سیاست کو سامنا ہے ایک غیر سیاسی چیلنج کا


عمران خان جس تعداد میں لوگوں کو لے کر نکلے ہوئے ہیں اس پر رشک کرنا چاہیے۔ ان کی آواز پر نکلنے والے لوگ تازہ دم ہیں اور ہر حد سے گزرنے کو تیار ہیں۔

اسے بھی خان صاحب کی کامیابی ہی کہیے کہ بری کارکردگی کے باوجود وہ ایک غیر سیاسی بیانیہ بیچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ لوگ ان سے مہنگائی بے روزگاری اور بد انتظامی کے متعلق سوال نہیں کر رہے۔ لوگ اس بات پر مطمئن ہیں کہ وہ امریکہ کو للکار رہے ہیں اور آزادی و خود مختاری جیسے مبہم نعرے لگا رہے ہیں۔

موٹی سی ایک بات، جو خان صاحب کی سمجھ میں آ گئی ہے، وہ یہ ہے کہ کس محلے میں کون سا سودا آسانی سے بکتا ہے۔ نوجوان کو سننے میں کیا پسند ہے، بزرگ کیسے رام ہوتے ہیں، محب وطن کیا چاہتا ہے اور خیالی دنیا میں جینے والے ضمیر کی خوراک کیا ہے۔ ان کا مذہبی مشرب تو اتنا وسیع ہے کہ جب گزرتے ہیں تحریک طالبان سے لے کر درگاہ عارفین تک ہر خشک و تر کو مطمئن کر کے گزرتے ہیں۔ اندازہ کریں کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ہر وہ قدم اٹھایا، جو ٹرمپ کابینہ کو مطلوب تھا مگر وہ امریکہ مخالف کی حیثیت سے عوام میں موجود ہیں۔

خان صاحب کا مسئلہ پاکستان میں ہے۔ اس مسئلے کی نشاندہی ان کے کارکن زیادہ بہتر انداز میں کر رہے ہیں۔ خان صاحب نے خود ذرا لمبی فلائٹ لی ہوئی ہے۔ وہ امریکہ کے سات چکر کاٹ کر بات سمیٹتے ہیں۔ اشاروں کنایوں میں وہ باور کروا رہے ہیں کہ دیکھو پبلک میں غم و غصے کا عالم کیا ہے۔ تم نے مجھے ہلکا لے لیا تھا مگر دیکھ لو میں نظم کائنات کو درہم برہم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہوں۔ میں نہیں ہوں گا تو پچ پر کوئی اور بھی نہیں کھیلے گا۔ تعداد کم زیادہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا، جیسے ہی ہاتھ پڑے گا میں وکٹیں اکھاڑ کر لے جاؤں گا۔

سیاست کے طالب علموں کے لیے یہ صورت حال اس لیے بھی دلچسپ ہو گئی ہے کہ ”تیرا غم میرا غم اک جیسا صنم“ والے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ خدشہ تو کئی لوگ ظاہر کر چکے تھے کہ خان صاحب بھی ان تجربات سے کسی دن گزریں گے، جن سے میاں صاحب نوے کی دہائی میں گزرے تھے مگر اتنے جلدی گزر جائیں گے یہ کسی نے نہیں سوچا تھا۔

اب یہ امید کی جا رہی ہے کہ یکساں تجربات سے گزرنے کے بعد پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قوتیں ایک پیج پر آ جائیں گی۔ مل بیٹھ کر طے کریں گی کہ سیاست میں اداروں کی مداخلت کو روکا جائے گا۔ حکومتوں کو مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اپوزیشن کا کام تنقید اور نشاندہی ہو گا۔ نظام کو مفلوج کرنے سے گریز کیا جائے گا۔ غیر سیاسی بیانیوں پر انتخابی مہم استوار کرنے کی بجائے آئین کی بالادستی کو ایک نکاتی ایجنڈا بنایا جائے گا۔

یہ امید اچھی بھی ہے اور بجا بھی ہے مگر ایک بڑی مشکل کا سامنا اب بھی ہے۔ ہر جماعت نے ایک کھڑکی احتیاطاً ً پنڈی کی جانب کھول رکھی ہے۔ کھڑکی کیا دروازہ بھی کھلا ہو تو کوئی ایسی بات نہیں ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ دروازہ کیوں کھلا ہے؟ ہمارے ہاں بے حلقہ جماعتوں نے دروازے اس لیے کھولے ہوتے ہیں کہ غیب سے کوئی طاقت آئے اور بیلٹ بکس میں برکتیں پھونک کر چلی جائے۔ جن کے پاس حلقہ ہے، وہ جماعتیں طاقت غیبی کو یہ بتانے کے لیے دروازہ کھلا رکھتی ہیں کہ دیکھیے ہمارے پاس ووٹ کی کمی ہے نہ رحمتوں اور برکتوں کی۔ کمی ہے تو کھلے میدان کی ہے۔ آپ بس اتنی مہربانی کر دیجیے کہ ہمارے حریف کا حقہ تازہ کرنے باز آ جائیے۔

قومی قیادت میں میثاق جمہوریت کے عنوان سے چور دروازے کو کسی نہ کسی حد تک بند رکھنے کا ایک رجحان پہلے سے موجود ہے۔ بڑا چیلنج یہ ہے کہ سیاست میں خان صاحب کی صورت میں آنے والی نئی طاقتوں کو اس دائرے میں کیسے شامل کیا جائے؟

چیلنج اس لیے بڑا ہے کہ خان صاحب کے لیے یہ دائرہ وارے میں نہیں پڑتا۔ کیونکہ یہ دائرہ سیاسی اور عوامی ہے۔ جبکہ خان صاحب اس حد تک غیر سیاسی ہیں کہ طاقت کے غیر عوامی مراکز بھی ان کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ چونکہ وہ غیر سیاسی ہیں، چنانچہ وہ سیاسی اور سفارتی پروٹوکول سمجھنے سے خطرناک حد تک محروم ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ کھیل کے ضابطے کو نہیں سمجھتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بے ضابطگی کو وہ جرات اور بہادری سمجھتے ہیں۔

خان صاحب عوامی بنیادوں پر جو چیز پورے دم سے کر سکتے ہیں وہ جلسہ ہے اور گھیراؤ ہے۔ اس کے لیے بھی مگر انہیں غیر عوامی نعرے کی ضرورت پڑتی ہے۔ حکومت سے محروم ہونے کے بعد ان کی یہ ضرورت بڑھ گئی ہے۔ کارکردگی مایوس کن نہ ہوتی تو ان کی گفتگو میں کچھ حوالے سیاسی بھی ہوتے۔ ان کے پاس کل ملا کر ایک تقریر ہے، جو انہوں نے جنرل اسمبلی میں کی تھی۔ اب اس میں یہ بات بھی شامل ہو گئی ہے کہ جہاں جاتے ہیں قمیص شلوار میں جاتے ہیں۔ پشاوری چپل، باغیچے میں پڑی جائے نماز اور چھبیس دانوں والی تسبیح کے اثرات اس کے سوا ہیں۔

آمدم بر سر مطلب۔ کیا خان صاحب عوامی بنیادوں پر انتخابی معرکہ مار سکتے ہیں؟ کیا تائید غیبی کے بغیر وہ اپنے حریف کو لتاڑ سکتے ہیں؟ زمینی اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو جواب ’ناں‘ میں بنتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنے حالیہ تجربات کو سامنے رکھ کر عوامی دھڑوں کے ساتھ کیوں شامل ہوں گے؟ ان کے لیے تو مناسب یہی ہے کہ کچھ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ طاقت غیبی نگاہیں پھیرنے پر توبہ تائب ہو جائے۔

یہی وجہ ہے کہ خان صاحب نے مزاحمت کے لیے، جو راگ چھیڑا ہے، وہ طاقت غیبی کی سیاسی مداخلت کو چیلنج نہیں کر رہا۔ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ملک کی بقا اور سلامتی تو آپ ہی کے ہاتھ میں ہے مگر بس یہ ہے کہ اس میں اگر مجھے شراکت مل جائے تو سلامتی کی حسین آنکھ میں سرمہ پھیرنے میں آسانی ہو جائے گی۔

اندریں حالات، ریاست سے یہ تقاضا کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ اپنے مداخلتی کردار پر نظر ثانی کر کے سیاسی طاقتوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھلا چھوڑ دے۔ کسی تقاضے کے بغیر بھی ریاست کوئی واضح لائن لے سکتی ہے مگر وہ الفاظ چبانے میں ہی عافیت جان رہی ہے۔

اس کی نظم کے ایک ہی بند میں نیوٹرل ہونے کا دعوی بھی ہوتا ہے اور مداخلت کا امکان بھی ہوتا ہے۔ سیاسی طاقتوں سے ہی یہ امید لگائی جا سکتی ہے کہ وہ اس غیر سیاسی سیلاب بلا خیز کا رخ کسی مناسب سمت میں موڑ کر نظم اجتماعی کو بچا لے جائیں۔ اس کے لیے حوصلہ چاہیے اور ذہانت چاہیے۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments