نیٹکو نہ خود معیاری بس سروس فراہم کر رہا ہے نہ دوسروں کو کرنے دے رہا ہے


بلتستان کے باشندوں کا سب سے بڑا مسئلہ ازل سے ہی دشوار گزار راہ گزر، سکردو روڈ جسے موت کا کنواں بھی کہا جاتا ہے، پر سفر رہا ہے۔ لوگ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس روڈ پر سفر کرتے تھے کیونکہ یہ روڈ سنگلاخ پہاڑوں کو تراش کر بنایا گیا ہے جہاں سے صرف ایک بڑی گاڑی گزر سکتی تھی، کہیں دو گاڑیاں آمنے سامنے آ جاتے تو ایک کو ریورس کر کے مخصوص جگہ تک لے جانا پڑتا، روڈ انتہائی تنگ اور نیچے گہری کھائی ہونے کی وجہ اکثر ایسے حادثات رو نما ہوتے جس میں انسانی لاش تک کو ریسکیو کرنا محال ہو جاتا۔

اس روڈ پر شہروں میں چلنے والی گاڑیاں ایک مرتبہ لے جائے تو ناکارہ ہو جائے، اس لیے مختلف مقامی ٹرانسپورٹ سروسز نے بھی سڑک کی خستہ حالی کو دیکھ کر گاڑیوں کی بناوٹ اس طرح کی ہوئی تھی کہ مسافروں کے لئے بے شک آرام دہ نہ ہو لیکن کم از کم با سلامت سفر کٹ جائے۔ نیٹکو نے بھی بڑی بڑی جمپر والی بسیں بلتستان کے حصے میں دے دیں یوں اتنا لمبا سفر بڑی مشقت میں کٹ جاتے اور ہر مسافر کا آتے جاتے یہی خواب ہوتا کہ کاش ایک نہ ایک دن یہ سڑک صحیح طرح بن جائے، معیاری بسیں ہوں اور سفری مشکلات میں کمی واقع ہو۔

گلگت بلتستان کی گزشتہ حکومت نے حافظ حفیظ الرحمان کی قیادت میں اس روڈ پر کام کیا اور تقریباً پینتیس بلین روپے کی لاگت سے اس کو کٹنگ کر کے کشادہ کرنے اور مکمل کارپٹنگ کر کے عام اور آرام دہ گاڑیوں کے لئے فیزیبل بنانے کا منصوبہ تیار کیا، اس عمل کے لئے کئی سال لگ گئے اور ہر سال آتے جاتے ہر مسافر بشمول مجھ کی یہی خواہش ہوتی کہ جلد از جلد یہ روڈ بن جائے اور فیصل موورز اور دیگر اچھی سروسز کے بسوں کی طرح یہاں بھی آرام دہ بسز چلے اور ان میں سفر کر کے طویل سفر بغیر مشقت کے کٹ جائے۔

حال ہی میں یہ ایف ڈبلیو او کی طرف سے اس روڈ پر کام مکمل ہو چکا ہے اور ہر قسم کی گاڑیاں پندرہ سے بیس گھنٹے میں بآسانی پنڈی سے سکردو تک جا سکتی ہیں۔ ایسے میں عام مسافروں کی نظریں ایک طرف لوکل ٹرانسپورٹ کمپنیوں پر پڑی ہوئی ہیں کہ کیا یہ کمپنیز نئی بسیں لائیں گی یا عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہی پرانے خستہ حال بسوں پر کام چلائیں گی؟ دوسری طرف فیصل موورز، کائنات یا کسی اور ڈائیوو کمپنی کے بارے میں خواہش ہے جو مناسب ریٹ میں آرام دہ اور ہر قسم کی سفری سہولیات سے آراستہ بسیں فراہم کرے۔

عوامی مطالبے کے عین مطابق فیصل موورز نے حال ہی میں پنڈی سے سکردو ٹرانسپورٹ سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سکردو میں باقاعدہ بکنگ آفس کھول دیا ہے۔ اب اس پر نیٹکو، جو خود پرانے بسوں پر کام چلا رہا ہے، کو اعتراض ہو گیا ہے اور فیصل موورز اور دیگر نئی کمپنیز کے خلاف سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشنز کی خدمت میں درخواست لکھی ہے کہ ان کے روٹ پرمٹ منسوخ کیا جائے۔ نیٹکو کا یہ رویہ سراسر حسد اور بدنیتی پر مبنی ہے، یہ اس درخواست میں اپنی خدمات کا تذکرہ کر رہے ہیں تو انہیں سوچنا چاہیے کہ اس وقت مسافروں کی ڈیمانڈ کیا ہے، کیا نیٹکو معیاری بس سروس فراہم کر سکتا ہے؟

کیا فیصل موورز اور دیگر کمپنیز کی طرح یہ بھی سہولیات مہیا کر سکتا ہے؟
کیا پرانی بسیں تبدیل ہو سکتی ہیں؟
کیا نیٹکو نئی ڈائیوو بسز سکردو تک لانچ کر سکتا ہے؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر انہیں کسی کمپنی کے خلاف درخواست دینے کی نوبت ہی نہ آتی، اور اگر جواب نفی میں ہے تو ان کو درخواست دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان کا مقصد ہی یہی ہے کہ العوام کالانعام کے تحت جو مرضی سلوک روا رکھا جائے اور وہی پرانی خستہ حال بسز پر گزارہ کرتے رہیں۔

سیکرٹری ایکسائز کو چاہیے کہ اس درخواست کو فوری مسترد کر دے اور بلتستان کی عوام کو بھی سوچنا چاہیے کہ آیا نیٹکو کی ہٹ دھرمی کا ساتھ دے کر سڑک بننے کے باوجود انہی خستہ حال بسوں میں سفر کر کے سفری مشکلات میں مزید اضافہ کرنا ہے یا نئی کمپنیز کو موقع دے کر آسانیوں کو خوش آمدید کہنا ہے۔

Facebook Comments HS