صدر آصف علی زرداری ہوں گے اور اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ ق کا


بالآخر تایا نے بھتیجے کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھجوایا، گوروں کے دیس میں نہ صرف اس کی خوب خاطر مدارت کی بلکہ جو کچھ اس نے جو مانگا اسے دے دیا۔ تایا اتنا فراخ دل نہیں تھا لیکن وہ عمران خان کو نکالے جانے کی خوشی میں اتحادیوں کے تمام ناز نخرے برداشت کرنے کے لئے تیار ہے۔ آصف علی زرداری کمال کا سیاست دان ہے جو بات وہ خود میاں نواز شریف سے نہیں منوا سکتا تھا۔ وہ اپنا ہونہار بیٹا بلاول بھٹو زرداری بھجوا کر منوا لی۔

آصف علی زرداری پہلے ہی خطرناک کھیل کھیل کر کپتان کو چاروں شانے چت کر چکا تھا۔ اب اس نے میاں صاحب سے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی قیمت وصول کرنا شروع کر دی ہے۔ ان کی نظریں ایوان صدر کے مکین پر لگی ہوئی ہیں۔ جہاں وہ پانچ سال گزار چکے ہیں۔ چھ منزلہ شاندار عمارت کی کشش ان کو اپنی طرف کھینچے چلی جا رہی ہے۔ اس عمارت میں وہ روزانہ بکری کا تازہ دودھ پیا کرتے تھے اور کبھی کبھار گھڑ سواری کا شوق بھی پورا کر لیا کرتے تھے۔ شنید ہے۔ وہ ایوان صدر کے بالائی لان میں باقاعدگی سے واک بھی کیا کرتے تھے

جب سے انہوں نے کپتان کو چاروں شانے چت کیا ہے وہ راتوں رات ملک کا صدر بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ ایوان صدر کے مکین کے قیام کی مدت کم و بیش ڈیڑھ سال باقی ہے لیکن وہ ان کو گھر بھجوانے کی منصوبہ بندی کر بیٹھے ہیں کیونکہ صدر مملکت ابھی تک اپنے آپ کو نئی تبدیلی میں ایڈجسٹمنٹ نہیں کر پائے۔ مختلف حیلوں بہانوں سے نئی حکومت کو تگنی کا ناچ نچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے پاس 290 ووٹ ہیں۔ بس یہی بیس بائیس ووٹوں کی کمی ہے جو وہ دنوں میں پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے اپنے اس خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے ہی اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کو میاں صاحب کے دربار پر حاضری دینے کے لئے لندن بھجوایا ہے۔ ان کی مدد کے لئے سید نوید قمر، قمر زماں کائرہ اور شیری رحمن کو بھی لندن بھجوایا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا وفد سینیٹر اسحق ڈار، عابد شیر علی، ناصر بٹ اور حسین نواز پر مشتمل تھا۔

مجھے یاد ہے کہ 2006 ء میں جب میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان سینیٹر رحمنٰ ملک کی رہائش گاہ پر میثاق جمہوریت پر دستخط کی تقریب ہوئی تو میاں نواز شریف نے جس قلم سے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، انہوں نے وہ پین محترمہ بے نظیر بھٹو کو تحفہ میں دے دیا تھا۔ سونے کا بنا ہوا یہ پین مسلم لیگ (ن) کے اس وقت سیکریٹری جنرل قیصر شیخ نے میاں نواز شریف کو پیش کیا تھا۔ اسی میثاق جمہوریت کے تحت میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان دوستی کا آغاز ہوا تھا لیکن اس کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان میں اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی راہ تلاش کرتی رہیں۔

بالآخر وہ مغربی ممالک کی کوششوں سے جنرل پرویز مشرف سے این آر او حاصل کرنے میں کامیاب تو ہو گئیں لیکن عام انتخابات سے قبل پاکستان واپس آنے کے جرم میں قتل کر دی گئیں۔ ان کی شہادت کے بعد میاں نواز شریف کی آصف علی زرداری سے دوستی کا نیا دور شروع ہوا کبھی اس دوستی میں باہم شیر و شکر نظر آئے اور کبھی ایک دوسرے کے دشمن۔

پی ڈی ایم بنی تو عمران دشمنی نے دونوں کو کچھ عرصہ کے لئے قریب تر کر دیا لیکن جب اسمبلیوں سے استعفے دینے اور لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کرنے کا وقت قریب آیا تو ایک بار پھر دونوں کے راستے جدا ہو گئے۔ آصف علی زرداری شروع دن سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے کپتان کی چھٹی کرانے کے حامی رہے ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ کپتان نے خود اس قدر بگاڑ پیدا کر لیا ہے کہ جو قوتیں اسے طوفانوں سے نکال لانے میں مدد گار ثابت ہوتی تھیں، انہوں نے اسے طوفانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے تو انہوں نے موقع دیکھ کر کپتان کو ایسا دبوچ لیا کہ وزیر اعظم ہاؤس سے نکال کر دم لیا۔

رواں سال فروری کے وسط میں آصف علی زرداری کی میاں شہباز شریف سے لاہور میں خفیہ ملاقات ہوئی جس کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی آصف علی زرداری نے میاں شہباز شریف سے کہا کہ ہم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا چاہتے ہیں، آپ کی رضامندی ضروری ہے، تو میاں شہباز شریف نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ آصف علی زرداری نے کہا کہ میرے پاس 70 ووٹ ہیں جب کہ آپ کے پاس 84۔ ہم تھوڑی سی محنت کر کے کپتان کو گھر بھجوا سکتے ہیں، شہباز شریف آپ ہمارے وزیر اعظم ہوں گے۔ میاں صاحب کو راضی کرنا آپ کا کام ہے۔

میاں نواز شریف شروع دن سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بارے میں بوجوہ شک و شبہ میں مبتلا تھے۔ وہ برملا کہتے تھے جو انہیں لائے ہیں جب تک وہ اس کی سرپرستی نہ چھوڑیں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی ممکن نہیں لیکن جب میاں شہباز شریف نے میاں صاحب کو زمینی حقائق سے آگاہ کیا تو وہ بھی راضی ہو گئے۔ ان کے وزیر اعظم بننے پر اپنے گھر سے ہی مخالفت کی جا رہی تھی۔

مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹ کو وزارت عظمیٰ دینے پر تیار تھی لیکن آصف علی زرداری کا موقف تھا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کا حق بنتا ہے۔ اچانک میاں نواز شریف نے شہباز شریف کو گرین سگنل دے دیا۔ پہلی بار آصف علی زرداری دن کے اجالے میں میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر گئے اور دونوں نے تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق رائے کا اظہار کر کے سیاسی حلقوں کو سرپرائز دیا۔

عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا، بلکہ عمران خان سمیت ان کی پوری ٹیم تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں اس وقت کی اپوزیشن جو آج حکومت میں بیٹھی ہے، اس کا مذاق اڑاتی رہی۔ بالآخر آصف علی زرداری نے انہونی کو ہونی بنا دیا۔ رہی سہی کسر آصف علی زرداری نے چوہدری برادران کو تقسیم کر کے پوری کر دی۔ چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین کو نہ صرف وزیر بنوا دیا بلکہ چوہدری وجاہت حسین کے صاحبزادے حسین الہی کو قائد حزب اختلاف بنوانے کے لئے ریکوزیشن جمع کروا دی ہے۔

راجہ پرویز اشرف سپیکر قومی اسمبلی ہیں۔ انہیں اپوزیشن لیڈر بنانے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا امکان ہے۔ حکومت نے بھی عمران خان کے پارلیمنٹ سے نکل جانے بعد مسلم لیگ (ق) کو اپوزیشن کا رول دے دیا ہے۔ اس طرح قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے نہ صرف نگران وزیر اعظم بنے گا بلکہ چیئرمین نیب اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری میں اس کا کردار ہو گا۔

پیپلز پارٹی جہاں صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ اور گورنر پنجاب کے عہدوں کی خواہش مند ہے وہاں مستقبل قریب میں جمہوریت پر یقین رکھنے والی تمام جماعتوں کے ساتھ ایک اور میثاق جمہوریت کرنا چاہتی ہے تاکہ مستقبل قریب میں متحد ہو کر عمران خان کا موثر طور پر راستہ روکا جا سکے۔ آصف علی زرداری یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سندھ کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آج بھی پنجاب میں مقبول ترین جماعت ہے۔ پنجاب سے بھاری اکثریت حاصل کرنے والی جماعت ہی آئندہ حکومت بنائے گی۔ لہذا پیپلز پارٹی وسیع تر بنیادوں پر قائم ہونے والی حکومت میں شراکت چاہتی ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی سولو فلائٹ کی بجائے متحدہ جد و جہد کے لئے تیار ہو۔ سابق اپوزیشن حال حکومت متحد ہو کر ہی عمران خان کے عالمی سازش کے بیانیہ کا موثر طور جواب دے سکتی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گھر نہیں بیٹھ گئیں انہوں نے بھی پنجاب میں اپنے جلسوں کا اعلان کر دیا ہے۔ آئندہ تین ہفتے ملکی سیاست میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کرنے کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ پاکستان کے ہر ذی شعور شخص کو معلوم ہے۔ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے نتیجہ میں جہاں پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ ہو جائے گی، وہاں اس جماعت سے وابستہ لوگ بھی نا اہل قرار دیے جا سکتے ہیں۔

عمران خان بڑے جلسے منعقد کر کے جہاں اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ کو مرعوب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہاں وہ قبل از وقت انتخابات کرانے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد آنے کال دینے کا عندیہ دیا ہے جس پر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ انہیں اسلام آباد آنے سے روکنے کے لئے شیخ رشید کے پلان کے مطابق ہی جواب دیں گے۔

Facebook Comments HS