بھٹو صاحب کے گھروں میں چوری


ہمارے گردونواح میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کی داستانِ حیات طلسمِ ہوشربا سے کم نہیں ہوتی۔ ان لوگوں کی داستانِ عجیب میں انکا اپنا، حالات اور حسین اتفاقات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ایسی ہی ایک شخصیت کا ذکر آئی جی حبیب الرحمنٰ صاحب نے اپنے اس انٹرویو میں کیا ہے جو ” کیا کیا نہ دیکھا” کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ نام سے لیکر کام تک یہ شخصیت ایسی یکتائی رکھتی تھی کہ بقول قتیل شفائی اس دعوٰی کی حقدار تھی۔۔۔۔۔ع۔ہم سا ہو تو سامنے آئے۔

چنانچہ آئی جی صاحب بیان کرتے ہیں کی میں نے سندھ کے آئی جی کا چارج لیا تو تقریبا ً ایک ہفتے بعد ایک پولیس افسر ملاقات کے لیے آۓ۔ پنحل خان ڈی آئی جی لارکانہ۔ جب وہ میرے سامنے بیٹھ گیا تو بولا سائیں کیا آپ نے مجھے پہچانا۔ میں نے کہا پنحل خان تم لاڑکانہ کے ڈی آئی جی ہو، سندھ میں اتنے ذیادہ ڈی آئی جی تو نہیں ہوتے کہ میں آپ کو نہ پہچانوں۔ بولا سر نہیں آپ نے مجھے نہیں پہچانا۔ میں نے کہا ہاں مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ بھٹو صاحب آپ کو بہت پسند کرتے ہیں۔بولا سر یہ بات بھی نہیں۔ میں نے کہا تو پھر کیا بات ہے۔بولا -1954-کی بات ہے آپ اے ایس پی تھے۔ آپ سکھر آۓ۔ اس کے بعد جیکب آباد میں تعینات ہوئے۔ وہاں ایک بڑی ڈکیتی ہو گئی۔میں ادھر ہی تھا۔ آپ ملاحظہ موقع کے لیے آۓ۔ آپ نے وہاں اعلان کیا کہ میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک یہ ڈکیتی ٹریس نہیں ہو جاتی۔ میں نے دن رات ایک کیا اور آخر ڈکیتوں کو بھی پکڑ لیا اور مالِ مسروقہ بھی برآمد کر لیا۔ آپ بہت خوش ہوئے۔ مجھے شاباش دی اور ڈی آئ جی صاحب کو میرے حق میں تعریفی خط لکھا۔اس وقت میں گھڑ سوار حوالدار تھا۔اس زمانے میں مجھے اپنا گھوڑا رکھنے پر پچیس روپے ماہانہ الاؤنس ملتا تھا۔ آپ کی سفارش کے بعد ڈی آئی جی صاحب نے مجھے کراچی بلوایا۔ اپنے ہاتھ سے سو روپے انعام اور درجہ دوئم سر ٹیفکیٹ دیا۔ میں بہت خوش تھا۔ دل میں کہا، پنحل خان تو میٹرک پاس ہے۔ آج ڈی آئی جی صاحب کے قریب بیٹھا ہے، تیری قسمت میں ایسی کرسی کہاں۔ لیکن سائیں دیکھیۓ نہ ہم نے مزید تعلیم حاصل کی اور نہ کوئی کورس کیا پر ڈی آئی جی بن گیا۔
پنحل خان نوکری کے آغاز سے لے کر ڈی آئ جی تک لاڑکانہ اور اس کے گردونواح میں رہا تھا ۔ وہ اس علاقےاور یہاں کے اچھے اور برے تمام لوگوں کو بہت اچھی طرح جانتا تھا۔
پھر ایسا ہوا کہ بھٹو صاحب کے گھر میں چوری ہو گئی۔ ان کی پہلی بیوی شیرین امیر بیگم کے زیورات چوری ہو گئے۔یہ نوڈیرو کا واقعہ ہے۔ کچھ دنوں بعد بھٹو صاحب آۓ۔ وہ ملاقاتیوں کے لیے مخصوص ڈیرے پہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ساتھ وزیرِاعلٰی ممتاز بھٹو بھی تھے اور بہت سے سینئر سول سرونٹ بھی ملنے آۓ ہوئے تھے۔ اتنے میں پنحل خان آیا۔ اس نے بھٹو صاحب کو سلیوٹ کیا اور پھر ٹوپی اور پیٹی اتار کر بھٹو صاحب کے سامنے پڑی میز پر رکھ دی۔ ساتھ ہی بولا سر پنحل خان کا استعفٰی قبول کیا جاۓ۔ بھٹو صاحب بولے یہ کیا بکواس ہے۔ وہ بولا سر آپ کے گھر میں چوری ہو اور پنحل خان اس کا کھوج نہ لگا سکے یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔سائیں نوکری جب عزت سے نہ کر سکو تو بہتر ہے گھر چلے جاؤ۔ بھٹو صاحب بولے یہ کیا ڈرامہ کر رہے ہو سیدھی بات کرو۔وہ بولا سائیں پنحل تو یہ بھی جانتا ہے کہ لاڑکانہ میں کتنی چڑیاں اور کتنے کوے ہیں ۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسے پتہ نہ ہو کہ چوری کس نے کی ہے۔سائیں چور کا پتہ ہے لیکن گرفتار نہی کر سکتا کیونکہ وہ تو آپ کے ساتھ بیٹھا ہے۔ بھٹو صاحب نے بات سن لی لیکن اسے آگے بڑھا کر ممتاز بھٹو کے لیے پریشانی کا ماحول پیدا نہ کیا۔ پنحل سے کہا تم اپنی ٹوپی اور پیٹی پہنو اور چلے جاؤ۔اس کے بعد ہم سب بھی اٹھ کر آ گۓ۔
 عجیب شخص تھا، اتنی بڑی بات اس طرح سرِ بزم کرنے کا خطرہ مول لیا جس کا نتیجہ نہایت ظالمانہ ہو سکتا تھا۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ معاملہ چونکہ خاندان کے اندر کا تھا لہٰذا اسے اس کے بعد پھر کبھی نہ چھیڑا گیا۔
کراچی کے مخصوص حلقوں میں یہ بات مشہور تھی بھٹو صحب نے بنگالی خاتون حسنہ شیخ سے شادی کر رکھی ہے۔ ایک دن ایک تقریب میں جام صادق علی نے مجھ سے پوچھاکہ کیا میں حسنہ شیخ سے ملنے گیا ہوں۔ میں نے کہا نہیں۔ وہ بولے ان سے مل لینا۔ وہ باتھ آئی لینڈ میں صدرالدین ہاشوانی کے آبائی گھر کے قریب رہتی تھیں۔ میری سرکاری رہائش بھی اسی علاقہ میں تھی۔ میں ایک شام ان سے ملنے چلا گیا۔ تھوڑی دیر بیٹھا، چاۓ پی اور پھر یہ کہہ کر چلا آیا کہ کوئی بھی مسئلہ ہو تو مجھ سے آپ رابطہ کر سکتی ہیں۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد ان کے گھر سے ایک قرآن مجید کی چوری کا واقعہ پیش آیا۔ دراصل یہ ایک خاص قرآن مجید تھا۔ مشہور تھا کہ حسنہ شیخ کی طرف سے جب شادی کا تقاضا بڑھنے لگا تو بھٹو صاحب نے ایک دن کوثر نیازی اور جام صادق علی کی موجودگی میں کہا کہ قرآن مجید لے آو۔ پھر انہوں نے اس قرآن پر شادی کا اقرار لکھ دیا اور کہا نکاح نامہ اس سے بڑھ کر تو نہیں ہوتا ناں۔ اس پر کوثر نیازی اور جام صادق علی نے گواہ کے طور پر دستخط کئے۔( کتاب مینڈا سائیں کے مطابق دوسرے گواہ مصطفٰی کھر تھے )۔ اب وہی قرآن چوری ہوا تھا۔ چوری ایسے بھونڈے انداز میں کرائی گئی تھی کہ پورے گھر سے اس کے علاوہ اور کوئی چیز چوری نہ ہوئی۔ اس سے واقعہ کی حقیقت تک پہنچنے میں کچھ مشکل پیش نہ آئی لیکن پولیس کے کاغذوں میں یہ کیس بھی عدم پتہ ہی رہا۔
حسینہ شیخ بھٹو صاحب کے خلاف تحریک کے زمانے میں لندن چلی گئیں۔ جگنو محسن کے مطابق بھٹو صاحب پر جب مقدمہ چل رہا تھا تو انہوں نے جان میتھیو نامی وکیل کو ان کے دفاع کے لیے مقرر کیا لیکن اسے اس بنا پر اجازت نہ ملی کہ اس نے اس سے قبل کسی کیس کی یہاں پیروی نہیں کی تھی جو ضروری شرط تھی۔
حسنہ شیخ کا تفصیلی ذکر سٹینلے والپرٹ نے اپنی مشہور کتاب زلفی بھٹو آف پاکستان میں کیا ہے۔ والپرٹ کے مطابق حسنہ نے بھٹو صاحب کی ایک بیٹی کو جنم دیا جس کا نام شمین رکھا گیا۔ سنا ہے کہ حسنہ شیخ زندہ ہیں۔ عمر اسی سال سے اوپر ہے ۔
Facebook Comments HS