یوکرین کی جنگ: امریکہ کمزور روس چاہتا ہے تاکہ وہ یوکرین جیسا تجربہ دوبارہ نہ کر سکے

میٹ مرفی - بی بی سی نیوز


Ukrainian President Zelensky with Secretaries Austin and Blinken
آسٹن (بائیں) اور بلنکن (بائیں) روسی جارحیت کے بعد یوکرین جانے والے سب سے اعلیٰ سرکاری عہدے دار ہیں
امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یوکرین میں روس کے نقصانات اس کی قیادت کو ایسا عمل دوبارہ کرنے سے روکیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر یوکرین کی مناسب مدد کی گئی تو وہ ابھی بھی جنگ جیت سکتا ہے۔ انھوں نے کیئو کی فوجی کاوشوں کو سراہا۔

امریکہ کے فوجی سربراہ نے کہا کہ ’ہم روس کو اس حد تک کمزور دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ یوکرین پر حملے جیسے کام پھر نہ کر سکے۔‘

آسٹن نے بات کیئو میں یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی سے ملنے کے بعد کہی۔

ان کے ہمراہ امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن تھے۔ دو ماہ پہلے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یہ کسی بھی اعلیٰ امریکی اہلکار کا کیئو کا پہلا دورہ ہے۔

امریکی اور یوکرینی حکام کے درمیان تقریباً تین گھنٹے جاری رہنے والی یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب روس نے ملک کے جنوب اور مشرق میں فوجی مہم تیز کر دی ہے۔

یوکرین کے دورے کے بعد پولینڈ میں ایک نیوز کانفرنس میں آسٹن نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی اہلکار اب بھی سمجھتے ہیں کہ اگر اس کے پاس درست آلات اور درست حمایت ہو تو یوکرین جنگ جیت سکتا ہے۔

68 سالہ اہلکار نے اعلان کیا کہ امریکہ یوکرین کی حکومت اور 15 دیگر اتحادی یورپی حکومتوں کو، جنہیں روسی جارحیت کا خطرہ ہے، 55 کروڑ 90 لاکھ کی اضافی فوجی امداد دے گا۔

Ukrainian and US delegations meeting in Kyiv

زیلنسکی نے مغربی ممالک سے مزید فوجی امداد کا مطالبہ کیا ہے

اس طرح جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین کو 3.7 ارب ڈالر سے زیادہ کی امریکی سکیورٹی امداد دی جا چکی ہے۔

زیلنسکی کئی ہفتوں سے مغربی رہنماؤں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوجی آلات کی فراہمی بڑھائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی فوج کو اگر جنگی جہاز اور دوسری گاڑیاں دی گیئں تو وہ روسی فوج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

امریکہ نے یوکرین کو جنگی طیارے فراہم کرنے کی پولش تجویز کیوں مسترد کی؟

یوکرین کے آسمانوں کو کنٹرول کرنے کی جنگ

پاکستان یوکرین اور روس کے معاملے میں ’نیوٹرل‘ کیوں

’یوکرین کے پاس نیٹو میں شمولیت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں‘

گذشتہ ہفتے امریکہ نے تصدیق کی تھی کہ اس نے پہلی مرتبہ یوکرین کے فوجیوں کو ہوئٹزر توپیں اور اینٹی آرٹلری ریڈار دیے ہیں۔

واشنگٹن میں روس کے سفیر نے کہا ہے کہ ماسکو نے ایک سفارتی نوٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کی سپلائی بند کی جائے۔

دریں اثناء بلنکن نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ہفتے سے کچھ امریکی سفارتی عملہ یوکرین واپس آنا شروع ہو جائے گا۔ توقع ہے کہ شروع میں وہ مغربی یوکرین کے شہر لویو سے کام کریں گے اور بعد میں طویل مدتی منصوبے کے مطابق کیئو میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

یہ اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن سینیئر سفارتکار برجٹ برنک کو یوکرین میں سفیر تعینات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے یوکرین میں کوئی امریکی سفیر نہیں ہے۔

بلنکن نے امریکی سفارتی حکمتِ عملی کا بھی دفاع کیا۔ انھوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ اس کی وجہ سے صدر ولادیمیر پوتن کی حکومت دباؤ میں آئی ہے۔

بلنکن نے کہا کہ ’ہماری حکمتِ عملی کہ یوکرین کے لیے بہت زیادہ حمایت، روس پر بہت زیادہ دباؤ، اور ان کوششوں میں 30 سے زیادہ سرگرم عمل ممالک کے ساتھ یکجہتی، حقیقی نتائج لا رہی ہے۔‘

بلنکن نے مزید کہا کہ ایک خودمختار، آزاد یوکرین ولادیمیر پوتن کے منظر نامے پہ رہنے سے کہیں زیادہ طویل عرصے تک رہے گا۔

ملاقات کے بعد بات کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ ان کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے ’بے مثال امداد‘ کو سراہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’صدر بائیڈن کا ذاتی طور پر اور پورے یوکرینی عوام کی طرف سے یوکرین کی حمایت کرنے پر ان کی قیادت کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے۔‘

حالیہ دنوں میں روس نے یوکرین کے مشرقی ڈونباس علاقے میں اپنی پیش قدمی پر دوبارہ توجہ مرکوز کی ہے اور امریکی ذرائع کا خیال ہے کہ ماسکو نے یوکرین کے اندر 76 بٹالین ٹیکٹیکل گروپس بھیجے ہیں۔

پیر کو برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک اپ ڈیٹ میں کہا کہ ماسکو نے اس خطے میں تھوڑی بہت پیش رفت کی ہے لیکن لاجسٹک مسائل کی وجہ سے ’ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔‘

اپ ڈیٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’یوکرین کے ماریوپول کے دفاع نے کئی روسی یونٹوں کو تھکا دیا ہے اور ان کی مؤثر طریقے سے لڑنے کی صلاحیت کو کم کیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24044 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments