سچائی آزاد کرتی ہے


دنیا کے علوم ایک طرف، کتابی علوم ایک طرف، تاریخ کے اسباق ایک طرف، دانشوروں ادیبوں کے تجزیے ایک طرف اور ہمارے پاکستان کے حالات اقدامات تمام علوم سے یکسر مختلف۔ یہ پہلی بار ہے کہ اس دور کے نوجوان نسل سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی وگرنہ تمام کاروائیاں ہم نے کتابوں یا اخباروں میں پڑھی سنی ہیں۔ کہ اب دیکھ لیں سب بڑے مان رہیں ہیں کہ حکومت کے خلاف مداخلت کا پلان بنا اور عملدرآمد ہوا۔ مگر چونکہ ہم اس مداخلت کے بینیفشری ہیں اس لئے بیرونی مداخلت جائز ہے چاہے وہ سانحہ بنگلہ دیش کی طرز پر ہی ہو جب اقتدار اور وسائل پر قبضہ رکھنے کے لئے اکثریتی جماعت کو اقتدار دینے کی بجائے من پسند لوگوں کو آگے لایا گیا۔ اور مقصد کیا تھا کہ بس اپنا تسلط قائم رکھنا ہے، اپنی ناک اونچی رکھنی ہے بھلے سارا جسم ٹکرے ٹکرے ہو کر علیحدہ ہو جائے۔

سیاسی علوم میں جب بھی یہ سوال ہوتا ہے کہ ریاست اور حکومت میں کیا فرق ہے؟ تو سب سے عام جواب یہ ہوتا ہے کہ ریاست مستقل ہوتی ہے اور حکومت عارضی۔ ایک اور ضمنی سوال ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں ریاستی سربراہ کون ہے اور حکومتی؟ تو اس سوال کا جواب عموماً لوگ معروضی حالات کے متضاد ہی دیتے ہیں۔ اور جو ہمارے ملک میں ہوتا ہے یا ہو رہا ہے اس میں تو ایک اور سوال بنتا کہ آخر ہمیں بھی بتایا جائے کہ ہمارا اصل ریاستی سربراہ ہے کون؟

کیونکہ اگر ہائی کورٹس صدر پاکستان کو حکم دینے لگ پڑیں تو ایسے سوال تو بنتا ہے نا؟ مگر ایک طاقت تو لازوال ہے اور کیا کہنے اس طاقت کے کہ اس کی مرضی جس کو چاہے رات کو جگا دے اور جس کو چاہے رات کو بھگا دے۔

آزادی کی ایک کتابی تعریف ہے کہ ”جب تک ناں نہیں بول سکتے آپ آزاد نہیں ہو سکتے“ مگر سمجھ نہیں آتی کہ ہم اپنی ملکی حالات میں اس تعریف کو مانیں یا نہ مانیں۔ کیونکہ یہاں ریاست کو صرف ”یس سر“ سننا پسند ہے۔ عوامی مینڈیٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ریاست کو اپنے مفاد عزیز ہوتے ہیں اور ان مفادات کو قائم رکھنے کے لئے عوامی نمائندے جب تک اوکے سر کہتے رہیں گے قائم رہیں گے، نا کی صورت میں نا بولنے والے کی تبدیلی یقینی ہے۔

ابراہام لنکن اپنی تربیت کے دنوں کے بارے میں لکھتا ہے کہ میں بچپن میں سیکھا تھا کہ ”سچائی آپ کو آزاد کرتی ہے“ دوبارہ وہی سوال ہمارے ملکی حالات میں یہ بات بھی دھندلی سی لگتی ہے۔ یعنی یہاں من پسند سچائی کو زیادہ قبولیت اور مقبولیت ملتی ہے اور اصل سچائی آپ کو آزاد کی بجائے قید کرواتی ہے۔ یہاں عوامی نمائندے عرصہ 10 سال سے سچ بول بول کر اپنی حکومتیں گنوا رہے ہیں جبکہ ریاست موصوف ایک پریس کانفرنس کرتی ہے اور سب الزامات سے بری شد۔ نہ کوئی ضمنی سوال نہ ثبوت مانگنے کی کسی کی جرات۔

آج ہی ایک فلم میں جمہوریت کی مشہور زمانہ تعریف میں ولن کے ذریعے تھوڑا سا اضافہ سنا جو کچھ اس طرح تھا کہ ولن لیڈر آف ہاؤس سے یوں مخاطب ہوتا ہے کہ آپ کے لئے جمہوریت اس طرح ہے ”عوام کے ذریعے عوام کی عوام۔“ Buy the People ”کے لئے حکومت“ مگر میرے لئے جمہوریت ہے

اگر آج کے پاکستانی حالات اور پچھلے دو ماہ کے پارلیمانی پراسس کو دیکھیں اور اس میں شامل کرداروں اور ان کے بیانیے کو سامنے رکھیں تو کہیں نا کہیں ہمارے ساتھ بھی شاید یہی جمہوریت کھیلی جا رہی ہے جس میں تمام بڑے اور سب کا بڑا صرف اپنا تسلط قائم رکھنے کی خاطر عوامی مینڈیٹ کو پاش پاش کر رہا ہے۔ اب ان حالات میں خود بتائیں کہ کیا سچائی ہمیں آزاد کروائے گی یا۔ لیکن ہمیں اس لئے شاید واویلا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بڑوں کے آلہ کار بھی ہم میں سے ہی ہیں۔ مگر ایک سٹیک ہولڈر جو سب سے زیادہ قربانیاں دے رہا ہے وہ ہے عوام۔

Facebook Comments HS