انسانی ایجادوں میں ایک طبقاتی نظام بھی ہے

ہم روزانہ کی بنیاد پر کئی نفسیاتی کیفیات سے گزرتے ہیں۔ جن میں سے ایک کسی بھی چیز کی محرومی ہے۔ انسان تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف مراحل سے گزرا ہے۔ اس نے کئی ایسی ایجادات کی ہیں جس نے ہر ایک کی زندگی آسان کی ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کر کہ آسان خوراک مہیا کی ہے اور شکار کی مشقت سے نجات دلائی ہے۔ صنعتی ترقی نے انسان کی زندگی آسان کی ہے۔ آج کی سفری سہولیات پرانے دور کہ انسان سے کئی درجہ بہتر ہیں۔ ایسے دیگر صنعتی ایجادات نے انسان کی زندگی کو نا صرف اندھیروں میں روشن کیا بلکہ روزمرہ معاملات میں بھی زندگی کو آسان بنایا ہے۔
جہاں انسان نے سہولت کہ لیے مختلف اشیاء بنائی ہیں وہیں انسان نے ایک دوسرے سے مختلف نظر آنے کہ فرق بھی لاشعوری میں ایجاد کیے ہیں۔ جو لوگ جدید چیزیں استعمال کر رہے تھے وہ ان سے بہتر تھے جو ان جدید اشیاء سے محروم تھے۔ اور یہ نفسیاتی کیفیت وسائل کی کمی کہ ساتھ ساتھ پروان چڑھتی رہی اور یوں انسان نے طبقاتی نظام کو جنم دیا جس میں وسائل پر دسترس اور وسائل سے محروم طبقہ کہ درمیان ایک لائن کھینچ دی گئی۔ طاقت، وسائل پر دسترس اور عہدوں پر کھڑا یہ طبقاتی نظام آج انسانی زندگی کا روزانہ کی بنیادوں پر حصہ ہے۔ کراہ ارض پر موجود خدا کی دیگر مخلوق کے ساتھ انسان بھی ایک مخلوق ایک سپیشی ہے۔ لیکن ہمیں انسان کہ علاوہ کسی دوسری مخلوق میں طبقاتی نظام نظر نہیں آتا ہے۔
کچھ دیر کہ لیے ہم انسانوں کا طبقاتی نظام دیگر سپیشیز پر نافذ کر کہ دیکھتے ہیں۔ ایک ڈی سی مچھلی کیسی لگے گی؟ یا حوالدار مگرمچھ کیسا ہو گا؟ نمبردار بکرے کی علاقے میں تو خوب شان ہوگی۔ پٹواری بیل زمین کے طول و ارض کو ناپتے کیسے لگیں گے؟ یا گلوکار ہرن کیسے کیسے گانے گائے گا؟ کیا شیر کو بھی پتہ ہے کہ ہم نے اسے جنگل کا راجہ بنا رکھا ہے؟ پراپرٹی ٹائیکون گینڈے کے نئی کالونیاں کاٹنے اور زمین کا نقشہ خراب کرنے کہ کیا منصوبے ہوں گے؟ کیا کوئی مینڈک بیرون ملک سکالرشپ کے لیے دن رات پڑھے گا؟ سانپ وزیر خزانہ کہ روپ میں کیسا لگے گا؟
معاشرتی بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ انسانوں میں تفریقی نظام ہے جس نے انسان کو اس قدر تقسیم کر رکھا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی طرح کی اناٹومی ہونے کہ باوجود وسائل پر قابض انسان کوئی الگ مخلوق ہیں جن کے رہن سہن سے لے کر خوراک لباس یہاں تک کہ ہر چیز کا الگ برینڈ انہیں مختلف بناتا ہے۔ اور دوسری طرف محروم طبقہ اپنی ساری عمر حسرتوں اور خواہشوں کو اپنے دل میں لیے اور اپنے جیسے کئی انسان پیچھے چھوڑے زمین بوس ہو جاتا ہے اور یہ دائروی بہاؤ یوں ہی چلتا رہتا ہے۔
طبقاتی نظام نے انسان کو پستی کی طرف دھکیلا ہے، کل آبادی کے مخصوص طبقہ نے وسائل پر کنٹرول حاصل کیا ہے اور باوجود اس کے کہ چند افراد نے اپنی دولت سے انسان کو جدید بنایا ہے، معیار زندگی بہتر کرنے میں کردار ادا کیا ہے، اور سہولیات مہیا کرنے کہ ساتھ چیریٹی کے کاموں میں بھی اپنی دولت صرف کی ہے۔ مگر وسائل پر دسترس حاصل کرنے والوں کی اکثریت نے آبادی کا استحصال کیا ہے۔ نام نہاد جمہوریت کہ نام پر بنی ترقی پذیر ملکوں کی حکومتیں بھی وسائل کا رخ آبادی کہ بیشتر حصہ کی طرف موڑنے میں ناکام اور بے بس نظر آئیں۔ اور ان ملکوں کی بڑی آبادی بنیادی ضروریات زندگی کے ساتھ ساتھ ان اس ٹیکنالوجی سے بھی محروم ہے جو انسان کی زندگی آسان بناتی ہے۔

