بی اے پاس
گزشتہ دن ایک پوسٹ نظر سے گزری۔ جس میں ایک نوجوان نے بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا۔ اللہ کے فضل، ماں باپ کی دعا اور اساتذہ کی رہنمائی کی وجہ سے پاس ہو گیا ہوں۔ اس بات پہ مبارکباد تو بنتی تھی۔ ایک اور گریجوایٹ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ تعلیمی شرح کچھ اور اوپر چلی گئی۔
بی۔ اے پاس کرنا بہت جان جوکھوں کا کام ہے۔ کیونکہ اس کے لئے دو سال تک مسلسل پڑھنا پڑتا ہے، کبھی کالج، کبھی ٹیوشن اور کبھی رات کے پچھلے پہر تک جاگنا، یقینا یہ آسان کام تھوڑی ہے۔ پھر اب رزلٹ آ چکا ہے۔ ماں باپ اور دیگر گھر والوں کی امید بندھ گئی ہے۔ اب کوئی نہ کوئی نوکری مل جائے گی۔ گھر میں چار پیسے آنا شروع ہو جائیں گے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے خوشحالی راج کرنے لگے گی۔ مگر ایسا ہونا شاید اس طرح ممکن نہ ہو سکے گا، جیسا سوچا جا رہا ہے۔
ایسا کیوں ہے؟
ایسی تعلیم اور ڈگری جس کا تعلق محض پڑھنا اور امتحان دیتے ہوئے ڈھیر ساری انفارمیشن لکھ آنا۔ اس پیمانے کی بنیاد پہ کسی کو گریجوایٹ قرار دے دینا، ڈگری تھما دینا، اور وہ اس کاغذ کے ٹکڑے کو ہاتھ میں لے کے گھومتا رہے۔ ہاں کہیں خوش قسمتی سے کسی ادارے میں کلرک لگ جائے تو بڑی بات ہے۔ مگر اس کے علاوہ اگر وہ کسی معاشی پیداواری عمل میں حصہ لے پائے گا، یہ شاید ناممکن ہو گا۔ کیونکہ محض لفظوں کا ذخیرہ تو کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔ پیداواری عمل کا حصہ بننے کے لئے پیداواری تعلیم ہونا اشد ضروری ہے۔
پیداواری تعلیم کیسی ہو سکتی ہے؟
ایسا تعلیمی نصاب جسے پیداواری عمل سے جوڑا جائے، جس کا تعلق صرف الفاظ کو رٹا لگانا ہی نہ ہو۔ بلکہ عملی زندگی کے ادراک اور پریکٹس کے ساتھ جڑتا ہو۔ چاہے وہ سائنس مضامین ہوں یا پھر سوشل سائنس، ہر ایک کو عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے، جہاں تھیوری کے ساتھ پریکٹیکل کو نتھی کیا جائے، وہ پریکٹیکل نہیں جو صرف ایک بند کمرے میں لیب تک محدود ہو، بلکہ جو باہر کی دنیا میں وقوع پذیر ہو رہا ہو، اس کو پرکھا جائے۔
کتاب میں موجود انفارمیشن کی پریکٹس ہو۔ طلباء کے لئے تحریری امتحان کے ساتھ ایک تین ماہ کی انٹرن شپ کا عملی امتحان بھی ہو۔ جس میں کسی ایک عملی کام میں مہارت حاصل کر لینے والے کو ہی ڈگری تھمائی جائے، وہ عملی کام جو واقعی ہی میں عملی ہو، جس کے لئے اداروں میں انہیں بھیجا جائے۔ حقیقی عملی کام کروایا جائے۔ کہیں کوئی طالبعلم کسی انڈسٹری میں ٹیکنیکل کام کرتا نظر آئے اور کہیں کوئی اکاؤنٹس میں اپنی مہارت دکھا رہا ہو۔ کسی پروڈکشن کے عمل میں جوڑا جائے، چھوٹے چھوٹے کارخانے والوں کو کالجز کے ساتھ جوڑا جائے، انہیں مفت میں لیبر مل جائے گی، اور نوجوان کو مہارت۔
ایسے ماہر نوجوان کہیں بھی نوکری کے لئے جائیں گے تو بآسانی ایڈجسٹ ہو پائیں گے، اگر کوئی اپنا کام کرنا چاہے گا، تو اسی انٹرن شپ کی بنیاد پہ بلا جھجک شروع کر سکے گا، معاشی حالات کا اندازہ ہونے کی بنا پہ اپنی قابلیت کا ادراک کرتے ہوئے، زیادہ سے زیادہ کام کر سکتا ہے۔ اس کے لئے نیا کاروبار شروع کرنا، اس کے لئے منصوبہ بندی کرنا، اسے عملی جامہ پہنانا ناممکن دکھائی نہیں دے گا۔ وہ اب تھوڑے سے پیسوں سے
بھی بہترین کام کرنے کے قابل ہو سکے گا۔ کیونکہ اب محض کتابی باتیں ہی اس کے پاس نہیں ہیں۔ بلکہ عملی سوچ بھی بن چکی ہے۔
پیداواری تعلیمی نظام ہی اس ملک کی باگ ڈور سنبھال سکتا ہے۔ اب بی۔ اے پاس محض بی۔ اے پاس نہیں رہے گا، بلکہ ایک عملی انسان ہو گا۔ جس کے ہاتھ سے نئے شگوفے پھوٹنے کی امید ہو گی۔ یہی عمل ملکی نظام کو سمجھنے میں مدد دے گا، پھر کوئی بھی ہوائی قلعہ محض ریت کی دیوار دکھائی دے گا۔ صرف مسلسل کوشش اور جدوجہد ہی کامیابی کی کنجی سمجھی جائے گی۔


