میں سب سے پہلے پولیس کو ٹھیک کروں گا


یہ سال 2018 کی بات ہے الیکشن کا دور دورہ تھا اور خان صاحب پورے ملک میں ریکارڈ توڑ جلسے کر رہے تھے۔ ایسے میں ان کا ایک جلسہ خانیوال میں بھی ہوا۔ خانیوال کا جلسہ بھی دیگر شہروں کی طرح شاندار تھا۔ عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ شبیر سٹیڈیم لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خان صاحب بڑے دبنگ انداز میں سے نا صرف اپنے سیاسی مخالفین کو لتاڑ رہے تھے بلکہ اس فرسودہ اور بوسیدہ سیاسی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔

خان صاحب کی تقریر میں بے شمار بار مغرب میں رائج نظام کی شفافیت کا ذکر آیا۔ تقریر اپنے پورے جوبن پر تھی کہ اچانک خان صاحب کی نظر چند پولیس والوں پر پڑی جو ایک جگہ کھڑے اپنی جلسہ ڈیوٹی نبھا رہے تھے۔ پنجاب پولیس کے افسران اور جوانوں نے ابھی تک پرانے نمونے کی کالی قمیض اور پیلی پتلون والی وردی پہنی ہوئی تھی۔ خان صاحب نے ان پولیس والوں کو دیکھتے ہی فلک شگاف انداز میں کہا ”میرے پاکستانیو! یاد رکھنا میں اقتدار میں آ کر سب سے پہلے پنجاب پولیس کو ٹھیک کروں گا“ خان صاحب کا پر عزم لہجہ ایک صبح نو کی نوید سنا رہا تھا۔

مجھ ایسے کئیوں نے اس نعرے کو ایک نئے عہد کا آغاز سمجھ لیا تھا کہ پولیس اب صحیح پولیس بن کر ابھرے گی۔ اس محکمے میں انگریز دور سے پڑے کس بل اب نکل جائیں گے۔ میں سوچتا تھا کہ خان صاحب اس ٹیڑھے محکمے کو کیسے ٹھیک کریں گے، کون کون سے اقدامات اٹھائیں گے۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ سب سے پہلے اس محکمے کو اندرونی اور بیرونی سیاست سے پاک کریں گے کیونکہ اس محکمے کے بال بال کو سیاست نے جکڑ رکھا ہے۔ پھر اس کے بعد خان صاحب پولیس کے انتظام و انصرام میں میرٹ کو یقینی بنانے کی پالیسی پر عملدرآمد کروائیں گے، تقرری، ترقی و تبادلوں میں صرف اور صرف میرٹ ہو گا۔

پولیس اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹ آئے گی یعنی یہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے فریضے کو اولیت دے گی۔ وی آئی پی سیکورٹی پہ متعین فورس کا بڑا حصہ واپس لاء اینڈ آرڈر ڈیوٹی پر متعین کر دیا جائے گا۔ پولیس کو وسائل مہیا کیے جائیں گے اور ان کے بنیادی مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دی جائے گی۔ پولیس کی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ٹریننگ کو یقینی بنایا جائے گا۔ تھانہ کچہری میں سے کرپشن کلچر کا خاتمہ ہو گا۔ تفتیش کے عمل کو میرٹ پر مکمل کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کو نکال باہر کیا جائے گا۔ محکمہ پولیس کی بنیادی اکائی یعنی ایک کانسٹیبل کی حالت زار کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی اور ہر پولیس اہلکار کو ریاست کا نمائندہ سمجھنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ ہمارے ملک میں بھی مغربی ممالک کی طرح رول آف لاء کا دور دورہ ہو گا۔ قانون اور ضابطے کی راہ میں حائل ہونے والوں کی بیخ کنی کی جائے گی اور سب سے اہم اور بنیادی بات کہ پولیس کی عزت نفس بحال کی جائے گی۔

الیکشن ہوئے، خان صاحب ملک کے وزیر اعظم بنے اور انھوں نے ناصر درانی صاحب کو پولیس ریفارمز کمیشن کا سربراہ بنا دیا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ بھی تھی کہ ایک بہترین شہرت کے حامل افسر محمد طاہر کو پنجاب کا آئی جی لگا دیا گیا۔ لیکن چند دنوں کے بعد آئی جی محمد طاہر کا تبادلہ کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ناصر درانی صاحب بھی مستعفی ہو گئے۔ ایک ہفتے کے اندر ہی کمیشن ناکارہ ہو گیا تھا جب درانی نے اس وقت کے آئی جی پی پنجاب محمد طاہر کے قبل از وقت تبادلے کے خلاف احتجاجاً کمیشن کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

پولیس ریفارمز کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ وزیر اعظم نے ناصر درانی کو پرویز خٹک کی حکومت میں آئی جی کے پی کے طور پر اپنے دور میں کے پی پولیس کو غیر سیاسی بنانے میں ان کی غیر معمولی کارکردگی کے بعد منتخب کیا تھا۔ وہ بار بار وزیر اعظم ناصر درانی کے کے پی میں کیے گئے کام کا ذکر کرتے رہے اور وعدہ کرتے رہے کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آنے کے بعد پنجاب پولیس کو غیر سیاسی کرے گی اور اسے ایک جدید فورس بنائے گی۔ تاہم ناصر درانی کے جانے کے بعد اس معاملے نے توجہ کھو دی اور اسے پیچھے کی طرف دھکیل دیا گیا۔

بلکہ پولیس کو درست کرنے کی نئی ڈھب یہ نکالی گئی کہ تین سال کے عرصے میں پنجاب کے 6 انسپکٹر جنرلز لگائے اور تبدیل کیے گئے۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پولیس اصلاحات کو یکے بعد دیگرے آنے والی سابقہ حکومتوں نے بھی نظر انداز کیے رکھا تاکہ طاقت کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ مگر خان صاحب نے تو عہد کیا تھا کہ پولیس میں اصلاحات لائیں گے، کے پی پولیس ایکٹ 2017 کو دوسرے صوبوں میں بھی لاگو کریں گے اور کے پی کی طرح پولیس کو غیر سیاسی کریں گے اور اس وسیع فورس کی قیادت کرنے کے لیے پیشہ ور انسپکٹر جنرلز کا تقرر کریں گے۔

خان صاحب آئے اور چلے گئے مگر دیگر بے شمار نعروں اور وعدوں کی طرح یہ نعرہ بھی فقط نعرہ ہی رہا اور یہ وعدہ بھی تکمیل کی دہلیز پار نہ کر سکا۔ اب فی نفسہ یہ بڑا بے محل سوال بن گیا ہے کہ خان صاحب کے دور حکومت میں پولیس کے محکمے میں کس قدر مثبت تبدیلی آئی؟

Facebook Comments HS