ڈیزائنر ملبوسات کی زیادہ قیمت کی وجہ اعلیٰ معیار یا پھر بہت زیادہ منافع؟

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور


BBC
‘یہ جوڑا کتنے کا ہے؟‘ عید کی آمد آمد ہے اور یہ وہ سوال ہے جو بازار میں یا پھر آن لائن ہر دوسری خاتون پوچھتی نظر آتی ہیں۔ قیمت اور سوٹ اچھا ہو تو خریدار بھی زیادہ ہوتے ہیں لیکن اگر سوٹ مناسب ہو اور قیمت زیادہ ہو تو ایسے میں خریداری تو دور کی بات برینڈ اور ڈیزائنر کو صرف تنقید ہی سننے کو ملتی ہے۔

حال ہی میں ایسی ہی ایک مثال ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملی جب ماڈل صدف کنول نے اپنا برینڈ لانچ کیا اور وہاں ایک بظاہر سادے سے سوٹ کی قیمت 30 ہزار روپے بتائی گئی۔

اس کے بعد کسی نے سوٹ کے ڈیزائن پر تنقید کی تو کسی نے قیمت پر اعتراض اٹھایا جبکہ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے تو یہ بھی لکھا کہ ’اس سوٹ کی قیمت ہزار روپے سے زیادہ نہیں‘ ہے جبکہ ’ہم اس سے بہتر سوٹ خود بنا سکتے ہیں۔‘

تنقید کرنے والوں کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کا یہ ماننا ہے کہ اگر آپ خریدنے کی سکت رکھتے ہیں اور آپ کو جوڑا پسند ہے تو مہنگا خریدنے میں بھی کوئی ہرج نہیں ہے۔

خواتین کے ان تاثرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نے ڈیزائنر نتاشا خان سے رابطہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ڈیزائنر کپڑوں کی ہوش ربا قیمتوں کی وجہ کیا ہے۔

BBC

’اکثر ڈیزائنر کام کےعلاوہ اپنے نام کو زیادہ کیش کرواتے ہیں‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نتاشا خان کا کہنا تھا کہ مشہور اور مقبول ڈیزائنرز تو اپنے نام پر منھ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں جبکہ ایسے ڈیزائنر جو ابھی بازار میں اپنا نام بنانے کے لیے کوشاں ہیں ان کے دام بھی کم ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘وہ کام کے علاوہ اپنے نام کو زیادہ کیش کرواتے ہیں۔ تاہم وہ ڈیزائنر جو ابھی اپنے برینڈ کا نام مارکیٹ میں بنا رہے ہیں، ان کے جوڑوں کی قیمت مناسب ہوتی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ڈیزائنرز بیس سے تیس فیصد تک ہی منافع رکھتے ہیں۔

نتاشا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘اس کے علاوہ ہم لوگوں نے دیگر خرچے بھی پورے کرنے ہوتے ہیں جیسا کہ جب آپ اچھی جگہ پر اپنا سٹور کھولتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو خرچے بھی زیادہ کرنے پڑتے ہیں۔‘

نتاشا نے ہمیں اپنے دو جوڑے دکھائے جن میں سے ایک کی قیمت دوسرے سے دگنی تھی۔ ایک جوڑے کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگیں کہ اس کی قیمت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ اس کا کپڑا، سلائی اور جو کام کروایا گیا ہے وہ بھی مہنگا ہے۔

‘جب ہم کسی جوڑے کا صرف ایک پیس تیار کرتے ہیں تو وہ ہمیں زیادہ مہنگا پڑتا ہے اور اگر ہم کسی ڈیزائن کو بڑی تعداد میں تیار کرواتے ہیں تو وہ ہمیں سستا پڑتا ہے اور اس میں ہمارے ساتھ ساتھ گاہک کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ‘زیادہ تر گاہک ڈیزائنر کے پاس اس لیے جاتے ہیں تاکہ وہ ایسا جوڑا خرید سکیں جو ان کے علاوہ کوئی اور نہ پہنے۔ یہاں اپنی اپنی پسند آ جاتی ہے۔‘

BBC

‘ہم گاہک کو مکھی پر مکھی مار کر دیتے ہیں‘

نتاشا سے ملاقات کے بعد ہم ان کے دونوں جوڑوں کی تصاویر لے کر ایک ایسی دکان پر پہنچے جو ایسے جوڑے یا ان کی ہو بہو نقل ڈیزائنر سے کہیں کم قیمت پر بنانے کے دعویدار موجود تھے۔

سہیل نذیر لاہور کی ایک مشہور کپڑا مارکیٹ میں کام کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ‘ہم گاہک کو مکھی پر مکھی مار کر دیتے ہیں۔ جو گاہک جیسی بھی تصویر ہمارے پاس لے کر آتا ہے ہم بالکل اسی طرح کا جوڑا انھیں تیار کر کے دیتے ہیں۔ اس میں ذرا سا بھی فرق نہیں ہوتا ہے۔‘

تاہم نتاشا اس دعوے سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ جوڑے کی کاپی کروائیں اور وہ بالکل ویسی ہو۔ کیونکہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی غیرمعیاری چیز استعمال کی جاتی ہے جس کی وجہ سے لاگت کم ہو جاتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مہنگے برانڈز سے تنگ خواتین نے سستا حل تلاش کر لیا

فیشن ایبل کپڑوں کی سستے دام دستیابی کیسے ممکن ہوتی ہے؟

BBC

’جو محنت جوڑا ڈیزائن کرنے پر ہوتی ہے اصل پیسے اسی کے ہیں‘

ہم نے سہیل سے سوال کیا کہ ایک چیز جس کی قیمت دس ہزار ہے تو آپ اسے پانچ ہزار میں کیسے بنا سکتے ہیں؟ کیا جوڑے پر ہونے والا کام غیر معیاری اور کم پیسوں میں کیا جاتا ہے؟

ان سوالوں کے جواب میں سہیل نے کے دعویٰ کیا کہ ایسے ڈیزائنرز بھی ہیں جو ان سے اپنے کپڑے کم قیمت پر تیار کرواتے ہیں اور پھر اپنے شوروم پر زیادہ قیمت پر بیچ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘میرے پاس ہر قسم کا ویسا ہی کپڑا بھی دستیاب ہے جو ڈیزائنر استعمال کرتے ہیں اور وہ ہول سیل میں ہم سے ہی لے کر جاتے ہیں۔‘

انھوں نے ہمیں دیکھایا کہ جو سوٹ وہ چھ ہزار میں بالکل تیار کر کے دے رہے ہیں وہی سوٹ آگے ڈیزائنر کے پیچ پر پندرہ ہزار کا بیچا رہا تھا۔ تاہم جہاں تک رہی بات کام کے غیر میعاری ہونے کی تو اس پر وہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے۔

عید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سہیل نذیر کا کہنا تھا کہ عید کلیکشن لانچ کرنے والوں کی چاندی ہوتی ہے۔ ‘کئی تو ایسے برینڈ ہیں جو عید سے دس دن پہلے ہی معذرت کر لیتے ہیں کہ اگر پہلے 20 روزوں میں آڈر دیں گے تو عید سے پہلے ملے گا ورنہ نہیں۔ جبکہ اگر لوگ گھر سے باہر نکل کر تھوڑی سی محنت کریں تو ہم جیسے لوگ مارکیٹ میں بیٹھے ہیں جو انھیں وقت پر خوبصورت سا جوڑا تیار کر دیں۔‘

اس تمام تر معاملے پر نتاشا کا کہنا تھا کہ ’یہاں آپ یہ بھول رہے ہیں کہ جو محنت جوڑا ڈیزائین کرنے پر ہوتی ہے اصل پیسے تو اسی کے ہوتے ہیں۔ ‘کاپی تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر ڈیزائنر اپنی محنت کے پیسے کچھ زیادہ وصول کرتے ہیں تو وہ جائز ہے۔‘

’فیشن کے ساتھ پیسے بھی بچانا ہیں تو خود سے تھوڑی محنت کریں‘

اس بارے میں بی بی سی کی جانب سے چند خواتین سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ڈیزائنر کے مہنگے جوڑے خریدنا خود کپڑے بنوانے سے زیادہ بہتر ہے؟

اس سوال کے جواب میں زیادہ تر خواتین کا کہنا تھا کہ ’ویسے تو آپ کی الماری میں ہر قسم کا جوڑا ہونا چاہیے لیکن سب نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ڈیزائنر کے جوڑے ضرورت سے زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم خود سے بھی تھوڑی محنت کریں تاکہ پیسے بچا سکتے ہیں۔‘

خریدار ثانیہ کا کہنا تھا کہ ’میں کپڑے بنواتی سہیل سے ہوں لیکن کپڑے سے لے کر بٹن، لیس اور ہر چیز میں خود لا کر دیتی ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر آپ فیشن کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ پیسے بھی بچانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو خود سے محنت کرنا پڑتی ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24136 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments