بچپن سے اس ملک کا نام پاکستان سنا ہے اس وطن کی سرزمین اور محب وطن کا جذبہ کتابوں، اسکولوں اور کالجز میں پڑھایا گیا۔ پھر اس ملک کے نام کا مطلب اساتذہ نے بڑی محنت سے سمجھایا، ساتھ ہی استادوں نے یہ بھی فرمایا کہ وقت اپنی کروٹ بھی بدلتا ہے۔ پھر زمانہ حالات و واقعات اور موسم بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ لوگوں کے ذہن بھی اپ ڈیٹ ( اپ ڈیٹ ) ہوتے ہیں۔ یہ استادوں کی بات سنی بھی مگر اس وقت تو سمجھ میں نہ آئی لیکن جیسے جیسے وقت کروٹ بدلتا گیا، ویسے ویسے استادوں کی بات سمجھ آنا شروع ہو گئی۔

اسکول کی زندگی میں استادوں سے کئی دفعہ سوال کیا کہ آپ بتاتے ہیں کہ زمانہ تبدیل ہوتا ہے مگر وہ کیسے؟ استادوں کا جواب تھا کہ:

” بیٹا یہ وقت آئے گا تو خود ہی واضح ہوتا جائے گا“

اس بات کا انتظار کرتے کرتے کافی عرصہ ہو گیا لیکن اس سوال کا جواب نہ ملا۔ کئی دفعہ اسکول استادوں سے ملنے گیا اس سوال کو دہرایا لیکن انہوں نے بتایا کہ:

” بیٹا صبر کرو وقت خود آ کر تمہیں بتائے گا کہ زمانہ بدل گیا ہے اور معنی بھی بدل گئے ہیں۔“

جب یہ الفاظ میرے کانوں میں پڑے تو تب بات اور بھی زیادہ دلچسپ ہو گئی۔ آخرکار وقت نے میرے آنگن پر دستک دی۔ وقت بڑا ہی پابند اور مخلص ہے جو اس کو پہچان گیا وہ حقیقت کو بھی پہچان گیا۔ مجھے استادوں کی وہ بات یاد آ گئی کہ وقت خود ہی تمہارے پاس آئے گا۔ مجھے بڑی بے چینی تھی اس سوال کا جواب ملے اب وہ وقت آن پہنچا اور یہی سوال اس سے دہرایا۔ وقت نے جواب دیا:

” کیا تو اس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہے؟“
میں نے فوراً کہا: ”بالکل کیوں کہ اسی جواب کو جاننے کے لیے کئی سال انتظار کرنا پڑے ہیں۔“
وقت نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس پاکستان کی عدالتوں میں لے جا کر کھڑا کر دیا۔ وقت نے کہا:
” دیکھ اپنے ارد گرد کیا ہو رہا ہے“
میں نے کہا: ”کیا مطلب تمہارا میں سمجھا نہیں“

اس نے کہا : ”ان عدالتوں میں اب وہ انصاف نہیں جو اس ملک کے قانون اور کائنات کے مالک کے مطابق ہے، اور جس بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا گیا ہے، ان کا دنیا کے 128 نمبر پر آنا ہی اس بات کا ثبوت ہے۔“

وقت میری طرف گھورتا اور کہتا:
”اب سن پاکستان کا مطلب کیا ہے“
پاکستان کا مطلب کیا رشوت جھوٹ بولے جا
ایک ملک دو قانون فراڈیا لہو پیتے جا

میں نے پوچھا: ”یہ ہوتا کیسے ہے“ وقت نے بتایا کہ: ”ابھی تھوڑا سا مزید انتظار کرو یہ سب تم پر عیاں ہو جائیں گے۔“

مختلف ایام میں وقت نے مسلسل عدالتوں کے کمروں کا مجھے وزٹ کروایا، عدالتوں کے اندرونی معاملات سے گزر ہوا تو معلوم ہوا کہ:

کپ چائے کا ہے لاکھ اب
کتاب مقدس پہ ہاتھ رکھ اب

تب استادوں کی بات اور وقت کا دیا ہوا وہ انتظار حقیقی معنوں میں ثابت ہوا کہ واقعی اب پاکستان کا مطلب، مطلب نہیں ہے۔ چند دن ہی گزرے وقت پھر میری بغل میں کھڑا ہوا اور بولا: ”آداب“

میں حیران رہ گیا یہ کہاں سے آ گیا وہ بولا :
” مجھے معلوم تھا کہ اب تو نے وہ دیکھ لیا جو تجھے دیکھنا چاہیے تھا مگر تصویر ابھی باقی ہے۔“
اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے چلا، راستے میں چلتے ہوئے اس نے مجھے کہا:
” کتے کو ایک“ ک ”اور کلرک کو دو۔“

تب مختلف دفاتر کا مجھے اس نے وزٹ کروایا اور خاص کر عدالتیں، یہاں پر ایک کپ چائے پر جھوٹی گواہی دینے کے لئے لوگ تیار بیٹھے ہیں۔ اب میں سمجھا کہ واقعی حکمت کی بات بتاتے ہیں۔ وقت نے کہا :

” تیار رہنا کل میں تجھ کو ایک اور جگہ لے کر جاؤں گا کیونکہ مزید ثبوت دیکھیں گے۔“
میں نے کہا : ”ضرور“

میں ابھی صبح سویرے اٹھا ہی تھا کہ وقت میرے سامنے کھڑا تھا اور کہا کہ ”جلدی اٹھو ابھی بہت کچھ دیکھنا ہے“

اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایوان میں لے گیا جہاں قانون بنائے جاتے ہیں۔ مجھے ایک طرف بٹھا دیا اور بولا ”خاموش رہو جو ہوتا ہے دیکھتے جاؤ“

ابھی چند ہی سیکنڈ گزرے تھے کہ ایسے لیڈروں کا ایک ریلا آیا جو روزے بھی رکھے ہوئے ہاتھ میں تسبیح بھی پکڑے ہوئے اور نعرے بھی لگاتے ہوئے آرہے تھے ان میں اعلی قسم کی گالیاں آنکھوں میں بے حیائی اور دلوں میں لامتناہی بغض۔ یہ ان افراد پر مجموعی گروہ تھا جو پیسوں کے عوض معنی بدل دیتے ہیں۔ ان میں ایک ایسا سیاست دان بھی تھا جو اپنے آپ کو وزیراعظم بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا تھا۔ جو مقدمات میں ملوث اور بے گناہوں کا قاتل ٹھہرایا گیا تھا۔ حالانکہ پاکستانی عام آدمی پر اگر کسی پر کوئی ایف آئی آر ہو جائے تو وہ سرکاری نوکری کے اہل نہیں ہوتا۔ وقت نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا:

” اس کو ایوان مقدس کہتے ہیں لیکن اب نہیں کیوں کہ یہاں پر بیٹھنے والے لوگوں نے اس کے معنی بدل دیے ہیں۔“

بے ذوق سجدوں سے کیا حاصل تجھے
مطلبی لوگوں نے مطلب بدل دیے

پھر اس نے مجھے پنجاب اسمبلی کا دورہ کروایا، مختلف سرکاری دفاتر، جہاں پر لوٹے اور موٹے سرعام رشوت خوری میں مصروف، اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھرنے میں مصروف، پاکستان کے مطلب کو بدلنے میں سرگرمی عمل، جو تاج تخت کی ہوس میں مختلف بازاروں، دکانوں، مارکیٹوں میں اپنے ناکارہ لوٹوں کے ذریعے غریب کے خون کے پیاسے گھوم رہے ہیں۔ یہ افراد بنیادی طور پر اس ”ج“ کے حواری ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر ان تک اپنے معنی پہنچاتے ہیں۔ اور وہ غلط تشریح کر کے لفظ کے معنی بدل دیتے ہیں۔ آخر میں مجھے اپنے استاد ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کا ایک فقرہ بہت یاد آتا ہے۔ ان کے بقول ”

” پاکستان زمینوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کمینوں کی وجہ سے غریب ہے“
اور آج کے پاکستان کے یہی معنی ہیں۔