تحلیل نفسی کا بابائے آدم : سگمنڈ فرائیڈ
انتخاب و ترجمہ : نعیم اشرف
بابائے تحلیل نفسی سگمنڈ فرائیڈ ایک طبیب اور ماہر علم الاعصاب تھے۔ وہ 1856 ء میں آسٹریا کے شہر فری برگ میں ایک یہودی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ انھوں 1881 ء میں ویانا یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف میڈیسن کی ڈگری حاصل کی۔ تین سالہ ہاؤس جاب کرنے کے بعد فرائیڈ اسی یونیورسٹی میں پڑھانے لگے اور 1902 ء میں نیوروپتھالوجی کے پروفیسر بن گئے۔
1896 ء میں اپنے والد کی وفات کے بعد انھوں نے انسانی لاشعور میں گہری دلچسپی لینی شروع کردی۔ اس وقت ان کی عمر 40 سال تھی۔ اگلے تین سال انھوں نے اپنے خوابوں کی تعبیریں رقم کرنی شروع کیں۔ یہ مجموعہ جب 1900 ء میں ”خوابوں کی تعبیریں“ کے نام سے شائع ہوا تو نفسیات کی تاریخ میں شاہکار ثابت ہوا۔ ان کے شاگرد اور پیروکار نفسیات دان آج بھی اس کو تحلیل نفسی کی بائبل سمجھتے ہیں۔
سگمنڈ فرائیڈ نے اپنے نظریات ( تھیوریز) کی ترویج اس وقت شروع کی جب ان کے ایک سینئر اور دوست طبیب ’جوزف برئیر‘ نے فرائیڈ کو ایک مریضہ جس کا نام تحلیل نفسی کی کتابوں میں ”اینا۔ او“ لکھا ہے، تشخیص کے لئے بھیجی۔ ’اینا‘ ہسٹیریا میں مبتلا تھی، ان دنوں یہ عارضہ ویانا اور یورپ کی خواتین میں عام تھا۔ ’بریئر‘ جب ’اینا‘ کے ہسٹیریا کا علاج کر رہے تھے اس دوران ’اینا‘ ، ’برئیر‘ کی محبت میں مبتلا ہو گئی اور ایک دن اعلان کیا کہ وہ حاملہ ہے۔ برئیر اپنے حلقہ احباب میں ایک معزز طبیب کے طور جانے جاتے تھے، اس شرمندگی سے خوفزدہ ہو کر شہر چھوڑ گئے۔
جب فرائیڈ نے ’اینا‘ کا علاج شروع کیا تو انھیں معلوم ہوا کہ ’اینا‘ حاملہ نہیں تھی۔ بلکہ یہ اس کی بیماری کی ایک علامت تھی۔ فرائیڈ نے یہ تشخیص کی کہ خاتون کے ساتھ بچپن میں ہونے والی کوئی جنسی زیادتی یا جنسی نا آسودگی اس کے ہسٹیریا کا باعث بنی تھی۔ اس کے بعد برئیر اور فرائیڈ نے مشترکہ طور پر ہسٹیریا پر ایک مقالہ لکھا جس میں انھوں نے اس بیماری کے بارے میں اپنے مشاہدات اور تجربات رقم کیے ۔ اس کے بعد فرائیڈ نے اپنے طریقہ علاج کی باقاعدہ ترویج شروع کردی اور اس کا نام ”تحلیل نفسی“ رکھا۔
اس طریقہ علاج کا سب سے اہم نقطہ یہ کہ مریض کو اپنا ماضی، اپنے حال میں منتقل کرنے سے روکنا ہے۔ کوئی بھی مریض ہمیشہ اپنا ماضی طبیب کو منتقل کرتا ہے۔ فرائیڈ نے اس کا نام ”انتقال“ رکھا۔ معالج پھر مریض کی تھراپی کے ذریعے اس کو قائل کرتا ہے کہ اپنے ماضی کی قضیوں کے ساتھ ایک ہی دفعہ نمٹ لے۔ ان کو حال میں منتقل نہ کرے۔ اور حقیقی دنیا میں جینا سیکھے۔ جوں جوں مریض ماضی کے قضیوں کو حال میں منتقل کرنا ختم کرتا جاتا ہے۔ وہ شفا یاب ہوتا جاتا ہے۔
بعد ازیں فرائیڈ نے آنے والے وقت میں لاتعداد مریضوں کی تشخیص شروع کردی۔ فرائیڈ نے ایک صوفے کے پیچھے بیٹھ کر اپنے مریضوں کا علاج شروع کیا۔ جس کو انھوں ”فری ایسوسی ایشن“ ( آزادانہ ملاقات) کا نام دیا۔ وہ اپنے مریض کو ایک صوفے پر لٹا دیتے اور اپنا سگار پیتے ہوئے ان سے باتیں کرتے رہتے۔ ویانا میں فرائیڈ کا کلینک ایک ایسی زچہ گاہ (لیبر روم) ثابت ہوا جہاں ایک نئے فلسفے، تحلیل نفسی نے جنم لیا۔
اسی کلینک میں ایک اور عارضے ”ری پریشن“ (طاقت سے کسی جذبے کو دبانا) کی دریافت ہوئی۔ اس میں مریض اپنا کوئی بھیانک تجربہ یا ماضی کا کوئی سانحہ لاشعور یا کسی اور دفاعی نظام مثلاً ”انکار، بناوٹ، دلیل بازی اور جادوئی سوچ وغیرہ میں دھکیل دیتا ہے۔ جس سے مزید دماغی عارضے جنم لیتے ہیں جن میں اینگزائیٹی (بے چینی) ، ڈپریشن (افسردگی) ، اور ’پین ڈس آرڈر‘ (بلاوجہ درد) شامل ہیں۔
’فری ایسوسی ایشن‘ کے ذریعے فرائیڈ مریضوں کو قائل کرتے کہ وہ لاشعور میں موجود نا حل شدہ قضیوں کو شعور میں لے آئیں پھر یہاں ان کو حقیقت پسندی سے حل کریں۔ اور ان الجھنوں سے چھٹکارا حاصل کر کے بیماری سے نجات حاصل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ فرائیڈ نے غیر صحتمندانہ دفاعی نظام کے مقابلے میں صحت مندانہ دفاعی نظام دریافت کیے جیسے، مزاح، تخلیقی کام اور ”سبلی میشن“ (اپنی توجہ کسی دوسرے اور مثبت کام کی طرف کر دینا) کا عمل وغیرہ۔
ان کے استعمال سے با شعور لوگ جذباتی صدموں اور سماجی مخمصوں سے نمٹ سکتے ہیں۔ ’سبلی میشن‘ کے ذریعے بالغ النظر لوگ اپنے حیوانی جذبات کو سماجی طور پر قابل قبول کام میں مصروف کر کے شانت کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر غصیلے اشخاص باکسر بن سکتے ہیں، اپنے جسم کی نمائش کرنے کی شوقین خواتین فلم و تھیٹر میں جا سکتی ہیں اور گاڑی کو تیز چلانے اور ٹریفک کے اشارے توڑنے کے شوقین افراد ایمبولینس کے ڈرائیور بن سکتے ہیں۔ سبلی میشن ان کے طرز زندگی کو سماجی قبولیت عطا کر دیتی ہے۔
فرائیڈ نے انسانی شخصیت کے بارے میں ایک تفصیلی تھیوری روشناس کروائی۔ اس کے لئے انھوں نے ’اڈ‘ ، ایگو، سپرایگو، کانشیئس، پری کانشیئس، ان کانشیئس مائنڈ * جیسی اصطلاحات متعارف کروائیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے انسانی شخصیت کی نشوونما کے مرحلے اورل (زبانی) ، اینل (مقعدی) ، فیلک (عضو تناسل) اور جینیٹل** (نظام تناسل) بتائے۔ اگر بچپن میں ان میں سے کسی سٹیج پر نشوونما میں خلل آ جائے تو یہ خرابی جوان ہو کر ظاہر ہو سکتی ہے۔
مثال کے طور پر ایسے افراد جن کی اورل (زبانی) سٹیج میں کوئی نا آسودگی رہ گئی تھی وہ زیادہ سگریٹ پی کر، زیادہ کھانا کھا کر اور زیادہ شراب نوشی سے اس جذباتی کمی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ عموماً نشے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ فرائیڈ نے مختلف قسم کی شخصیات کا تعلق جبلتوں اور نشوونما کی مختلف سٹیجوں سے جوڑا ہے۔
انھوں نے ”اوڈیپس کمپلیکس“ کا تصور بھی پیش کیا جس کے مطابق کوئی بیٹا ماں کی محبت میں مبتلا ہوتا ہے اور نہیں چاہتا کہ اس کا باپ اس کی ماں کے پاس جائے۔ ایسے لڑکے کا علاج یہ ہے کہ اس کی توجہ اس کی ماں سے ہٹا کر کسی اور عورت کی طرف مبذول کروائی جائے۔ تاکہ وہ ماں کو اس حوالے سے بھول جائے۔ اس کا علاج ”سائیکو سیکسوئل میچؤرٹی“ سے ممکن ہے۔ فرائیڈ نے یہ نظریہ یونانی دیومالائی کہانی سے مستعار لیا تھا۔ اگر ”اوپیڈس کمپلیکس“ پر قابو نہ پائے جائے تو لڑکے کی ماں کے لئے محبت کبھی ختم نہیں ہوگی اور ایسا مریض کسی اور عورت سے بھرپور محبت نہیں کر پائے گا۔ اور آگے چل کر اس کی ازدواجی اور رومانوی زندگی یقیناً متاثر ہوگی۔ فرائیڈ نے انکشاف کیا کہ یہ بیماری لڑکیوں میں بھی پائی جاتی ہے اور اس کا نام انھوں نے ”الیکٹرا کمپلیکس“ رکھا مگر لڑکیوں میں اس کے اثرات لڑکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گمبھیر ہوتے ہیں۔
اگرچہ فرائیڈ ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے مگر وہ مذہب کے سخت نکتہ چیں تھے۔ ان کی کتابیں ”موسٰی اور توحید“ ٭ اور ”مستقبل کے مغالطے“ ٭٭ ان کی اس سوچ کی غماز ہیں۔
ان کتب کے ذریعے انھوں نے مذہب اور نیوریسز (عصبانیت یا ہلکا ذہنی دباؤ) کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کا یقین تھا کہ مذہب ایک غیر محسوس قسم کا ثقافتی دباؤ ہے جو انفرادی و اجتماعی طور پر اپنا اثر دکھاتا ہے۔ انھوں نے پیش گوئی کی کہ آنے والے وقتوں میں سائنس کی حدود مزید پھیلیں گی جبکہ مذہب کی سرحدیں تنگ ہوتی جائے گی۔
فرائیڈ دلجمعی سے کام کرنے والے معالج تھے مگر ذاتی سطح پر تحکم پسند شخص تھے۔ جب انھوں تحلیل نفسی کا ادارہ بنایا تو بہت سارے دوستوں اور ساتھیوں کو ساتھ کام کرنے کی دعوت دی۔ اور وہ ان کے ساتھ آ بھی ملے۔ مگر یہ بات فرائیڈ کے لئے دقت کا باعث تھی کہ کوئی ان کی شخصیت، فیصلے یا فلسفے پر تنقید کرے۔ اس آمرانہ روئیے کی وجہ سے بہت سے دوست ان کو چھوڑ گئے۔
1939 ء میں سگمنڈ فرائیڈ فوت ہو گئے۔ موت کی وجہ افیون کی ضرورت سے زیادہ خوراک بنی۔ ان کو جبڑوں کا کینسر تھا۔ درد کی شدت کو کم کرنے کے لئے ان کے متعدد آپریشن ہوئے مگر افاقہ نہ ہوا۔ کینسر اور درد کے باوجود وہ زندگی کے آخری لمحات میں بھی سگار پی رہے تھے۔
فرائیڈ کی وفات کے بعد بہت سے فلسفیوں، نفسیات دانوں اور نفسانی معالجوں نے ان کے نظریات پر ترقی اور ترویج کا کام کیا۔ ان کی بیٹی ’اینا فرائیڈ‘ جو بچوں کی تحلیل نفسی کی ماہر تھیں، بچوں کے حوالے سے دماغ کے مزید دفاعی نظاموں کو دریافت کیا۔ ایرک فرام نے سگمنڈ فرائیڈ اور کارل مارک کی تھیوریوں کو یکجا کر کے دو کتابیں لکھ ڈالیں : ”اسکیپ فرام فریڈم“ ٭ اور ”دا سین سوسائٹی“ ٭۔ ان کتب میں تحلیل نفسی کے ذریعے سوشلسٹ نظام اور نظام سرمایہ داری کے اندر بسنے والے لوگوں کے سماجی رویوں پر نہایت مفید انکشافات کیے گئے ہیں۔ ان کتابوں نے انسانی نفسیات اور سماجیات کے درمیان پل کا کام کیا۔ (ماخوذ)
(Religion Science and Psychology by Dr Khalid Sohail, Dr Suhail Zubairy)
Important Terminologies: اہم اصطلاحات
(*Id, Ego, Super Ego, Conscious, Preconscious, Unconscious Mind, Sublimation
** Oral, Anal, Phallic, Genital * Oedipus complex * Psychosexual maturity, * Electra complex
* Moses and Monotheism ٭٭ Illusion of the Future
٭ The Escape from Freedom، *The Sane Society)



