت گرد سمجھتے ہیں۔ کبھی کبھار تو وہ ہمیں روک کر بہت بے عزت کرتے ہیں اور روٹیاں بھی پکواتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس اتفاق سے اصلی شناختی کارڈ موجود نہ ہو تو قمیص اتروا کر ننگی پیٹھ برف پر چپٹا لٹا دیتے ہیں۔“

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے۔ {فیض}

دنیا میں پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق، 2030 تک دستخط کرنے والے ممالک پیرس موسمیاتی معاہدے سے زمینی درجہ حرارت کو ایک سے ڈیڑھ ڈگری سے اوپر نہ بڑھانے کے اپنے ہدف کو حاصل کر کے ماحول دشمن گیسوں کے اخراج کو کم کریں گے۔

نیپرا نے حال ہی میں ایک دس سالہ توانائی پیدا کرنے کا منصوبہ تجویز کیا ہے، جو ماحولیات کے لیے نقصان دہ منصوبوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جیسے : کوئلے پر بجلی پیدا کرنے کے منصوبے۔ پاکستان کے IGCAP پلان میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے نام پر شمسی اور پن بجلی کا فیصد برائے نام دے کر باقی ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹس میں اس فیصد کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سندھ حکومت نے نیپرا کے ایسے پلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے عمل میں ان لوگوں کا ذکر نہیں کیا جاتا جو ان اسکیموں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کی بہتری کے لیے کوئی کام نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان کو ان منصوبوں کی ڈیزائن اور منصوبہ سازی کے عمل میں شامل کیا جاتا ہے۔ سی ایس آر کے نام پر کمپنیاں ایسی اسکیمیں بناتی ہیں جن سے مقامی لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کیونکہ یہ بڑی کمپنیاں بڑے کنسلٹنٹس کے ذریعہ جو سکیمیں بناتی ہیں ان میں ان غریب مقامی لوگوں کی شمولیت آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ نیز نجی کمپنیوں کے علاوہ حکومتی اداروں کا طریقہ کار بھی ان سے کچھ الگ نہیں۔ سندھ کا ماحولیاتی ادارہ سیپا ہو یا محکمہ جنگلات، ان کا غریبوں سے کیا تعلق؟

ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بہت ہے ظلم کے دست بہانہ جو کے لیے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں۔ {فیض}

حال ہی میں نئے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی ہے کہ 7000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے 27 پاور پلانٹس تکنیکی وجوہات کی بنا پر کام نہیں کر رہے۔ 3535 میگاواٹ کے پلانٹس میں سے سات اس لئے کام نہیں کر رہے کیونکہ ان کے پاس پلانٹس چلانے کے لیے کافی ایندھن نہیں ہے۔ ان میں سے چار ایسے ہیں جو کہ ایل این جی کی کمی اور دو فرنس آئل کی کمی کے باعث چلنے سے قاصر ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی بجلی کی کل ضرورت 25 سے 27000 میگاواٹ ہے اور اس ضرورت کو اکیلے گھارو جھمپیر ونڈ کوریڈور سے پورا کیا جا سکتا ہے جو کہ 60000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک، کوئلہ سے یا تو جان چھڑا چکے ہیں یا ایسا کرنے کا تہیہ کوپ 26 کے موقعہ پر کر چکے ہیں۔ عالمی بنکوں اور بڑے مالیاتی اداروں کو بھی پابند بنایا جا رہا ہے کہ وہ کوئلہ اور ماحول دشمن توانائی کے منصوبوں کے برعکس اپنی فنڈنگ تجدیدی توانائی کے منصوبوں پر صرف کریں۔ اگر عوام کو سستے داموں سولر پلیٹس مہیا کر دی جائیں تو پورے گاؤں کے گاؤں بڑی خوشی سے سولر پینلز سے جگمگا اٹھیں گے۔ لوگوں نے تو خود اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت یہ کام شروع کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب گھی سیدھی انگلی سے نکلتا ہو تو انگلی کو ٹیڑھا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

نئے وزیر اعظم سے مودبانہ گزارش ہے کہ جب پوری دنیا توانائی کے صاف ذرائع کی طرف مائل ہے تو ہمیں بھی اپنے آپ کو اور عوام کو ٹھوس، سستے اور صاف ذرائع سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین گیس کے ڈھیروں من انبار کے نیچے سرسبز زمین کو سیاہ رنگ میں تبدیل کرنے کی۔ لٹھ بستی اور ریڑھی گاؤں کے مچھیروں کا نئے وزیر اعظم سے یہی مطالبہ ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اگلی بار جب وہ کراچی کا دورہ کریں گے تو یہ کراچی بھی وہ دیکھنا چاہیں گے۔

Facebook Comments HS

One thought on “توانائی پیدا کرنے کے بڑے منصوبے اور غریب مچھیرے

  • 18/04/2022 at 3:03 شام
    Permalink

    آپ نے ایک انتہائی اہم مسئلے بلاگ لکہا ہے۔ این این جی نہ سستی تونائی کا ذریعا ہے، نہ صاف توانائی بلکہ جس عمل کے وسیلی اس گیس جو پجلے جمایات جاتا ہے بعد میں ٹرانسپورٹ کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ لایا جاتا ہے ، اس پورے عمل کے دوران میتہین گیس خارج ہوتی رہتی ہے ۔ ہمارے جیسا عالمی قرضون میں جکڑا ہوا ملک مہنگی این انی جی نہین خرید سکتا اور اس کے علاوہ آؤ نے صحیح بتایا کے این این جی کے بڑہنے سے پیرس کلائیمیٹ کے ا۔۵ ڈگری تک گرمی کی شدت کو محدود نہیں جا سکے گا۔ ہمین فورن سستی اور صاف توانائی کے ذریعوں کو اپنانا پڑے گا۔

Comments are closed.