ماہواری اور اداکاری!

”کیا بتاؤں، نیند ہی نہیں پوری ہوتی۔ سحری کے وقت اٹھنا، سب کے ساتھ مل کر کھانا پینا، پھر دوبارہ سونے کی کوشش کرنا، دوبارہ نیند کہاں آتی ہے بھلا؟“
”مگر تم تو ماہواری میں ہو، روزہ تو رکھنا نہیں تھا پھر سحری میں کیوں جاگ گئیں؟“
”توبہ کرو، گھر میں کون مجھے سونے دے گا۔ بقول اماں، سحری میں سب کے ساتھ اٹھو، سب کے ساتھ روزہ کھولو۔ باپ بھائیوں کو پتہ نہ چلے کہ ماہواری آئی ہے“
”مگر کیوں؟ کیا باپ بھائیوں کو علم نہیں کہ نارمل لڑکیوں کو ماہواری آتی ہے؟ کیا تمہاری امی کو جب ماہواری آتی ہے تو ابا کو پتہ نہیں چلتا؟ جب بھائی کی بیوی کو ماہواری آئے گی تو کیا اسے علم نہیں ہو گا؟“
”بس یار کیا کہوں؟ کون سوچتا ہے یہ؟ سب کو غلاف چڑھی مصنوعی اقدار ہی اچھی لگتی ہیں۔ روزے میں تو خیر کھانے پینے سے کام چل جاتا ہے، سوچو نماز میں کیا حشر ہوتا ہو گا؟ جب میں مصلے پہ کھڑے ہو کر جھوٹ موٹ نماز پڑھنے کی اداکاری کرتی ہوں، وہ بھی ایک یا دو بار نہیں، دن میں پانچ بار، اور متواتر سات دن“
”سنو اگر میں تمہارے ابا کی جگہ ہوتی، تو تمہیں اب تک ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا پروگرام بنا چکی ہوتی“
”وہ کس لیے؟“
”میں سوچتی، ( سوچتا) میری بائیس برس کی بیٹی مہینے کے تیس دن نماز باقاعدگی سے پڑھتی ہے، پورے تیس روزے رکھتی ہے۔ کیا ابھی تک اسے ماہواری نہیں آئی؟ لگتا ہے نارمل نہیں“
وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی
”ابا نے سن لیا نا تو سوچیں گے یہ کس طرح کی باتیں کر رہی ہیں؟“
”تو سن لیں نا۔ انہیں پتہ چلنا چاہیے کہ لڑکیوں پہ مصنوعی شرم و حیا کا بوجھ لاد کر ان کی زندگی کس طرح مشکل بنائی جاتی ہے۔ گھر کی بچیوں سے یہ منافقت بھرا سلوک انہیں نارمل زندگی گزارنے سے روکتا ہے۔ روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کی اداکاری کس لیے؟ کیا جھوٹ پہ مبنی مصنوعی شرم و حیا کو ترک نہیں جا سکتا؟“
”بس کیا کہوں؟ اگر یہ باتیں میں گھر میں کر دوں نا تو بے حیائی کا طعنہ فوراً مل جائے گا“
رمضان سے وابستہ بے شمار
کہانیاں ہر روز سننے کو ملتی ہیں جس میں ماہواری کے دنوں میں روزہ نہ رکھنا عورت کا ایک ایسا گناہ بن جاتا ہے جسے ہر صورت پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سحری اور افطار میں شمولیت لازم، نماز پڑھنے کی اداکاری، درد ہونے کی صورت میں چھپ چھپا کر دوا کھانا، پیڈز کی خصوصی احتیاط کہ سب کی نظر سے چھپا رہے، اف تک نہ کرنے کی ہدایت کہ ابا کو علم نہ ہو جائے کہ بیٹی کو ماہواری آئی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابا سے ماہواری کے معاملات سے اس قدر رازداری برتنے کے کیا معنی؟ کیا ابا نہیں جانتے کہ وہ اپنی اماں کے بطن سے کسی ایسی ہی ماہواری کے نتیجے میں ہی اس دنیا میں تشریف لائے تھے؟ اور ان کی اپنی اولاد بھی اسی ماہواری کے حوالے سے جنم لے چکی ہے۔
یہاں یہ پوچھنا فطری ہے کہ کیا ابا کو تب بھی لاعلم رکھا جائے گا اگر کسی بچی کو اس کے اوائل شباب میں ماہواری شروع ہی نہ ہو اور بچی کی شناخت پہ سوال اٹھ کھڑا ہو؟
دوغلی فطرت رکھنے والا معاشرہ ان سوالات کو سن کر منہ پھیر لیتا ہے کہ خاموشی ہی میں عافیت ہے۔
اس گھٹن زدہ ماحول میں جینے کا تاوان عورت کو اپنی صحت گنوانے کی صورت میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں ماہواری کا نام لینا گناہ ہو وہاں اس سے متعلقہ مسائل کیسے حل کیے جاتے ہوں گے؟ ایسا محض ماہواری کے ساتھ نہیں، چھاتی بھی ان ممنوعہ موضوعات میں آتی ہے۔ چھاتی کے کینسر کی ابتدائی سٹیج میں تشخیص نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ وہی گریز ہے جس کی وجہ سے ان اعضا کی تکلیف کا اظہار عورت کے لیے نو گو ایریا بن جاتا ہے۔
نہ جانے کیسے مگر اس معاشرتی دباؤ سے نکلنے کا فیصلہ ہم نے بچپن ہی میں کر لیا۔ جب ماہواری کا سلسلہ شروع ہوا تو کسی بھی وقت نماز پڑھنے کی اداکاری نہیں کی۔
اور اس کا کریڈٹ ہمارے اماں ابا کو بھی جاتا ہے کہ تفتیش اور سوالات کی چھلنی سے اپنی بیٹیوں کو نہیں گزارا۔
یہی کچھ رمضان میں بھی ہوا۔ جن دنوں ماہواری ہوتی، ہم نے کبھی روزے میں ہونے کی اداکاری نہیں کی۔ سحری اور افطار میں حاضری لگوانے کی بجائے سیدھے سبھاؤ ایک ہی جواب تھا، روزے سے چھٹی ملی ہے ہمیں۔ اب جس کو جو بھی سمجھنا ہو، سمجھا کرے۔
اماں تو سمجھتی ہی تھیں مگر ابا نے بھی کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا کہ بیٹی کس خوشی میں چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر پورے گھر میں دندناتی پھر رہی ہے۔ ابا بھی وہ جنہوں نے پوری عمر کوئی نماز قضا نہ کی ہو، ساٹھ کی دہائی کے آخر میں حج کیا ہو اور باقی ممنوعات کی بھی پابندی کرتے ہوں۔
ہمیں ناز ہے کہ ایک صوم و صلوات کے پابند گھرانے سے تعلق نے بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری اور پرسنل باؤنڈری کی آگہی سے ہمیں محروم نہیں رکھا۔

