ڈئیر سیاستدانو، آپ کے حامیوں کی سیاسی تربیت ضروری ہے!

اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے اور اختلاف کرنے میں کوئی قباحت بھی نہیں کیونکہ اس اختلاف کے نتیجے میں ایک مثبت رائے قائم ہونے کی امید ہوتی ہے جس کے بل بوتے معاشرے میں ترقی بھی ہوتی ہے اور رواداری بھی قائم ہوتی ہے لیکن اگر اختلاف میں جھوٹ اور گالیاں دی جانے لگیں تو یہ ہی اختلاف معاشرے کے لئے زہر قاتل بن جاتا ہے اور معاشرے کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ جب معاشرے کا توازن بگڑتا ہے تو یہ معاشرے کے ہر طبقے پر کسی نہ کسی طرح اثر ڈالتا ہے۔
پاکستان کے سیاسی معاملات میں کچھ اسی طرح کا سلسلہ تین دہائیوں پہلے بھی ہوتا تھا پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ بہت بہتری آ گئی کیونکہ دونوں گروہوں نے بات کافی حد تک سمجھ لی تھی کے نقصان ہمیں ہی پہنچ رہا ہے۔ لیکن کچھ یوں ہوا اور بدقسمتی سے چند سال پہلے یہ نفرت انگیز سیاست دوبارہ شروع ہو گئی۔ اس عدم برداشت کے اجتماعی چلن سے پہلے بھی اختلاف کا اظہار ہوتا تھا اور اسے برداشت بھی کیا جاتا تھا۔ پہلے ایک بولتا تھا تو دوسرا سنتا تھا اور جب دوسرا بولتا تھا تو پہلا سنتا تھا، اور پھر اختلاف قائم رہتا تھا اور احترام بھی۔ اب سب ایک ساتھ بولتے ہیں اور کوئی کسی کو نہیں سنتا۔ صرف شور ہے، ایک طوفان بدتمیزی ہے، نہ احترام ہے اور نہ بات کرنے کا طریقہ۔ اب جہاں اختلاف ہے وہاں احترام باقی نہیں بچا۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے بدتمیزی کا نیا طوفان امڈ آیا ہے، جس میں تمام جماعتیں کسی نہ کسی طور شریک ہیں۔ ہمارا معاشرہ جو ویسے ہی گھٹن کا شکار تھا اس میں اس ماحول نے مزید گھٹن پیدا کردی ہے۔ کبھی اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں عین افطاری کے وقت جھگڑا ہوجاتا ہے تو کبھی حیدرآباد میں ایک پارٹی کا جھنڈا جلا دیا جاتا ہے، کبھی کمینٹس کی وجہ سے دو سیاسی گروپوں میں مسلح تصادم ہوجاتا ہے اور کبھی ننگی گندی گالیوں کی ٹرینڈ نگ چل رہی ہوتی ہے۔ گویا عدم برداشت نے ہر شہر، ہر علاقے میں ڈیرے ڈال دیے ہیں اور باہمی ادب و احترام ختم ہو کر رہ گیا ہے۔
موجودہ دور پاکستانی سیاست بہت ہی غلط جانب جا چکی ہے جو کے اجتماعی طور کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر بھی ہمیں شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ سیاسی اختلاف رائے نہ صرف دوستوں میں بلکہ خاندانوں میں بھی دراڑ پیدا کر رہا ہے۔ سیاسی اختلاف کی وجہ سے خاندانوں میں لڑائی جھگڑے ہونے لگے ہیں۔ واٹس اپ پر بنے فیملی گروپس میں طوفان برپا ہے، بلکہ سونامی برپا ہے، واٹس اپ فیملی گروپ جس میں اچھی گفتگو ہوتی تھی، فیملی ایونٹ ڈسکس ہوتے تھے اس میں سیاسی اختلاف کی وجہ سے لڑائیاں ہو رہی ہیں اور باقاعدہ ناراضگیاں ہو رہی ہیں۔ پہلے پہلے مذاق کا سلسلہ چل رہا ہوتا ہے اور اس درمیان کوئی ایسی بات کسی جانب سے ہوجاتی ہے جو ذاتیات پر ہوتی ہے جس سے معاملہ گرم ہوجاتا ہے اور لڑائی جھگڑے اور ناراضگیوں تک بات چلی جاتی ہے۔
تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو فوری طور پر تربیتی ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے ورنہ مستقبل میں سیاست کرنا اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ یہ ہی سلسلہ جاری رہا تو برداشت ختم ہو جائے گی اور اگر برداشت ختم ہو گئی تو اختلافات گھر گھر ہوں گے ، لڑائیاں گلی گلی ہوں گی ، دنگے شہر شہر ہوں گے اور اس سیاسی عدم برداشت کے نتیجے میں فساد برپا ہو گا۔ جو جہاں کمزور ہو گا وہاں وہ مخالف پارٹی سے مار کھائے گا۔ ان سب میں نقصان بڑوں کا نہیں ہو گا کیونکہ وہ تو آخر میں آپس میں مل بیٹھتے ہیں، اس میں نقصان عام کارکنان کا ہو گا جس میں عام زندگیاں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ تمام سیاست دانوں سے گزارش ہے کہ اپنے کارکنوں کو نعروں کے ساتھ ساتھ برداشت کا سبق بھی یاد کرائیں۔

