کیا ساگر کا یہ آخری خط ریاست پڑھنے کی زحمت گوارا کرے گی؟
میرا نام ساگر ہے اور آج اس خط لکھنے کے بعد میرا اس دنیا سے کوچ کرنے کا ارادہ ہے۔ میرے اس عمل کے لئے کوئی بھی ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے کہ میرا اپنا دل اس دنیا سے بھر گیا ہے، شاید یہ دنیا میرے لئے نہیں بنائی گئی ورنہ میں یہاں کچھ نہ کچھ تو کر ہی لیتا۔ فوٹوگرافی میرا کریز تھا مگر مجھے فلمیں بنانے کا بھی شوق تھا، اداکاری بھی کی اور یو ٹیوب کے لئے ایک آدھ شارٹ فلم بھی بنائی، وی لاگنگ بھی کی مگر کہیں بھی کامیابی نہیں ملی، تعلیم جاری رکھنا چاہی مگر وہاں بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی، ہر جگہ ناکام رہا۔
اور تو اور پیار میں بھی ناکام رہا۔ اگر صرف اس میدان میں ہی کامیاب ہوجاتا تو دل بڑا ہوجاتا۔ پیار مل جائے تو دل بڑا ہوتے ہوتے اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ پوری کائنات اپنے اندر سمونے لگتا ہے۔ مگر میری بدقسمتی کہ میں پیار جیسے حساس معاملے میں بھی ناکام رہا۔ گھر والوں نے نام ساگر رکھا تھا مگر ساگر کو پیار کی ایک بوند بھی نصیب نہیں ہوئی۔ پھر اماں کا پیار بھی چھوٹ گیا اور وہ بھی ایسے نگر کو سدھار گئیں جہاں سے کوئی بھی کبھی واپس نہیں آیا۔ جہاں میں اب جا رہا ہوں۔
اماں ایک بے حد متحرک سیاسی کارکن تھیں، ان کی وجہ سے مجھے بھی سیاست میں دلچسپی پیدا ہوئی اور میں نے وہ جلسے بھی اٹینڈ کیے جہاں اماں شرکت کرتی تھیں۔ میں اماں کو تقریر کرتے دیکھ کر بہت فخر محسوس کرتا تھا۔ وہ بڑے اعتماد سے اپنے جیسے غریب، لاچار اور بے بس لوگوں کے حقوق کی بات کرتی تھیں۔ مگر وہ نہیں جانتی تھیں کہ سیاست اس ملک میں خدمت نہیں ہے بلکہ بزنس ہے۔
اماں کا ساتھ تھا تو ایسے لگتا تھا جیسے ہر مشکل، ہر دکھ کو اماں نے روکا ہوا ہے، وہ دور کیا ہوئیں، ہر دکھ نے جیسے ہمارے گھر کا راستہ دیکھ لیا۔ اماں کی موت کے بعد ہی مجھے یہ احساس ہوا کہ میں زندگی کے ہر میدان میں ناکام ہونے لگا ہوں، اور جوں جوں وقت گزرتا گیا میرا یہ احساس دن بدن شدت اختیار کرتا گیا۔ میں مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہونے لگا۔ رہی سہی کسر اس ملک کے موجودہ سیاسی حالات نے پوری کردی۔ میں گزشتہ دنوں عدم اعتماد کی تحریک کو بڑے غور سے دیکھتا رہا۔
اس ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کے لیڈر ساٹھ ستر سال سے اوپر کو پہنچ گئے اور بدقسمتی سے ہم نوجوانوں کی تقدیر ان کے ہاتھوں میں ہے اور ستم تو یہ ہے کہ ہم نوجوانوں کے مسائل ان کی ایجنڈا پر ہیں ہی نہیں۔ ان کے سیاسی کھیل میں اس ملک کے نوجوانوں کو کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ بالکل اسی طرح مجھے بھی پیچھے صرف پچھتاوے اور آگے اندھیرا ہی اندھیرا نظر آ رہا ہے۔ میں تو اتنا غریب ہوں کہ روزگار کے لئے یہ ملک چھوڑ بھی نہیں سکتا۔
بس اس لئے میں نے دنیا چھوڑنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اب میں اس زندگی کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتا اور اماں کے بغیر رہنا بھی اب بہت ہی مشکل لگنے لگا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس ریاست کے پاس اتنا بھی وقت نہیں ہے کہ یہ میرا آخری خط ہی پڑھ لے مگر مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ وہ دنیا اس جھوٹی اور پرفریب دنیا سے لاکھ درجہ بہتر ہوگی اور قبر میں یہاں سے زیادہ سکون ملے گا۔ بس میری آخری وصیت یہ ہے کہ میری قبر کے کتبے پر میرا نام صرف ”ساگر“ لکھا جائے۔





