تفہیم دانائے راز : اقبال شناسی از ڈاکٹر منظور احمد


علامہ محمد اقبال بلاشبہ ایک انقلابی و ارتکازی شاعر، مفکر اور فلسفی تھے۔ آپ کے تمام تر نظریات جس قدر پر مغز اور پر تاثیر ہیں اسی طرح نزاعی بھی ہیں۔ آپ کے نظریات پر مختلف ادوار میں مختلف پہلوؤں پر تنقید کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اور تفہیم اقبال کے باب میں اب تک کئی کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ جہاں ناقدین کی اکثریت اقبال سے اتفاق کرتی اور ان کی رطب السان نظر آتی ہے وہیں ایسے ناقدین بھی ہیں جو اقبال کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں او ر تفہیم اقبال کے حوالے سے پس پردہ حقائق اور پیش نظر نئے زاویوں سے پرکھنے کی سعی کرتے نظر آتے ہیں۔

علی عباس جلالپوری نے اپنی کتاب ”اقبال کا علم کلام“ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ”اقبال نے بہ جز مغربی فلسفوں کو مسلمان کرنے کے اور کچھ نہیں کیا مگر ہاں وہ فنی لحاظ سے پختہ شاعر ضرور تھے“ 1۔ اور جہاں تک اقبال بہ حیثیت شاعر کے، تو کہا گیا کہ اقبال کی اکثر مشہور نظمیں مغرب سے اخذ شدہ ہیں تو اقبال کو ایک شاندار مترجم بھی کہا جانا چاہیے۔ اور ڈاکٹر مبارک علی یہ اعتراض کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ”اقبال نے شروع میں ہندوستان کے لیے شاعری کی اور بعد میں صرف مسلم امت کے لیے مخصوص ہو گئے۔“ 2 اور مستزاد یہ کہ ان کو مفکر پاکستان، مصور پاکستان یا قومی شاعر کہنا بھی سیاسی ضرورت یا عقیدت مندی تک تو بات ٹھیک ہے ورنہ وہ ان القابات کا کوئی استحقاق نہیں رکھتے۔

اسی ضمن میں ایک اور اہم نام ڈاکٹر منظور احمد کا ہے جنہوں نے اپنی کتاب ”اقبال شناسی“ میں تفہیم اقبال کے چند نئے زاویے متعارف کروائے۔ یہ کتاب چھ مضامین پر مشتمل ہے۔ جو 2002ء میں منظر عام پر آئی، جسے ”ادارہ ثقافت اسلامیہ“ نے شائع کیا۔

اس کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں کو اپنے علمی پیرا ڈائم پر نظر ثانی کرنے پر زور دیا اور لکھا کہ نظر ثانی کے بغیر مسلم فکر منجمد رہے گی اور عصر حاضر کے مسائل سے نبردآزما ہونے کے قابل نہیں ہوگی۔ یعنی مسلمانوں کی ذہن سازی جن تعلیمات اور اصولوں پر کی گئی ہے ان میں اجتہاد کرنا ازبس ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے درحقیقت مسلمانوں کے علمی پیراڈائم کے مضمحل پہلوؤں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی اور اقبال کی فکر سے کہیں اتفاق تو کہیں اختلاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

فکری بصیرت کے حوالے سے، تاریخ فلسفہ لکھنے والوں نے عموماً اس غلطی کا ارتکاب کیا ہے کہ انہوں نے مختلف حکماء کی فکر کو اس کے سماجی پس منظر سے علیحدہ کر کے مجرد طور پر بیان کیا ہے اور پھر صداقت، کذب، جواز اور عدم جواز کی بحثیں چھیڑ دیں ہیں۔ یہ طریقہ بے شک مجرد عقلی میدان میں روا سمجھا جاسکتا ہے لیکن یہ طریقہ انسان کو حقیقی دنیا سے کاٹ دیتا ہے۔ خدا کے متعلق جو ثبوت عیسائی عالموں نے پیش کیے تھے ان پر کانٹ کا اعتراض یہی تھا کہ وجود خدا اگر عقلی طور پر ثابت بھی ہو جائے تو وہ حقیقی ان معنوں میں نہ ہو گا کہ انسان اس سے اپنا قلبی تعلق قائم کر سکے اور اس کی امیدوں کا مرکز بھی ہو۔ یعنی ایک طرف ماورائے عقل و فہم ہو اور دوسری طرف اس کی رگ جان سے قریب تر بھی ہو۔

مستزاد یہ کہ فلسفہ جدید نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے ایک ایسا عقلی اور عالمگیر نظام دریافت کر لیا ہے جو ابدی ہے اور زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔ اسی رجحان نے عام طور پر لوگوں کے ذہنوں کی اس طرح پرورش کی کہ وہ ہر فلسفی اور شاعر کے کلام میں آفاقی پہلو دیکھنے لگے اور یہ سمجھنے لگے کہ آفاقی پہلو بھی انسانی ذہن میں آ سکتے ہیں، زمانی اور مکانی قید کے پابند ہوتے ہیں اور فکر و فلسفہ کو معاشرہ کے زمینی حقائق سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔

ڈاکٹر صاحب اس نظریے کو اقبال اور ان کی فکر سے اس طرح جوڑتے ہیں کہ:

” اقبال فی نفسہ مفکر نہیں تھے۔ ان کی فکر کا بنیادی محرک مسلمانوں اور بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کی حالت زار تھی، اقبال کو شاندار ماضی سے محروم ہو جانے کا قوی احساس تھا۔“ (3)

اقبال مسلم معاشرہ کے زوال کی تین وجوہات بتاتے ہیں۔ اول مسلمان تصوف کے زیراثر عمل کی قوت سے محروم ہو گئے، دوم انہوں نے مذہب کی بنیاد ارسطو سے مستعار منطق پر رکھی ہے جو حقیقت کو ایک زندہ اور فعال شے سمجھنے کی بجائے بے جان اور مجرد شے سمجھتی ہے۔ سوم مسلمانوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ ان کے مذہب کا ایک لازمی رشتہ ”طاقت“ کے ساتھ ہے۔ مذہب محکومی اور بے طاقتی کو صحیح نہیں سمجھتا اور مسلمان اس دنیا میں اپنے تخلیقی عزائم پورے کرنے آئے ہیں۔ اس کی منزل معرفت یا روحانی سکون نہیں بلکہ اضطراب اور عمل ہے۔

اقبال کا یہ تجزیہ عمومی طور پر بیسویں صدی میں مسلم معاشرہ کے مجموعی مزاج کو دیکھتے ہوئے صحیح لگتا ہے لیکن اس سے قبل جب مسلمانوں کے عروج کے دور میں سلاطین او ر ملوک قاہرہ کو فتح کر کے اپنی باج گزار بنانے میں مصروف تھے تو یہ فکر و فلسفہ حقیقت عصر سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ اقبال کی فکر کو وقتی کہنے سے اگرچہ ان کی بڑائی کم نہیں ہو جائے گی مگر ان کی یہ بات کوئی آفاقیت نہیں رکھتی۔

اقبال نے مسلمانوں کی حالت زار کو بدلنے کے لئے جو حل پیش کیا اس کے مطابق؛ اولاً یہ پتا چلایا جائے کہ مذہب اصل میں ہے کیا۔ دوم اس پر حرکی مابعد الطبعیات کی عمارت تعمیر کی جائے جو مسلمانوں کو عمل پر آمادہ کرسکے اور سوم وہ و نقطۂ نظر فراہم کیا جائے جو تہذیبی غلبہ اور تسلط کو جواز فراہم کر سکے۔ یہ تینوں کام اقبال نے فلسفہ اور فکر سے لینے کی کوشش کی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بیسویں صدی کی ابتداء میں مسلمانوں کی حالت زار اسی قسم کے فلسفہ کی متقاضی تھی۔

ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں :

”اقبال کی فکر کا بنیادی نقص یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی فکر کی بنیادی خامیوں کی نشاندہی تو کر لی لیکن ان کے حل کے لئے کوئی نیا پیراڈائم مہیا نہیں کیا۔ مذہب کو ذاتی تجربے سے اخذ کرنے کی بات درست ہے لیکن اس عمل کا طریق کار بالآخر پھر اسی پیراڈائم سے مستعار ہے جو اس سے پہلے فکر اسلامی اختیار کرتی ہے۔ اقبال سے ایک قدم آگے تو سرسید نے بڑھا دیا تھا کہ انہوں نے عصری سائنس کے پیراڈائم کو قبول کرنے کا مشورہ دیا اور اسلامی مابعد الطبعیات کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا ایک خدا پر ایمان۔ جو انسان کا ارادی فعل ہے اور دوسرا سائنسی حقائق جو سائنسی فکر کے تابع ہیں۔ “ (4)

اور جہاں تک بات ہے اقبال کے سائنسی نظریات کے بیان کی تو وہ یہ ہیں ؛

سائنس پر اقبال کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ، سائنس حقیقت کے جزوی مطالعہ کا نام ہے۔ یہاں یہ بات ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ جس چیز کو ہم سائنس کہتے ہیں وہ حقیقت کا کوئی واحد اور منظم نظریہ نہیں ہے۔ یہ حقیقت کے مختلف اجزاء کے علم کا مجموعہ ہے۔ فطری سائنس مادے، زندگی اور ذہن سے بحث کرتی ہے لیکن جوں ہی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مادہ، زندگی اور ذہن آپس میں کس طرح متعلق ہیں، مختلف سائنسوں کا جزوی کردار بے نقاب ہو جاتا ہے اور اس بات کا بھی پتا چل جاتا ہے کہ تمام سائنسز علیحدہ علیحدہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتیں۔

” درحقیقت مختلف فطری سائنسیں مختلف گدھوں کی طرح ہیں جو فطرت کی مردہ لاش پر گرتے ہیں او ر ہر ایک اس کی ایک بوٹی اڑا کر لے جاتا ہے۔“ (5)

سائنسی عمل کی یہ تشبیہ شاید بہت سے سائنسدانوں کے لئے خوشگوار نہ ہو گی اور سائنس شاید اس اعتراض کا جواب دینے لے لئے تیار بھی ہو گی۔ بہت سی سائنسز حقیقت کے مختلف حصوں کا مطالعہ کرتی ہیں ان کے اندرونی روابط کو نظر انداز کر دینا بھی صحیح نہ ہو گا۔ طبعیات، حیاتیات اور نفسیات کے بنیادی قوانین ایک اندرونی رشتے سے منسلک ہیں اور یہ رشتہ ہی ان کی بہ حیثیت سائنس دوسرے علوم سے ممتاز کرتا ہے۔ اور پھر ان تمام علوم کے نتائج اس کلی نقطہ ٔ نظر کو پیش کرتے ہیں جو سائنسی نقطۂ نظر کہلاتا ہے۔ جو کسی ایک سائنس یا اس کے کسی ایک جز سے متعلق نہیں رہتا۔ بلکہ اس کی بنیاد پر ایک فلسفیانہ نقطۂ نظر جنم لیتا ہے اور انسانی علوم کے لئے چند مخصوص طریق کار وضع کرتا ہے جو حقیقت اور اقدار کے بارے میں جانبدارانہ رویہ نہیں رکھتے۔

حیات کے وہ مظاہر جو مذہبی جمالیات اور وجدان کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں سائنس ان کا امر واقعہ کی حیثیت سے تو انکار نہیں کرتی لیکن جب تک اس کی کوئی کلی سائنسی تشریح ممکن نہیں ہوتی اس وقت تک سائنس اس کے بارے میں کوئی حکم بھی نہیں دیتی۔ سائنس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ کہنا شاید ممکن نہ ہو گا کہ سائنس ان تمام مظاہر کے متعلق نظریات نہیں رکھتی۔ مذہبی، جمالیاتی اور اخلاقی تجربات کی تشریح کے بارے میں سائنسی نظریات ممکن نہیں لیکن ان امکانات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ایک دن سائنس کے یہ مفروضات اس قسم کے نظریات بن جائیں گے جس طرح حرکی قوانین کے۔ اس طرح فلسفے کی تشکیل جدید میں اس امکان کو پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ اگر کوئی شاعر اپنی شاعری میں سائنسی مضامین بیان کرتا ہے تو وہ صاحب کلام سائنس دان ہے۔ اور اگر وہ سائنسی طریق کار یا توثیق کی شرائط پوری کر لے تو پھر الگ معاملہ ہے۔ ان معنوں میں اقبال کو ہم سائنس دان متصور نہیں کر سکتے۔

اقبال کے سائنسی نظریات کے بیان کی تو ڈاکٹر صاحب کو اقبال کے ان معنوں میں بھی سائنس دان ہونے سے انکار ہے۔ کہتے ہیں کہ:

” انہوں نے سائنس سے متعلق ایسے نظریات بیان کیے جن کی بہتر توجہ ہو سکتی ہے۔ اقبال کے بیان کردہ نظریات سائنسی کم او ر عقلی زیادہ ہیں۔ ہاں ایک مفکر کو حق ہے کہ وہ سائنسی علم یا اس کی تشریح پر تنقید کرے اور اس کے انکشافات کو اپنے موقف کے حق میں استعمال کرے۔ اقبال اور سائنس کا تعلق اس نوعیت کا ہے۔“ (6)

اور جہاں تک بات ہے اقبال اور تصوف کی مابعد الطبعیات کی تو ڈاکٹر صاحب اسے بارے میں اس بحث میں نہیں پڑتے کہ اقبال شیخ مجددؒ کے شہودی نظریے کے قائل تھے یا پھر شیخ اکبرؒ کے وجودی مسلک کے۔ بلکہ وہ اقبال کے بیانات کو اہمیت دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اقبال ابتداء میں شیخ اکبرؒ کے تصوف کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ ماسوائے الحاد و زندقہ کے کچھ بھی نہیں۔ مگر خود اقبال جو تصوف سے متنفر تھے ان کا اپنا نظریہ ”تصور خودی“ بھی تصوف کا فلسفہ ہے۔ درحقیقت اقبال فی نفسہ تصوف سے کوئی عناد نہیں رکھتے تھے اور اس کو عمدہ چیز بھی گردانتے تھے مگر جب یہ تصوف فلسفہ کی شکل اختیار کرتا تو اقبال کی روح بغاوت پر آمادہ ہو جاتی تھی۔

فلسفہ وحدت الوجود، ایک فلسفہ وحدت ہے۔ لیکن اقبال فلسفہ ٔ کثرت پر یقین رکھتے تھے۔ کیونکہ وحدت الوجود میں ”انسانی ارادہ“ کی آزادی کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے برخلاف اقبال انسان کی حقیقی آزادی کو تسلیم کرتے ہیں۔ اقبال کے خیال میں یہ کائنات کوئی فعل مختتم نہیں ہے بلکہ ابھی مراتب تکمیلی طے رہی ہے۔ اس بارے غالب نے بھی کہا تھا کہ:

آرائش جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیش نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں

آخری مضمون میں ڈاکٹر صاحب نے خودی، زمان اور مکان کو موضوع بنایا۔ ان کے نزدیک اقبال تصور خدا کو فلسفے کا مسئلہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے مذہب کا مسئلہ قرار دیتے تھے۔ وجود خدا کے علم کے بارے میں فلسفہ مذہب میں تین آراء ملتی ہیں۔

اول کہ ہم عقل سے وجود خدا کا علم حاصل کر سکتے ہیں۔
دوم کہ ہمیں وحی الٰہی سے حاصل ہو۔
سوم یہ کہ صوفیانہ وجدان کے ذریعے۔

فلسفہ میں ایک اور نقطۂ نظر بھی ہے کہ ہم خدا کی علمیاتی طور پر اس کے وجود کی نفی و اثبات دونوں نہیں کر سکتے۔ افلاطون اور ارسطو اس بات کے قائل تھے کہ عقل، وجود خدا کے یقینی علم کا ذریعہ ہے۔ اور یہ دعویٰ اکثر عیسائی مدرسین نے بھی تسلیم کیا ہے۔

اقبال کے نزدیک قرآن کا اصلی مقصد انسان میں خدا اور کائنات کے درمیان تہہ در تہہ اضافتوں (رشتوں ) کا اعلیٰ شعور بیدار کرنا ہے۔ یہ کائنات اقبال کے نزدیک خدا کا تخلیقی لہو و لعب نہیں ہے جس کو اس نے کسی مابعد الطبعیاتی کائناتی دن میں بیٹھ کر بنا ڈالا ہو یہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے جو ہر دم تخلیقی مراحل طے کر رہی ہے۔ نیز اقبال کے نزدیک انسان اس کائنات کا مضطرب وجود ہے اس کی زندگی کی ایک ابتداء ضرور ہے لیکن انتہا لامحدود ہے۔

اقبال کے تقریباً یہ تمام تر نظریات مغرب زدہ ہیں۔ اقبال نے اس کو اسلامی فکر نو کہا ہے اور اس سے ان کا مقصد محض فلسفیانہ موشگافی یا عقلی تجسس نہیں ہے۔ اقبال واضح طور پر اسلامی معاشرے کے لیے عمل کی راہ متعین کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ زمانہ کا تغیر اپنے اندر کچھ اصول رکھتا ہے ان اصولوں کی تفہیم کے بغیر آپ کے ہاتھ میں زمانے کی باگ نہیں آ سکتی۔

ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ:

”ایسا لگتا ہے کہ اقبال یہ نقطہ نظر ایک نفسیاتی عامل کی حیثیت سے انسانی افعال کو کسی حد تو تک متاثر کر سکتا ہے لیکن تاریخی عامل کی حیثیت سے اس میں تشریحی قوت موجود نہیں ہے۔“ (7)

بہرکیف اقبال کا یہ کارنامہ ضرور ہے کہ انہوں نے فکر کی راہ کھولی، او ر یہ جرات دی کہ انسان ان بنیادی تصورات پر غور و فکر کرے جن کو اب تک مسلم امہ کیا علماء تک بھی نہیں سمجھ سکے۔ اگر ہم ایک محتاط طریقے سے اقبال کی فکر کو مفروضہ کہیں تو ہم اقبال کے ان تمام خدشات کو دور کر سکیں گے جو ان کو مسلمانوں کی بے عملی کے بارے میں تھے۔

حوالہ جات:
1۔ علی عباس جلالپوری، اقبال کا علم کلام، مکتبہ فنون، لاہور، 1972ء، ص189
2۔ ڈاکٹر مبارک علی، تاریخ اور سیاست، فکشن ہاؤس لاہور، 1992ء، ص57
3۔ منظور احمد، ڈاکٹر، اقبال شناسی، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 2002ء، ص16
4۔ ایضاً، ص 24

5۔ نیاز نیازی، سید، تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ از محمد اقبال (اردو ترجمہ) ، اقبال اکادمی، لاہور، 1977ء، ص122

6۔ منظور احمد، ڈاکٹر، اقبال شناسی، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 2002ء، ص89
7۔ منظور احمد، ڈاکٹر، اقبال شناسی، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 2002ء، ص106


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments