پاکستانیو! اسلام آباد کی کال کے لئے تیار رہو


سابق وزیر اعظم عمران خان نے جہاں مینار پاکستان کے سایہ تلے ایک بڑے جلسہ میں پاکستان کے عوام کو ”اسلام آباد کی کال“ کے لئے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔ وہاں انہوں نے کہا ہے کہ ”جن سے غلطی ہو گئی ہے۔ اب ایک ہی حل ہے۔ الیکشن کراؤ میر جعفروں نے چوروں کو مسلط کر دیا ہے۔“ ۔ لاہور میں جلسہ کے بعد عمران خان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کارکنوں کو اسلام آباد آنے کی تیاریاں شروع کرنے ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ ”کارکن تیاری کر لیں چند ہفتوں میں اسلام آباد کی کال دوں گا“ انہوں نے کارکنوں سے کہا ہے کہ ”جب تک عام انتخابات کا اعلان نہیں ہو جاتا آپ لوگوں نے میرے ساتھ اسلام آباد میں بیٹھنا ہے۔“ اب کی بار عمران خان کے لئے ”ریڈ زون“ میں دوستانہ ماحول نہیں ہو گا اور نہ ہی انہیں مہینوں ڈیرے ڈالنے کی اجازت ہو گی۔

اقتدار سے محرومی کا شکار سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد سردست عمران خان کے ہی گیت گا رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ اگر عمران خان ان کے لئے راولپنڈی سے نشست خالی نہ چھوڑیں تو ان کی ضمانت ضبط ہو سکتی ہے۔ ان کی پوری سیاست کا دار و مدار پی ٹی آئی پر ہے۔ ان کی چیخ پکار بڑی دور تک سنائی دے رہی ہے۔ انہوں نے بھی دھمکی دی ہے کہ ”قوم یاد رکھے عمران خان کی اسلام آباد کے لئے کال دنیا کو حیران کر دے گی۔ ایسے زناٹے کا رن پڑے گا کہ پاکستان کی یہ سب سے کم مدت کی حکومت ہو گی۔“ انہوں نے معنی خیز انداز میں یہ بھی کہا ہے۔ کہ ”ملک کے لئے جن کی عزت لازم ہے۔ وہ بھی سوالیہ نشان بنتے جا رہے ہیں۔“ ان کا اشارہ جس طرف ہے سب جانتے ہیں۔ شیخ صاحب ان کے حصار میں سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسی انداز میں اپنے سیاسی مخالفین پر بھی تنقید کی ہے جس انداز میں وہ اکثر اوقات کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”سامراج کے ایجنٹوں نے اپنے مفاد کے لئے گندی نالی کی اینٹوں کو تاج محل میں سجا دیا ہے“

جس درجے کے شیخ رشید احمد سیاسی کارکن ہیں ان سے بلند درجے کے رانا ثنا اللہ بھی سیاسی کارکن ہیں۔ پی ٹی آئی کی شومئی قسمت اس کا پالا اس شخص سے پڑا ہے جو فسادیوں سے دو دو ہاتھ کرنے بدرجہ اتم صلاحیت رکھتے ہیں اگرچہ انہوں نے عمران خان کو ایک آدھ بار دھرنا دینے کے لئے سہولت فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے اور طنزاً کہا ہے کہ ”عمران خان کو اسلام آباد آنے پر ہر قسم کی سہولت فراہم کی جائے گی“ رانا ثنا اللہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کے ساتھ ”شیخ رشید پلان“ کے تحت ہی سلوک کیا جائے گا جو انہوں نے پی ڈی ایم کا لانگ مارچ روکنے کے لئے بنا رکھا تھا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان اقتدار سے محروم ہونے کے بعد پشاور، کراچی اور لاہور میں بڑے جلسے کرنے کے بعد اس خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ وہ جب چاہیں ایجی ٹیشن کے ذریعے شہباز حکومت گرا سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ شہباز شریف کی مخلوط حکومت اس حد تک کمزور ہے کہ وہ ہوا کا ایک جھکڑ آنے سے زمین بوس ہو جائے گی۔ عمران خان جس قوت کے ساتھ 2014 ء میں اسلام آباد میں داخل ہوئے تھے۔ اب 8 سال گزرنے کے بعد ان کی سیاسی قوت میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ اقتدار انجوائے کرنے کے بعد ان کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ سوال یہ ہے کیا عمران کی مقبولیت کا گراف 2014 ء کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہو گیا؟

اگر کوئی ”انصافی“ پونے چار سال کی پاکستان کی ناکام ترین حکومت کے بعد بھی یہ سمجھتا ہے کہ عمران خان بدستور مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں تو پھر بحث لا حاصل ہے اور اگر زمینی حقائق نظر انداز کر کے یہ سمجھتا ہے کہ ان کی حکومت کسی عالمی سازش کے نتیجے میں گرائی گئی ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ یہ حکومت تو خود ان کی اپنی دعاؤں سے ختم ہوئی ہے۔ عمران خان اس حد تک مطمئن ہونے کا ڈرامہ رچا رہے تھے کہ ”میں تو دعائیں مانگ رہا تھا۔ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لے کر آئے“ جب ان کی دعا قبول ہو گئی تو انہوں نے نیا راگ الاپنا شروع کر دیا ”دعا قبول ہو گئی ہے۔ یہ میرے لئے تحفہ سے کم نہیں“ جب میاں نواز شریف، آصف علی زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمنٰ نے ”ناممکن“ کو ممکن کر دکھایا تو پھر چیخ و پکار کس بات پر۔

اب انصافی یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کا ”بیانیہ“ سیاسی مارکیٹ میں خوب بکے گا۔ انہیں سیاست کے رموز سے کوئی آگاہی نہیں۔ پاکستان کی ستر فیصد آباد دیہی علاقہ میں رہتی ہے۔ 13، 14 سال گزرنے کے بعد باوجود آج بھی دیہی علاقہ کی خواتین آج بھی ”بے نظیر انکم سپورٹ پرو گرام“ کو یاد رکھے ہوئے ہیں جسے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نام تبدیل نہ کر سکی، پی ٹی آئی کی حکومت نے اسے ”احساس“ کا نام دے دیا محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید ہوئے 15 سال ہو گئے ہیں۔

آج بھی بھوک و افلاس سے مارے لوگوں کے ذہن سے تحریک انصاف بے نظیر بھٹو کا نام فراموش نہیں کر سکی۔ آج بھی دیہی علاقہ کے لوگ سمجھتے ہیں۔ ان کی مالی امداد بے نظیر بھٹو کر رہی ہیں۔ دیہی لوگوں کے لئے عالمی سامراج کی سازش کوئی مسئلہ نہیں ان کے لئے اس نعرے میں کشش نہیں بلکہ ان کے لئے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے میں کشش ہے جو پی ٹی آئی کی حکومت اپنے دور حکومت عوام کو دینے میں ناکام رہی ہے۔

عمران خان کے اقتدار سے محروم ہونے سے کم و بیش دو سال قبل جب انہیں اقتدار میں لانے والی قوتوں نے محسوس کیا کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو اقتدار میں لے آئے ہیں جو پاکستان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ اس وقت ہی عمران خان کے اے زمانہ طالبعلمی کے دوست (میں اس سیاست دان کا نام مصلحتاً نہیں لکھ رہا ) نے کہا کہ جب اسے اقتدار سے ہٹایا جائے گا۔ وہ پورے ملک میں شور شرابا کرے گا۔ وہ ان قوتوں کو ذمہ دار ٹھہرائے گا جو اسے برسر اقتدار لائی ہیں۔

اس لئے طاقت ور قوتیں اس کے ساتھ گزارہ کرتی رہیں عمران خان کو تقریر کرنے کا بڑا نشہ ہے لیکن بعض اوقات وہ اپنی تقریر میں ایسی بے محل بات بھی کر دیتے ہیں جو قومی مفاد میں نہیں ہوتی یا خود ان کی شخصیت کے لئے بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔ بلا تھکان طویل تقاریر کرنے سے کوئی دانشور نہیں بن جاتا پچھلے پونے چار سال سے ایک ہی راگ الاپا جا رہا تھا۔ ”چور چور ڈاکو ڈاکو“ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔

ان کا بس چلتا تو پوری اپوزیشن سے جیلیں بھر دیتے لیکن ان کا جتنا بس چلا اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالے رکھا پی ٹی آئی کے رہنما درست ہی کہتے ہیں کہ موجودہ کابینہ کے بیشتر ارکان ضمانت پر پر ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے تمام سرکردہ رہنما کو جیل بھجوا کر ہی چھوڑا۔ سینیٹر چوہدری تنویر خان مسلم لیگ (ن) کے واحد لیڈر ہیں جن کو مالی طور سب سے زیادہ نقصان پہنچایا وہ دو سال تک جلاوطنی کی زندگی بسر کرتے رہے جب گزشتہ ماہ اپنے صاحبزادے بیرسٹر دانیال چوہدری کی شادی پر آئے تو ولیمہ کے روز ہی ان کے خلاف مقدمات درج کر کے جیل بھجوا دیا وہ تو چوہدری تنویر خان کی قسمت اچھی تھی کہ عمران خان کی حکومت گر گئی اور وہ اس وقت ضمانت پر جیل سے باہر ہیں۔

عمران خان نے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کا نعرہ لگایا لیکن عملاً انہوں نے ملتان میں جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ قائم کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب سے پی ٹی آئی کے سب سے زیادہ ارکان نے بغاوت کی مسلم لیگ (ن) جنوبی پنجاب کے ساتھ بہاولپور کا صوبہ بنانے کی حامی ہے۔ کبھی بھی عمران حکومت نے اس ایشو پر سنجیدگی سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے بات نہیں کی یہ جانتے ہوئے کہ اپوزیشن کے تعاون کے بغیر کوئی آئینی ترمیم منظور نہیں ہو سکتی قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کی ترمیم پیش کرنے کا ڈرامہ رچاتی رہی پی ٹی آئی کے جن 19، 20 ارکان نے بغاوت کی ہے۔ وہ کپتان کے ”تکبر، فرعونیت اور فسطائیت“ کے زخم خوردہ تھے۔ اس لئے ان کے خلاف ووٹ دینے کے لئے ”ریزرو فورس“ میں رہے۔

اپوزیشن شروع دن سے عمران خان کی حکومت کی مخالف ہے۔ 20 ستمبر 2020 ء کو پیپلز پارٹی کی میزبان میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں جہاں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وہاں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن استعمال کرنے پر بھی اتفاق رائے ہوا اس دوران پی ڈی ایم استعفوں کے ایشو پر شکست و ریخت کا شکار بھی ہو گئی لیکن جب آصف علی زرداری نے میاں شہباز شریف کو باور کرا دیا کہ ہمارے وہی وزیر اعظم ہوں گے تو عمران خان نے آصف علی زرداری کو پیغام بھجوا یا کہ کہ شہباز شریف کے سوا جس کو مرضی وزیر اعظم بنوا دیں لیکن میاں شہباز شریف نے جواب دیا ”ایبسلوٹلی ناٹ“ ۔ عمران خان جانتے ہیں۔ میاں شہباز شریف ایک متحرک شخصیت ہیں۔ دنوں میں مہینوں کا فاصلہ طے کر لیں گے اور ان کے دور کی تمام ناکامیوں کو کامیابی میں تبدیل کر لیں گے اور اسٹیبلشمنٹ کو ون اوور کر لیں گے۔

عمران خان سیاسی بصیرت سے عاری لیڈر ہیں۔ اگر وہ اپوزیشن کی طرف سے آنے والی تحریک عدم اعتماد سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس دے دیتے تو نگران وزیر اعظم کے انتخاب، الیکشن کمیشن کے ارکان کی خالی نشستوں پر نامزدگی میں ان کی رائے بھی لی جاتی انہوں نے قومی اسمبلی سے استعفے دے کر عملاً اپنے آپ کو پارلیمانی عمل سے باہر نکال دیا ہے۔ وہ اگر آج اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہوتے تو ممکن ہے۔ وہ بہت سے فیصلے اپوزیشن میں رہ کر کرا لیتے لیکن اب وہ کام جو وہ پارلیمنٹ کے اندر رہ کرا سکتے تھے۔ وہ ایجی ٹیشن کے ذریعے کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کام وہ 2014 ء کے دھرنے میں نہیں کر اس کے اب 2022 ء کے مجوزہ دھرنے میں کیسے کرا سکتے ہیں؟

8 سال گزرنے کے بعد صورت حال خاصی تبدیل ہو گئی ہے۔ پلوں کے نیچے سے بڑا بہہ چکا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے پاس سٹریٹ پاور تھی۔ وہ تو سیاست سے تائب ہو کر کینیڈا میں جا بسے ہیں۔ اب ان کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف حکومت گرانے کا کوئی اشارہ بھی نہیں ملا نواز شریف بھی وزیر اعظم نہیں جو سخت گیری سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے بھائی میاں شہباز شریف وزیر اعظم ہیں جو ان کو کسی قیمت پر لاقانونیت کی اجازت دیں گے۔ جہاں تک وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان کا تعلق ہے۔ وہ تو پہلے ہی ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ اگر عمران خان نے انہیں ”ڈنڈا“ چلانے کا موقع فراہم کیا تو وہ انہیں مایوس نہیں کریں گے۔

سوال یہ ہے۔ عمران خان جو اپنی حکومت کی مدت ملازمت ختم ہونے کے دعوے کرتے تھے اور 2028 ء تک حکمرانی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اب نومبر 2022 ء سے قبل عام انتخابات کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں؟ اس کے لئے وہ کارکنوں کو اسلام آباد کی کال دینے والے ہیں۔ دراصل نومبر 2022 ء کو پاکستان کی سیاست میں اس لئے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ اس ماہ پاکستان کے اگلے آرمی چیف کی تقرری ہونی ہے۔ عمران خان کی خواہش ہے کہ وہ نومبر 2022 ء کو اپنی مرضی کا آرمی چیف مقرر کریں ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آ رہا وہ شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے لئے اس لئے خلاف تھے کہ وہ جانتے تھے۔ میاں شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انتہائی خوشگوار تعلقات ہیں۔ انہیں ’اسی لئے‘ چیری بلاسم کہہ کر ان کا نام بگاڑنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ممکن ہے۔ عمران خان اگست 2022 ء میں ایک بار پھر اسلام آباد میں دھرنا دینے کی کال دیں لیکن جیسے میں پہلے کہہ چکا ہوں عمران خان ”جلسہ جلسہ“ تو خوب کھیل سکتے ہیں لیکن ان کے کارکنوں میں جیل یاترا اور تھانے کچہری کی سیاست کرنے کا حوصلہ نہیں حکومتیں گرانے کے لئے جانوں کے نذرانے دینے پڑتے ہیں۔ اگر عمران خان کے پاس جان کی قربانی کاجذبہ رکھنے والے کارکن ہیں تو وہ ملک میں سب کچھ تلپٹ کر سکتے ہیں۔ جہاں تک میں نے سیاست کے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ دھرنے کی سیاست اسی صورت کامیاب ہوتی ہے جب ان کو کہیں سے اشارہ ہو عمران خان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایجی ٹیشن کی سیاست بڑا مہنگا سودا ہوتا ہے۔ یہ سر لیتا ہے۔ کوئی شخص حکومت گرانے کے لئے جان نہیں دیتا لیکن اگر اسے اسلام اور عقیدہ کے لئے جان دینا پڑے تو اس سے گریز نہیں کرتا۔

؂۔

Facebook Comments HS