توانائی پیدا کرنے کے بڑے منصوبے اور غریب مچھیرے

کراچی پاکستان کا میٹرو پولیٹن شہر ہے اور صوبہ سندھ کا دارالحکومت بھی۔ قیام پاکستان یعنی 1947 سے لے کر 1959 تک کراچی مملکت خداداد پاکستان کا دارالحکومت بھی رہا۔ سندھ کے عظیم شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کے سورما مورڑو میر بحر کے اس شہر کے اصل باسی آج بھی کولاچی کے گہرے سمندر کی طغیانیوں سے نکل نہیں پائے۔ ایک طرف ڈی ایچ اے ہے تو دوسری جانب کراچی شہر میں ڈی ایچ اے سے چند میل کے فاصلے

Read more

صحتمند معاشرہ کے صحتمند افراد

حماد ایک ہونہار 19 سالہ نوجوان ہے۔ اس سے ہمدردی جتاتے جب اس سے اس کے دل کے احوال پوچھے تو آنکھوں سے آنسوؤں کا بند ٹوٹ کر بہہ چلا۔ چیٹ باکس میں اس نے لکھا کہ ”جب بھی اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو دل چاہتا ہے کہ خودکشی کرلوں۔ میری کام کرنے کی صلاحیت سلب ہو کر رہ گئی ہے۔“ جب اس کو کریدا تو پتہ چلا کہ والدین نے تو کچھ عرصہ پہلے ہی اپنے جوڑ

Read more

موسم کی طرح تم بھی بدل ہی گئے

ہمارے گویا پیدا ہونے سے پہلے سے یہ بات عام فہم تھی کہ دیہات کے لوگ بڑے طاقتور اور جانٹھے ہوتے ہیں کیونکہ وہ اصلی دودھ، گھی اور مکھن کھاتے ہیں اور پھل اور سبزیاں خود اگاتے اور کھاتے ہیں۔ ہماری دادی اماں، امی کو منع کرتی تھیں کہ بہو بچوں کو ڈبے کا دودھ کبھی نہ دینا۔ شہروں کے بچے ڈبے کا دودھ پی پی کر ڈبہ بن جاتے ہیں۔ جب ہم بڑے ہوئے اور گاؤں گوٹھوں میں جانا ہوا تو ہمارے سامنے تو کچھہ اور ہی انکشافات ہوتے چلے گئے۔زرد چہرے، عورتوں اور بچوں میں خون کی کمی واضع نظر آ رہی تھی۔ پچیس سالہ عورت، چالیس کی دکھائی دیتی۔ بغیر وقفہ کے ہر سال بچہ پیدا کرنا تو خدا کی دین پر جو جنے وہ پالے کے اصول پر پورا گھراور گھرداری بھی اسی عورت کا ذمہ۔ کھانے کا عالم یہ کہ تین وقت تو کجا دو وقت بھی پورا کھانا میسر نہیں۔ کہیں اس کی وجہ غربت نظر آئی تو بعض جگہ بے جا سستی۔ مل جل کر رہنے میں برکت تو بڑی ہے پر ایک دوسرے کے حسد میں کام بھلا کرے تو کون کرے؟

Read more

سندھی ادب کے افق کا قطب تارہ۔ منظر جو رہ گیا

یہ اس دور کی بات ہے جب ہم بچے ہوا کرتے تھے۔ غالبن ٹین ایج کے ایام تھے۔ ہمارے گھر میں ادبی کتب آتی بھی تھیں اور چھوٹے بڑے سب بڑے شوق و ادراک کے ساتھ انھیں پڑھتے بھی تھے۔ میں چونکہ سب بھائی بہنوں میں چھوٹی تھی تو آنکھیں پھاڑ کے ان کی باتیں سنتی ہی رہتی تھی اور کوشش کرتی تھی کہ وہ جو کتابیں پڑھتے ہیں وہ میں بھی پڑھوں اور پھر ان کے ساتھ اپنی ماھرانہ رائے کا اظھار بھی کروں۔ بس اسی لگن میں کافی کتابیں پڑھ ڈالیں۔

Read more

ایم آر ڈی تحریک اور سندھ کی سورما بیٹیاں: زندانوں کی خیر نہیں

1980 کی دہائی کا زمانہ تھا۔ مارشل لا کا کالا قانون اپنے آب و تاب سے ملک پر حکمرانی کر رہا تھا۔ بیچارے عوام سہمے اور خوفزدہ سے اپنے گھروں کے اندر محصور ہوکر رہ گئے تھے۔ سیاسی سرگرمیاں تو کجا سیاست پر بات کرنے پر بھی کوڑے لگنے کا ڈر رہتا۔ پاکستان کا مطلب تو اب پھانسی، کوڑے اور سزا ہی رہ گیا تھا۔ یہ اسی دور کی باقیات ہے کہ اب بھی کچھ ہوٹلوں پر لکھا ملتا ہے

Read more

مینگروو کا کیس عوامی عدالت میں

میں ایک مینگروو درخت ہوں۔ میں وہاں پایا جاتا ہوں جہاں دریا اور سمندر کا میلاپ ہوتا ہے۔ دنیا میں میری بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں، پر یہاں ایرڈ زون میں پائے جانے والی اقسام میں میرا شمار سب سے بڑے مینگروو کے جنگلات میں ہوتا ہے۔ مجھے سندھو دریا سیراب کرتا ہے۔ یہاں میری نو اقسام پائی جاتی تھیں جن میں اب جا کر کوئی دو یا تین ہی بچ پائی ہیں۔ میں یہاں کے باسیوں کو گھر

Read more