توشہ خانہ کے تحائف کی اہم تفصیلات ابھِی تک پوشیدہ رکھی جا رہی ہیں


بلاشبہ آج کے کالم کا عنوان سابق وزیر اعظم عمران خان کا وہ موقف ہے جو انہوں نے غیر ملکی سربراہان سے اپنی وزارت عظمی کے دوران ملنے والے قیمتی تحائف کی فروخت کے حوالے سے بیان کیا ہے، اول یہ کہ عمران خان کے بیان سے واضح ہو گیا کہ انہوں نے خود کو ملنے والے قیمتی تحائف مارکیٹ میں فروخت کرنے کی تردید نہیں کی بلکہ انہوں نے اپنے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے موقف کی تائید کی ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ جب کسی نے تحفے میں ملنے والی گھڑی حکومت سے خرید لی تو وہ اس کی ہو گئی، اب وہ اپنے پاس رکھے یا بیچ دے اس کی مرضی ہے۔

دوئم یہ کہ وہ لوگ جو گزشتہ آٹھ ماہ سے میرے اوپر لعن طعن کر رہے تھے اور توشہ خانہ کیس کو جھوٹ کا پلندا قرار رہے تھے آج ان کو تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ میں حق بجانب تھا۔ اگر وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والے غیر ملکی تحائف کی معلومات (قانون کے مطابق) مجھے بروقت مل جاتی تو آج عمران خان کٹہرے میں ہوتے۔ اس میں شبہ نہیں کہ معلومات تک رسائی کا قانون پاکستان کے اندر موجود ہے لیکن ایسے قانون کا کیا فائدہ جو کسی وزیر اعظم کے کرسی پر موجود ہوتے ہوئے اس کی معلومات نہ دلوا سکے۔

کہنے کو تو پاکستان انفارمیشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے اور کمیشن نے 27 جنوری 2021 کو فیصلہ دیدیا تھا کہ سات روز کے اندر وزیر اعظم عمران خان کے غیر ملکی تحائف کی مطلوبہ معلومات فراہم کردی جائیں، مگر وہ فیصلہ کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہوا کیونکہ میں اس عرصے میں مسلسل پاکستان انفارمیشن کمیشن اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چکر کاٹتا رہا، جوتیاں چٹخاتا رہا۔ مگر عمران خان کو ملنے والے غیر ملکی تحائف کی معلومات نہ ملنی تھی اور نہ مل سکی۔

تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ سیکرٹری کابینہ ڈویژن احمد نواز سکھیرا جو کہتے تھے کہ وفاقی حکومت سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں ہوتا، وہ اپنی بدمعاشی دکھانے میں کامیاب رہے اور آج بھی انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کہ (جانتے بوجھتے ) پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پر کیوں عملدرآمد نہیں کیا۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ بھی عمران خان کو ملنے والے غیر ملکی تحائف کی معلومات کی عدم فراہمی کی اتنی ہی ذمہ دار ہے، 15 ستمبر 2021 کو وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن کے ذریعے انفارمیشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا جبکہ سات ماہ میں وہ اس بات کا تعین نہیں کر سکے کہ وزیر اعظم کو ملنے والے تحائف کی معلومات فراہم کی جانی چاہئیں یا نہیں! حتیٰ کہ آٹھ دسمبر 2021 کے بعد مقدمے کی تاریخ ہی مقرر نہیں کی گئی۔

دیکھیں نا، عمران خان کے وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹتے ہی اگلے چند روز میں ان کو ملنے والے تمام غیر ملکی تحائف کی تفصیلات اچانک عام ہو گئی، دلچسپ بات یہ کہ جو صحافی پچھلے ڈیڑھ سال سے اس کے لئے جد و جہد کر رہا تھا، مقدمہ لڑ رہا تھا اس کو کابینہ ڈویژن کی جانب سے ابھی تک مصدقہ معلومات فراہم نہیں کی گئی، اس کے برعکس مسلم لیگ نون کے چند چہیتے صحافی بریکنگ نیوز دینے لگے کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے دوران غیر ملکی سربراہان سے اتنے تحفے ملے جو انہوں نے اتنی قیمت ادا کر کے اپنے پاس رکھ لیے اور بعد ازاں فلاں فلاں تحفے مارکیٹ میں فروخت کر دیے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مذکورہ معلومات ایسے صحافیوں کو فراہم کی گئی جن کو اس معاملے کے سیاق و سباق کا معلوم نہیں، لہٰذا وہ ’میرا تحفہ میری مرضی‘ والا موقف آنے کے بعد گم سم سے ہو گئے ہیں۔ دراصل کسی کی خبر چوری کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔

دیکھا جائے تو جو معلومات اب تک منظر عام پر آئی ہیں، اس کے تناظر میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا موقف بظاہر درست لگتا ہے کہ ان کو غیر ملکی سربراہان سے تحائف ملے جو انہوں نے قیمت ادا کر کے حکومت سے خرید لیے، اب ان کی مرضی کہ خریدا ہوا تحفہ اپنے پاس رکھیں یا مارکیٹ میں فروخت کریں، کسی کو کیونکر حق ہے پوچھتا پھرے!

مگر ایسا نہیں جناب، ابھی پبلک انفارمیشن افسر (کابینہ ڈویژن) کو میری مطلوبہ معلومات مصدقہ کاپی مجھے فراہم کرنی ہے جبکہ میں نے صرف یہ معلومات نہیں مانگی تھی جو کابینہ ڈویژن نے عام کر کے دراصل سابق وزیر اعظم کو بچانے کی ایک بھونڈی کوشش کی ہے۔ 23 نومبر 2020 کو میری طرف سے پبلک انفارمیشن افسر (کابینہ ڈویژن) کو بھجوائی گئی آر ٹی آئی ریکویسٹ میں پوچھا گیا تھا۔

1۔ 18 اگست 2018 تا 31 اکتوبر 2021 کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو غیر ملکی سربراہان حکومت و مملکت سے کتنے اور کیا کیا تحائف ملے؟

2۔ 18 اگست 2018 تا 31 اکتوبر 2021 کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو غیر ملکی سربراہان حکومت و مملکت سے جو تحائف ملے ان مکمل تفصیل (سپسی فکیشن، ماڈل وغیرہ) کیا ہے؟

3۔ 18 اگست 2018 تا 31 اکتوبر 2021 کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو غیر ملکی سربراہان حکومت و مملکت سے جو تحائف موصول ہوئے ان میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پاس کتنے رکھے اور توشہ خانہ میں کتنے تحائف جمع کروائے گئے؟

4۔ 18 اگست 2018 تا 31 اکتوبر 2021 کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو غیر ملکی سربراہان حکومت و مملکت سے ملنے والے تحائف میں سے عمران خان نے جو تحفے اپنے پاس رکھ لیے ان کے عیوض کتنی رقم ادا کی گئی؟

5۔ 18 اگست 2018 تا 31 اکتوبر 2021 کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو غیر ملکی سربراہان حکومت و مملکت سے ملنے والے تحائف میں سے عمران خان نے جو تحفے اپنے پاس رکھے ان کے لئے رقم کی ادائیگی کس بینک اکاؤنٹ سے ہوئی (اکاؤنٹ ہولڈر کا نام، اکاؤنٹ نمبر، برانچ کا نام اور بینک کا نام بتا یا جائے) ؟

دراصل سابق وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والے غیر ملکی تحائف کی جو معلومات کابینہ ڈویژن نے منکشف کی ہیں اس دستاویز میں تحائف کے نام، تحائف کی قیمت کا تخمینہ اور ادا کی گئی رقم تو بتائی گئی ہے تاہم تحائف کی تفصیل (سپیسی فکیشن اور ماڈل وغیرہ) خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ ان کی مارکیٹ ویلیو اور کابینہ ڈویژن کے ڈپٹی سیکرٹری/انچارج توشہ خانہ کی جانب سے مقرر کردہ قیمت کا کوئی موازنہ نہ کر سکے۔ نیز میرا آخری سوال بھی ہنوز جواب طلب ہے کہ رقم کی ادائیگی کس بینک اکاؤنٹ بلکہ کس کے اکاؤنٹ سے ہوئی۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت سے بھی گزارش ہے کہ اتنی جلد بازی اچھی نہیں ہوتی، ابھی تو آپ چند چہیتے صحافیوں کی نادانی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مگر مقدمے کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں 20 اپریل 2022 کو سماعت مقرر ہے جبکہ قوی امید ہے کہ کابینہ ڈویژن کے حکام عدالت میں ساری مطلوبہ معلومات پیش کر دیں گے، پھر سیاہ سفید سامنے آ جائے گا جبکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی بھی ہو جائے گا کہ کس تحفے میں کتنی انڈر پرائسنگ کر کے عمران خان صاحب! آپ نے کتنا مالی فائدہ اٹھایا اور وہ ادائیگی بھی آپ کے اکاؤنٹ سے ہوئی یا آپ کی کسی اے ٹی ایم نے رقم کی ادائیگی کی تھی!

Facebook Comments HS