شہباز شریف کو مسائل کے پہاڑ کا سامنا

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں دون انتہائی اہم تھے۔ لمحہ بہ لمحہ بدلتی سیاسی صورت حال کسی بھی حادثے کا باعث بن سکتی تھی۔ ہٹ دھرمی، ضد اور آئین شکنی سے جمہوری نظام کی بساط لپٹتے لپٹتے رہ گئی مارشل لاء پارلیمان کو دستک دے رہا تھا۔ جاگتی عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ نے آئین و قانون کی پاسداری کر کے جمہوری نظام کو ’ڈی ریل ہونے سے بچا لیا فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی پریس کانفرنس میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں اب کوئی مارشل لاء نہیں آئے گا۔ فوج کا ملکی سیاست میں کوئی لینا دینا نہیں
سرپرائز خان نے شروع دن سے قوم کو سرپرائز دینے کے اعلانات کر کے ہلکان کر رکھا تھا۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو انہوں نے ہر روز ایک نیا سرپرائز دینے اور آخری گیند تک لڑنے کا اعلان کر کے سسپنس پیدا کر رکھا تھا لیکن وہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے روز آخری گیند تک کھیلے اور نہ ہی باوقار طریقے سے اقتدار چھوڑا بلکہ پورا مہینہ اپوزیشن کی دوڑیں لگائے رکھیں مختلف ہیلوں بہانوں سے تحریک عدم اعتماد کو لٹکائے رکھنے کی پالیسی اپنائے رکھی 3 اپریل 2022 ء کو قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جانی تھی لیکن ڈپٹی سپیکر نے تحریک عدم اعتماد کو آئین کے آرٹیکل 5 کی آڑ لے کر نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا کیونکہ ریکویزیشن پر طلب کردہ اجلاس کو ملتوی کرنے کا اختیار سپیکر کو ہی حاصل ہوتا ہے۔
ادھر ڈپٹی سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا ادھر عمران خان نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس جاری کر کے ملک کو ایک سنگین بحران سے دوچار کر دیا صدر مملکت نے بھی قومی اسمبلی تحلیل کرنے میں دیر نہیں لگائی اتوار کا دن تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فوری طور پر اس صورت حال کا از خود نوٹس لے لیا 5 روز مسلسل سماعت کے بعد قومی اسمبلی بحال کر دی یہ عدلیہ کی تارخ میں دوسری بار ہوا پہلی بار 1990 ء کے اوائل میں غلام اسحق نے آئین کے آرٹیکل 58 ( 2 ) کا غلط استعمال کر کے قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دے قومی اسمبلی بحال کر دی اب کی بار سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر اور وزیر اعظم کے اقدامات کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے قومی اسمبلی بحال کر دی اور سپیکر کو 9 اپریل 2022 ء کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر ووٹنگ کرانے کا حکم جاری کر دیا سپیکر نے چار و ناچار قومی اسمبلی کا اجلاس تو بلا لیا لیکن رات 11 بجے تک تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرنے کی راہ میں مختلف رکاوٹیں رہے وزیر اعظم ہاؤس کا مکین سپریم کورٹ کی حکم عدولی پر مصر رہا اب کی بار سپریم کورٹ دوسری بار رات کے پچھلے پہر بیٹھی اس دوران قیدیوں کی وین منگوا لی گئی جاگتی عدلیہ نے دوسری بار ملک میں مارشل لاء لگوانے کی کوشش ناکام بنا دی سپریم کورٹ نے انتقال کر دار میں کلیدی کر دار ادا کر کے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔
میاں شہباز شریف پاکستان کے 23 ویں وزیر اعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں سینئر صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا مجھے کم و بیش دو سال بعد وزیر اعظم ہاؤس جانے کا اتفاق ہوا وزیر اعظم ہاؤس کا وہی سبزہ زار تھا۔ ہر طرف پٹونیا کے پھول اپنی خوشبو بکھیر رہے تھے لیکن اس کا مکین بدل چکا تھا۔
دو روز قبل اسی ہاؤس میں بیٹھ کر عمران خان سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کی راہ میں حائل تھے۔ آج اس کا مکین شہباز شریف مہمانوں کو وزیر اعظم کی حیثیت سے خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ میں وزیر اعظم ہاؤس میں وہ یونیورسٹی تلاش کرتا رہا جس کا مجھے کہیں نام و نشان نظر نہ آیا افطار ڈنر میں وزیر اعظم شہباز شریف نے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ سابق حکومت خالی خزانہ چھوڑ کر گئی ہے۔ مسائل کا پہاڑ ان کا منتظر ہے لیکن انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ناممکن کا لفظ میری سیاسی ڈکشنری میں نہیں سنگلاخ پہاڑ سر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں ان شا اللہ ہم پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکال باہر کریں گے۔ اس موقع پر ایک اخبار نویس نے ان لقمہ دیا کہ عوامی جمہوریہ چین شہباز شریف کے طرز حکمرانی کو پاکستان سپیڈ کہتا ہے تو انہوں نے مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا کہ جی ہاں! ان شا اللہ بہت جلد عوام کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے مسائل تیز رفتاری سے حل ہو رہے ہیں۔
میں نے ان سے پوچھا میاں صاحب! بڑے میاں اور سینیٹر اسحق ڈار کب آرہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ تو ڈاکٹروں نے کرنا ہے کہ میاں صاحب نے کب پاکستان واپس جانا ہے۔ نواز شریف اور سینیٹر اسحق ڈار کے پاسپورٹ کی بحالی ان کا حق ہے جب شہباز شریف سے وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد چین یا سعودی عرب کے دورے کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی کے ارکان نے استعفے دینے کا اعلان کیا تھا۔ تا حال پی ٹی آئی کے 123 ارکان نے اجتماعی استعفے دیے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اب تک استعفا نہیں دیا تھا۔ لہذا قائم مقام سپیکر کے طور اختیارات استعمال کر کے بیک جنبش قلم 123 استعفے منظور کر دیے جس کی قانون میں گنجائش نہیں اسی طرح قومی اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ 22 اپریل تک بڑھا دی ہے۔ میں نے وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا پی ٹی آئی کے مستعفی ہونے والے ارکان کی نشستوں پر ضمنی انتخابات کرا دیے جائیں گے تو انہوں نے کہا کہ صورت حال واضح ہونے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی تقریب حلف برداری کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی علالت بھی موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے۔ ماضی میں جب آصف علی زرداری نے وزیر اعظم نواز شریف اور ممنون حسین وزیر اعظم عمران خان سے حلف لینے کی اچھی مثالیں قائم کر چکے ہیں۔ کاش صدر مملکت عارف علوی بھی ان روایات کی پاسداری کرتے جب شہباز شریف سے صدر مملکت کی اچانک علالت بارے میں پوچھا گیا تو ان کی معنی خیز مسکراہٹ نے ساری کہانی بیان کر دی۔
عمران خان نے اقتدار سے نکالے جانے بعد فوری انتخابات کرانے کے لئے ایجی ٹیشن کے ذریعے دباؤ بڑھانے فیصلہ کیا ہے۔ پشاور کے جلسہ سے اپنی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ جلسہ متاثر کن نہیں تھا۔ فی الحال عمران خان کی سوئی عالمی سازش پر اٹکی ہوئی ہے لیکن فوج کے ترجمان نے عمران خان کے عالمی سازش کے بیانئیے کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ گیلپ سروے بھی آ گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے 57 فیصد عوام عمران حکومت کے خاتمے پر خوش ہیں جب کہ 43 فیصد ناخوش۔
عمران خان ایجی ٹیشن سے پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کو پریشان تو کر سکتے ہیں لیکن جلد ایجی ٹیشن کا ماحول اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا۔ کاش! عمران خان پارلیمان میں ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے جہاں جمہوریت مستحکم ہوتی۔ فوج کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں واضح کر دیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ وہ مدت ملازمت میں نہ تو توسیع چاہتے ہیں اور نہ ہی قبول کریں گے۔ اس اعلان کے بعد اس موضوع پر بحث بند ہو جانی چاہیے۔
