عمران ایسے متحرک لیڈر کی ناکامی کے اسباب اور مستقبل کی توقعات


اس نے کہا کہ پینے کا صاف پانی اور تھانہ کچہری کا نظام درست کروں گا۔ کسی سے بھیک نہ لوں گا۔ کشکول توڑوں گا۔ پاکستانی پاسپورٹ کی عزت کراؤں گا۔ ہم خوددار قوم بن کر جئیں گے۔ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہو گا۔ لوٹی دولت واپس لائی جائے گی۔ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کا بندوبست ہو گا۔ بہترین بلدیاتی الیکشن کا انعقاد اور پنچائتی نظام رائج ہو گا۔ ہمارے دور میں اساتذہ اور منصفین کی پذیرائی ہوگی۔ ملک کو گندگی، کرپشن سے صاف کیا جائے گا۔

غرض ایسے تمام دلفریب سماجی تقاضے پی ٹی آئی کی پوٹلی میں تھے جو پوٹلی ہی میں رہے ؛ تاہم کچھ نئی صورتیں ”ریاست مدینہ“ کے نام پر مشخص ہوئیں، جن کی بابت ہم آخر میں بات کریں گے۔ پہلے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ وہ کون سے عوامل تھے جن کے سبب عمران ایسا متحرک لیڈر ناکام ہوا۔ کیا یہ اس کی غلط سلیکشن تھی یا حد سے بڑھی ہوئی خوداعتمادی، جس نے ساڑھے تین برسوں میں بے یقینی، ہوش ربا مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری، امن عامہ کی بدتر صورت اور انتہائی کمزور انتظامی صورت کو جنم دیا۔

کیا یہ مافیا کا گٹھ جوڑ تھا یا پارلیمانی نظام کی بعض خودکار خرابیاں، جن کے سبب ایک بڑا اصلاحاتی ایجنڈا ناکام ہوا؟ ان سب پر گفتگو کرنا یا ان امور کو احاطہ تحریر میں لانا ایک آدھ مضمون یا کالم کے بس کی بات نہیں، البتہ ہم اس تحریر کو، اس کے اقتضا کے مطابق، پھیلانے ہوئے اختصار سے ان پرتوں کو اٹھانے کا جتن کریں گے جن کے سبب ایک شاندار خوابوں کی دھند میں گم عمارت، زمیں بوس ہوئی اور اسے پھر سے تعمیر کرنے کی نیو ڈالی جا رہی ہے۔ اول ہم یہ دیکھیں گے کہ خان صاحب کی جانب سے قصداً اور کس نوع کی فروگزاشتیں ہوئیں؟

2018 ء کے الیکشن کے بعد ، جس شے کی بہت شدت سے کمی محسوس ہوئی وہ معاشی بندوبست کے ساتھ انتظامی امور میں ناتجربہ کاری کا عنصر تھا جس نے خاص طور سے پنجاب ایسے بڑے صوبے کو مسلسل خرابے سے دوچار رکھا اور ایک ایسے فرد کو اس کا نگران بنایا جو شاید پرائمری سکول چلانے کی ذمہ داری بھی نہ لے سکتا تھا یا اس اہلیت سے تہی داماں تھا۔ اسے بزدار کی بدقسمتی کہیے کہ وہ شخصی سحر سے محروم شخص تھا۔ اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنے انداز اطوار سے کم پڑھا لکھا اور ضرورت سے زائد سادہ معلوم ہوتا تھا۔

خان صاحب کے وسیم اکرم پلس کہنے کے باوجود دل یہ ماننے کو تیار نہ ہوا کہ یہ شخص آئندہ کو، بہتر انتظامی صورت کا ڈول ڈالے گا۔ عوام کا اور خاص طور سے پی ٹی آئی کے ورکروں اور پنجاب کے رہنماؤں کے لیے یہ امر اس لیے بھی سوہان روح تھا کہ موصوف کا تعلق پی ٹی آئی سے کبھی نہ رہا تھا اور نہ بظاہر کوئی ایسی حکمت افروز شے نظر آئی کہ ً خان صاحب کی ادعائی پر آمنا و صدقنا کہا جاتا۔ خدشات بڑی حد تک درست ثابت ہوئے اور شہر لاہور جو میاں فیملی کا رین بسیرا ہے میں ایک ایسے ناتجربہ کار کو زمام حکومت سونپی گئی جو کسی طور اس کے اہل نہ تھا؛ علمی و فکری ناآشنائی اور انتظامی امور سے نابلد، حد سے زیادہ، سیدھی سادی شخصیت جو خود اعتمادی کے عنصر محروم تھی آخر کیوں کر اور کیسے بارہ کروڑ کے صوبہ کو چلا سکتی تھی؟

اور میاں صاحبان کا مقابلہ بھلا کیوں کر ہو سکتا تھا؟ چاہیے تو یہ تھا کہ شہر لاہور کی کسی قد آور شخصیت کو پنجاب کی رہبری تفویض کی جاتی اور جو علمی اور انتظامی حوالوں سے شہرہ رکھتی اور پھر یہ کہ میاں برادران بالخصوص چھوٹے میاں اور ان کے چالاک سیاسی فرزند کا کچھ ”اپائے“ کرنے کی اہل ہوتی لیکن یہاں تو معاملہ یکسر اس کے برعکس تھا۔ موصوف ان ساڑھے تین برسوں میں اتنی بھی خود اعتمادی حاصل نہ کرپائے کہ صحافیوں کے سامنے بیٹھ کر لائیو پریس کانفرنس ہی کر جاتے یا عوام کو اپنی انتظامی اور ترقیاتی ترجیحات کی بابت برابر باخبر رکھتے۔

ایسے میں چست و چاق چھوٹے میاں اور ان کے ”لائق“ سیاسی فرزند کا مقابلہ کس طرح سے ہو سکتا تھا؟ آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹریز اور دیگر شعبہ ہائے جات کے سیکرٹریز کے تبادلوں اور نت نئی تعیناتیوں سے پنجاب میں مسلسل ایک بھونچال کی کیفیت رہی۔ کسی سیکرٹری کو یہ اعتماد نہ تھا کہ اسے جس ڈیپارٹمنٹ میں تعینات کیا گیا ہے وہ وہاں کتنا عرصہ، کتنے گھنٹے یا دن مقتدر رہے گا۔ ڈیپارٹمنٹس میں تواتر سے اوپر تلے تعیناتیوں سے انتظامی امور میں تعطل رہا۔

اس لیے کچھ بڑا یا اچھا ڈلیور نہ ہوسکا؛ اور لوگوں کا یہ احساس تقویت پکڑتا گیا کہ سب کچھ اسلام آباد سے ریموٹ کنٹرول ہو رہا ہے ؛ ایسے میں عمران خان صاحب کی پھرتیاں بھی کام نہ آئیں یعنی ان کا قریباً ہر ماہ خود آن کر وزراء کی میٹنگ کی صدارت کرنا اور مختلف امور میں احکامات جاری کرنا بڑی حد تک بے سود رہا۔ مہنگائی اور بجلی پٹرول کی قیمتوں کے سبب عوام اور پی ٹی آئی کا تعلق ہر گزرتے دن کے کمزور ہونے لگا اور بلند بانگ دعووں کی قلعی کھلنے لگی۔

اگرچہ خرابیوں کی ایک بڑی وجہ کرونا بھی تھا جسے پی ٹی آئی حکومت نے کمال مہارت سے قابو میں رکھا البتہ اس کے پیش آئندہ مضمرات مہنگائی کی صورت، سامنے آئے جو عوامی تنفر کا بہر طور، بڑا سبب بن گئے۔ مہنگائی اگرچہ مقامی معاملہ نہ تھا لیکن اپوزیشن کی آٹا، چینی چور کی گردان نہ ٹوٹنے پائی اور ”ترین“ جسے اپوزیشن نے ہمیشہ نشانہ پر رکھا، پی ٹی آئی سے گہری وابستگی کے سبب مختلف بحرانوں کی علت قرار پایا۔ یہ جدا بات کہ اب ”ترین“ اور ”علیم“ ن لیگ کو پیارے ہو گئے بلکہ ان کے راج دلارے بن گئے۔

غرض مہنگائی جو اب ایک عالمی بحران کی صورت مختلف ممالک کی معیشت پر بدترین اثرات مرتب کیے ہوئے ہے پاکستان کے لیے اذیت کے نت نئے در وا کر چکی ہے ؛ ہماری سماجی قدریں غربت کے ہاتھوں سسک رہی ہیں، رہی سہی کسر آئی ایم ایف کے وہ جملہ تقاضے ہیں جو سبسڈی کے خاتمے اور اداروں کی پرائیوٹائزیشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ عمرانی حکومت، نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کے مصداق، بیشتر شرائط کو بلا چوں چرا ماننے پر مجبور رہی تاکہ دیوالیہ پن سے بچا جائے ؛ لیکن اس کدو کاوش میں قریباً ہر پندرہ روز کے بعد پٹرول اور گاہے گاہے بجلی کی قیمت بڑھانا پڑی۔

یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ نچلے اور درمیانے طبقے کے لیے یہ حکومت کوئی خاطر خواہ آسودگی کا وسیلہ نہ بن سکی اور یوں لگا کہ رفتہ رفتہ حکومت چینی اور آٹا مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک رہی ہے۔ جو تحقیقات ہوئیں ان کی سفارشات سے محض فائلوں کی دبازت میں اضافہ ہوا۔ کوئی سرکردہ یا بڑی مچھلی پکڑی نہ جا سکی؛ بلکہ وہ لوگ دندناتے پھرے اور مختلف پریشر گروپ کی صورت حکومت کی گردن دبانے لگے۔ پارلیمانی نظام کی بائی ڈیفالٹ کمزوری یا سقم یہ ہے کہ آپ کرپشن پر، منتخب طاقتور شخصیات کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور یہ قریباً سب ترقی پذیر ممالک کا المیہ ہے۔

جہاں جہاں پارلیمانی نظام رائج ہے وہاں پریشر گروپ اور چھوٹی بڑی جماعتیں اسی طرح حکومتوں کو دباتی ہیں اور اپنے جائز، ناجائز مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ وزیراعظم بے بس ہوتا ہے۔ اسے ان کی کرپشن یا بداعمالیوں پر صرف نظر کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ المیہ داستان گزشتہ کئی دہائیوں سے لکھی اور سنائی جا رہی ہے۔ اس پر تفصیلاً گفتگو کرنے کے لیے اک جدا باب کی ضرورت ہے۔ یہاں فی الوقت ہم عمرانی دور ہی کے اسقام و محاسن سامنے لانے کی جستجو کر رہے ہیں۔

پنجاب کی طرح ”کے پی“ حکومت سے بھی عوام کی بڑی تعداد متنفر رہی۔ اگرچہ بزدار کے مقابل شخصی اعتبار سے محمود خان متاثر کرتے ہیں لیکن انتظامی معاملات میں ان کی استعداد بھی کوئی بہتر نقش نہ ابھار سکی اور لوگ سابق وزیر اعلیٰ کے پی، پرویز خٹک کو یاد کرتے رہے جن کے دور میں قصبوں اور دیہاتوں میں بھی صفائی ستھرائی، پختہ گلیوں کی تعمیر اور شمسی اسٹریٹ لائٹ کے احسن بندوبست کے علاوہ امن عامہ کی بہتر فضا قائم رہی۔ مارکیٹوں اور منڈیوں میں حسن انتظام دکھائی دیا اور اسکول، کالج کی بہتر تدریسی صورت نے لوگوں کو متاثر کیا۔

بہرحال ہمارے پیش نظر موجودہ ساڑھے تین برس کی کارکردگی ہے اور اس میں بھی مرکز نگاہ پنجاب کی حکومت ہے جو اب، کل کی اپوزیشن کے مکمل کنٹرول میں آ چکا ہے۔ حمزہ شہباز اب اس بڑے انتظامی صوبہ کے منتظم اعلیٰ ہیں اور ان کے والد محترم، پاکستان کے وزیراعظم۔ پی ٹی آئی حکومت اگر ہٹ سے کام نہ لیتی اور شہباز شریف صاحب کو ملک سے باہر جانے دیا جاتا تو آج صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔

خیر، برے وقت کا اہتمام، بسا اوقات، ہمارے ان فیصلوں سے متعلق ہے جن کی بابت ہمارا گمان، عموماً مختلف ہوتا ہے۔ حکومت کے خلاف سازش کی کیا صورت ہوئی؟ اس میں امریکہ بہادر کا کتنا کردار ہے یا پھر اسٹیبلشمنٹ کا پی ٹی آئی سے ناراضی کا بنیادی سبب کیا بنا؟ اس پر خامہ فرسائی کسی اور مضمون میں ہو تو مناسب ہے، بصورت دیگر یہ تحریر سمٹنے میں نہ آئے گی۔

پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت پر ایک بڑا توہماتی الزام یہ آیا کہ لفظ ”ع“ پر خاص توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے ؛ اور متعدد تعیناتیاں اسی اثر میں ہوئیں، بلکہ پنجاب سے باہر بھی اس طرز انتخاب کو پیش نظر رکھا گیا؛ اور یہ مفروضہ جڑ پکڑتا گیا کہ اگر عثمان بزدار نہ رہا تو عمران بھی نہ رہے گا اور آج یہ بات، ایک حد تک، درست ثابت ہوئی۔ مرکز میں عمران اور پنجاب میں سیکنڈ لیڈرشپ کا جو اہتمام ہونا چاہیے تھا، بدقسمتی سے وہ نہ ہوسکا۔

عثمان بزدار کو پنجاب کی اکثریت بادل ناخواستہ اپنا وزیر اعلیٰ تسلیم کیے ہوئے تھی، وہ اسے مرکز میں کسی بڑے عہدہ پر براجمان نہیں دیکھ سکتی تھی۔ غرض یہ قیادت کا وہ بحران تھا اور ہے کہ پی ٹی آئی میں، خان صاحب کے بعد کھلا چٹیل میدان نظر آ رہا ہے۔ اگر دوسرے درجہ کی قیادت تیار نہ ہو، تو پارٹی لیڈر کے دائیں بائیں ہونے سے معاملات بکھر جاتے ہیں اور دھڑا دھڑ ڈیڑھ اینٹ کی مساجد بننے لگتی ہیں۔ پی ٹی آئی آج بھی اس بحران کا شکار ہے اور رہی بات توہمات کی تو بقول میر:

یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

توہم پرستی فرد کا ذاتی معاملہ ہے لیکن اگر اس کا سیاق سیاسی اور انتظامی امور میں بڑھا دیا جائے تو تنزل میں اترنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہی کچھ پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا جو زمینی حقائق سے بالا ہو کر، جذباتی انداز میں معاملات چلانے کی خوگر تھی، اور یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ آج بھی الیکشن مہم کے لئے ان کے پاس انتہائی جاندار بیانیہ موجود ہے۔ اس سارے عرصہ میں نہ تو لوٹی ہوئی دولت واپس آئی اور نہ مافیا کیفر کردار تک پہنچا تاہم ریاست مدینہ کے نام پر جو فلاحی آسودگی عملی طور پر معرض میں آئی ان میں ہیلتھ کارڈ، کیش وظائف، لنگر اور مسافر خانے لائق ذکر ہیں ؛ اور ان میں بھی ہیلتھ کارڈ اور کیش وظائف پاکستانی عوام کے لیے، مہنگائی کے طوفان میں، عافیت و تسکین کا غیر معمولی وسیلہ بنے۔

اس پر پی ٹی آئی حکومت کی جتنی بھی تحسین کی جائے وہ کم ہے۔ اس ضمن میں بجا طور پر ثانیہ نشتر، عثمان بزدار اور عمران خان داد کے مستحق ہیں کہ پہلی بار حکومتی سطح پر، لوگوں کے دکھ بانٹنے کی مخلصانہ کاوش ہوئی اور یہ انتہائی کامیاب کاوش ٹھہری۔ جنوبی ایشیا میں شاید ہی کوئی ملک اس نوع کی گراں قدر خدمات اپنی عوام کو بہم پہنچانے کی کوشش کر رہا ہو۔ عوام کی اس نہج پر خدمت ہمیشہ کے لیے بے مثل جانی جائے گی۔ اب سنا ہے کہ ہیلتھ کارڈ پر طبی سہولیات فراہم کرنے میں موجودہ عارضی بندوبست مانع ہے، اور کیش وظائف کو روک کر، ضرورت مندوں کے سینوں پر مونگ دلنا کسی بھی طور مناسب نہیں۔

دکھی لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے نہ کہ نمک چھڑکنا۔ اسی طرح بیرون ممالک سے بھیجی جانے والی رقوم میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا اور یہ پہلی بار ہوا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت نے حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے، رقوم کی منتقلی کے لیے، جائز اور قانونی وسائل برتے۔ یہ نہیں کہ پہلے سب ہنڈی کے ذریعہ ہی سے پیسے بھیجتے تھے لیکن جس بڑے پیمانے پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا اور ان کے ساتھ کھڑے ہوئے، اس پر بجا طور پر عمران خان فخر محسوس کر سکتے ہیں۔

اس حکومت کی ایک اور بڑی کامیابی کرونا وبا پر موثر کنٹرول تھا جس کے نتیجہ میں یہ وبا ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان کی مانند، ملکی بحران کا سبب نہ بنی اور ہم نے اس عالمی وبا کے بدترین دورانیہ میں بھی انتظامی اور کاروباری معاملات ایک حد تک متحرک رکھے۔ حکومت کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی روش کامیاب ٹھہری اور عالمی سطح پر اسے پذیرائی حاصل ہوئی۔

موجودہ سیاسی اور سماجی منظر نامہ پر گفتگو، اک جدا مضمون کی متقاضی ہے ؛ البتہ یہ کہنے میں کچھ باک نہیں کہ عمران خان ایک بار پھر 2018 ء کی پوزیشن پر کھڑا ہے اور اس بار اس کے بیانیے نے پھر سے بکنے کے وسیع امکانات پیدا کر لیے ہیں۔ نئی نسل پھر سے اس کے سحر میں گرفتار ہے۔

Facebook Comments HS