عمران خان کا مستقبل


بظاہر سب کو یہ لگ رہا ہے کہ خان کا بیانیہ دن بدن مقبول ہو رہا ہے۔ اور خان کا ووٹ بینک بھی بڑھ رہا ہے۔ لیکن کیا خان کو اس ووٹ بینک سے فائدہ اٹھانا نصیب ہو گا یا نہیں۔ یہ ہنڈرڈ ملین ڈالر کا سوال ہے۔ دوسرا مسئلہ مخلوط حکومت کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔ کہ چل سکے گی یا آپس میں لڑ کر ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ اس سوال کا جواب تو ایک دوست پیر صاحب نے دیا۔ کہنے لگے کہ ایک سکھ صاحب کوئی بھی شراب ہو چکھ کر برانڈ بتانے میں بہت مشہور تھے۔

ماسٹر آدمی تھے۔ خیر ایک دفعہ یاروں نے رنگ برنگی شراب اکٹھی کی اور سردار جی کو بلا لیا۔ اب جو برانڈ دیں، سردار جی چکھ کر نام بتا دیں۔ آخر تنگ آ کر انہوں نے مختلف شرابیں مکس کر کے سردار جی کو دے دیں۔ کہ اب نام بتاؤ۔ سردار جی پی کر چپ ہو گئے اور سوچنے لگے۔ لوگوں نے بار بار پوچھا تو سردار جی نے کچھ توقف کے بعد جھرجھری لے کر کہا۔ برانڈ کا تو پتہ نہیں لیکن اتنا کہ سکتا ہوں کہ یہ کمپنی زیادہ دیر چلنے والی نہیں۔

اس لطیفے کے بعد جھامرہ کے پیر ناصر شاہ نے کچھ دیر توقف کیا اور کہنے لگے۔ مجھے یہ آٹھ جماعتی اتحاد زیادہ عرصہ چلنے والا نہیں لگتا

اب میں نے بھی کچھ تو کہنا تھا۔ عرض کیا، حضور جن کاریگر لوگوں نے یہ کاک ٹیل بنائی ہے۔ اس کی expiry date کا تعین وہ پہلے سے کر چکے ہوں گے۔

تو میرا کہنا تو یہی ہے کہ جب تک خان کا مکو ٹھپ نہیں لیا جاتا۔ یہ حکومت رہے گی۔ اب خان پاگل پن میں جلسے تو کیے جا رہا ہے۔ عوام میں بیانیہ بنا کر بھی لے گیا ہے۔ ایک دوسرے کے متضاد دعوے بھی کر دیتا ہے۔ لوگ خوش آمدید بھی کہ رہے ہیں۔ لیکن آگے ایسا نہیں رہے گا۔ حکومت کے لیے اس وقت وفاق میں کابینہ کا چیلنج ہے۔ اور صوبے میں ابھی گورنر والا مسئلہ اٹکا ہوا ہے۔ شہباز شریف ساتھ گڈ گورننس کا بیانیہ بنا رہے ہیں۔

جو عوام کو نظر تو آ رہا ہے۔ لیکن بظاہر ان کی توجہ اس طرف نہیں ہے۔ لیکن ان کے لاشعور میں یہ چیز ضرور جگہ بنا رہی ہے۔ تو حکومت زیادہ تر خان کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اور اپنی توجہ کو کابینہ اور گورنر کے مسئلے پر فوکس کر کے مضبوطی سے اپنے قدم جمانے اور اختیارات حاصل کرنے کو ٹارگٹ کیے ہوئے ہے۔ جب حکومت باقاعدہ بن گئی، گورنر اپنے ہوں گے۔ تو آپ دیکھیے گا کہ حالات میں تبدیلی آنی شروع ہو جائے گی۔

اب رمضان ہے۔ رات میں سارے سرکاری ملازمین، بہت حد تک پرائیویٹ اور زیادہ تر دکاندار فری ہوتے ہیں۔ اور فری وقت کو تفریح میں بدلنا ہر بندے کی ترجیح ہے۔ رمضان ختم ہو جائے گا۔ لوگ مصروف ہو جائیں گے۔ ساتھ ہی جیسے ابھی صرف توشہ خانہ والا ایشو سامنے آیا ہے۔ اور بھی کیسز سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ لوگ ان سکینڈلز کو دل سے ٹھیک تسلیم بھی کر لیں گے۔ اور زوروشور کے ساتھ پبلک میں دفاع بھی کریں گے۔ عمران خان نے جیسا جلسہ پشاور اور کراچی میں کر کے دیکھ لیا، دوبارہ وہاں ویسے ہجوم اکٹھا نہیں کر سکتے۔ لوگ ابھی اسٹیبلشمنٹ پر، زرداری، نواز پر پرانا غصہ نکال رہے ہیں۔ اور وہ جوش نکل کر جس کے خلاف بھی ہے ٹھنڈا پڑنا شروع ہو جائے گا۔

مسلم لیگ نون کا ووٹر اور سپورٹر اس دن باہر نکلے گا جب اس کھیل میں نواز شریف صاحب کی دبنگ انٹری ہو گی۔ مسلم لیگ نون اس انٹری کو شیر کی انٹری بنانے کے لئے سب سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگا دیے گی۔ کہنے کا مطلب ہے پہلے خان کا پاور بیس کنٹرول کیا جائے گا۔ اس کے بعد نا اہلی اول تو فارن فنڈنگ کیس میں ہی میرٹ پر بنتی ہے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں سے صرف گھسٹنا شروع کیا جائے اور ادھ مرا کر کے چھوڑ دیا جائے۔

اور اگلے الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے نیم مردہ خان کو کسی دوسرے کیس میں نا اہل کر دیا جائے۔ ایک بات طے ہے کہ خان صاحب دوبارہ حکومت میں نہیں آئیں گے۔ صرف ایک ہی صورت ہو سکتی ہے۔ خان صاحب کے موجودہ دشمن اور خان صاحب آپس میں ملے ہوئے ہوں۔ جس کا امکان بظاہر تو نہیں ہے۔ خان صاحب ایک تاثر یہ دے رہے ہیں۔ کہ وہ تختے سے نہیں ڈرتے اور وہ بھٹو ثانی ہیں۔ ابھی انہیں اس راہ کی سختیوں کا اندازہ نہیں۔

Facebook Comments HS