جامعہ کراچی دھماکا
کنفیوشس نے کہا تھا ”اگر تم نے نفرت کی، تو تم ہار گئے“ ۔ 26 اپریل 2022 کو جامعہ کراچی میں اسی کے نام پر قائم کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے صدر دروازے پر ایسی نفرت کا اظہار کیا گیا کہ جس کی مثال ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) سے تعلق رکھنے والی شری بلوچ نامی خودکش حملہ آور خاتون نے تین چینی اساتذہ کرام کو خود کش حملے کر کے جاں بحق کر دیا، جس دھماکے کی گونج دنیا بھر میں سنائی دی۔
آپ سوچیں گے کہ اس میں نیا کیا ہے؟ یہ تو دنیا بھر میں ہوتا ہی رہتا ہے۔ لیکن ذرا غور کریں تو بہت کچھ نیا نظر آئے گا۔ مثلاً یہ پاکستانی تاریخ کا پہلا خودکش حملہ ہے جو کسی خاتون نے کیا، جامعہ کراچی کی تاریخ کا پہلا بم دھماکا نیز پہلا خودکش حملہ ہے، پہلا ایسا خود کش حملہ جو انتہائی پڑھی لکھی شخصیت نے کیا۔ گویا جامعہ کراچی سندھ رینجرز کی کسٹڈی میں ہونے کے باوجود انتہائی غیر محفوظ جگہ ہے۔ اب سننے میں آیا ہے کہ کوئی حفاظتی دیوار بنائی جائے گی مگر کیا واقعی دیوار بنانے سے حفاظتی انتظامات قوی ہو جائیں گے اور جو نقصان ہو چکا ہے، کیا اس کا ازالہ ہو پائے گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جو جامعہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کے ذہن میں گونج رہے ہیں۔ نیز کئی خدشات اور بھی ہیں جو ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا خدشہ تو یہ کہ اب تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ آئے گی، حفاظتی انتظامات بڑھنے کے سبب تمام طلبہ و طالبات اور اساتذہ کرام کو جامعہ کراچی آنے جانے میں دشواری ہوگی، شاید شناختی کاغذات کے بغیر داخلہ ممکن نہ ہو، نیز ماحول میں کافی عرصے تک ڈر و خوف کی فضا قائم رہے گی بالخصوص بلوچ طلبہ کے لئے مشکلات کھڑی ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
آنے جانے والوں کے لئے رکشے کا استعمال ممنوع کر دیا جائے گا جس کا سب سے بڑا نقصان خواتین کو پہنچے گا۔ اس کے علاوہ جامعہ کراچی میں داخلہ لینا جو پہلے ہی کوئی آسان نہیں تھا، اب مزید دشوار ہو جائے گا۔ ملک کے موجودہ سیاسی خلفشار کے سبب پیدا ہونے والی بے چینی و اضطراب اور آپسی نفرتیں کیا کم تھیں کہ اب دہشت و خون کا خوف بھی جوان ذہنوں کو منتشر کرے گا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق واقعے سے ایک روز قبل بھی خودکش حملہ آور خاتون حملہ کرنے کی کوشش کر چکی تھی لیکن اس روز موقع نہیں مل سکا، نیز سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حملہ آور خاتون اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ ایک اور خاتون کی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جو اسے دھماکا خیز بیگ تھماتی ہوئی اور اسے ہدایات بھی دیتی ہوئی نظر آئی، نیز ایسے سہولت کاروں کی موجودگی کے بھی قوی امکانات ہیں جنہوں نے گاڑی کے قیام گاہ سے نکلنے کی خبر دی ہو گی اور شاید اسی حوالے سے دونوں خواتین کی گفتگو ہوئی ہوگی۔
گویا یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ دہشتگردی کرنے والے مزید افراد آج بھی جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات میں موجود ہوں گے۔ جہاں یہ واقعہ ہر اعتبار سے قابل مذمت ہے اسی طرح جامعہ کی انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کی غفلت بھی اظہر من الشمس ہے۔ اس حوالے عدالت عالیہ کو سو موٹو نوٹس لینا چاہیے۔ نیز ایک جے آئی ٹی کے ذریعے تحقیقات کروا کے غافلوں کو قرار واقع سزا دینی چاہیے۔ کیونکہ یہ ہماری چین سے دوستی کا مسئلہ بھی ہے اور ہمارے عالمی وقار کا بھی سوال ہے۔
کسی بھی دہشت گردی کے حادثے کا اصل مقصد دہشت پھیلانے سے زیادہ اپنا وجود تسلیم کروانا اور موقف کی شہرت کا حصول ہوتا ہے۔ گویا غیر انسانی انداز میں تمام انسانیت تک اپنی موجودگی اور موقف پہنچانے کے لئے دہشت گرد کارروائی کی جاتی ہے اور جب ایک ملک میں کسی اور دوست ریاست کے افراد کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوتی ہے خاص کر جب کسی سپر پاور ملک کے باشندے حادثے کا شکار ہو جائیں۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول سانحے کے بعد ضرب عذب کا آغاز ہوا اور کچھ عرصے بعد آپریشن کامیاب ہونے کی نوید سنائی گئی اور یقین دلایا گیا کہ پاک افواج نے ملک بھر سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے، تو ہم نے خیال کیا کہ اب کم از کم پاکستان کے کسی تعلیمی ادارے کو دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
لیکن یہ ہماری خام خیالی تھی کہ ہم محفوظ ہیں، حالانکہ جامعہ کراچی کئی دہائیوں سے سندھ رینجرز کی کسٹڈی میں ہے لیکن پھر بھی ہم غیرمحفوظ ہیں۔ جامعہ کراچی سے متعلق مجھ جیسے ہزاروں طالب علموں کے دلوں میں کئی طرح کے خدشات اور شکوے موجود ہیں جو ہمارے ذہنوں پر نقش ہو چکے ہیں۔ ہم سے سوال کیا جا رہا ہے کہ تم کس قسم کی جامعہ کے طالب علم ہو جہاں کوئی محفوظ نہیں؟ کیا یہاں مزید پڑھنے کا ارادہ ہے؟ اور یہ کہ اب اس ڈگری کی کیا حیثیت رہ گئی ہے دنیا میں؟
اب ہم ان کو کیا بتائیں کہ کس چاہ سے اور کتنے جتن کرنے کے بعد یہ داخلہ حاصل ہوا تھا اور تعلیمی سرگرمیوں کے دوران کیا کیا نہیں جھیلنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ تمام تر کاوشیں اور قربانیاں رائیگاں ہوتی نظر آتی ہیں، مستقبل تاریک و مبہم ہو کے رہ گیا ہے اور مزید ستم یہ کہ ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے سبب کوئی خلاصی کی صورت بھی دور دور تک نظر نہیں آتی۔ سب اپنے اپنے چکروں میں لگے ہوئے ہیں کسی کو بھی ہماری پرواہ نہیں ہے۔
دہشت گردی کا کوئی بھی حادثہ افرادی قوت یا عسکری طاقت سے نہیں روکا جاسکتا، اس کے سدباب کا واحد حل فعال خفیہ اور جاسوسی سرگرمیاں ہیں جن کی مدد سے حملے کی پیشگی معلومات ہی حادثہ وقوع پذیر ہونے سے روک سکتی ہیں۔ یہ ادراک مجھے اس وقت ہوا جب میں نے ترکی ڈرامہ سیریز ”سوز“ (عہد) دیکھا۔ یہ سیریز ترک اسپیشل فورس کی ایک فرضی ٹیم پر فلمائی گئی ہے جس سیریز میں جدید دہشتگردی کے مختلف النو دھماکا خیز مواد اور حملوں کے خلاف اسپیشل فورس ٹیم برسر پیکار نظر آتی ہے۔
آپ کو یہ سیریز دیکھنے کے بعد اندازہ ہو جائے گا کہ کسی خودکش حملہ آور کو پیشگی معلومات کے بغیر کسی صورت روکا ہی نہیں جا سکتا اور بعض اوقات پیشگی معلومات کے باوجود حملہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ خاص کر جب حملہ آور خاتون ہو تو اسے ناکام بنانا مزید دشوار ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے مذہبی رجحان رکھنے والے معاشرے میں خواتین کے احترام کے سبب اور بالخصوص حقوق نسواں کی تحریکوں کے طفیل یہ امر حد درجہ کٹھن ہو چکا ہے۔ خواتین کے سامان کی جانچ ایک عیب سمجھا جاتا ہے نیز ہماری خواتین بھی اس معاملے میں ذرا سا تعاون نہیں کرتیں۔
خواتین میں برداشت کی صلاحیت ناپید ہوتی جا رہی ہے گویا خواتین کی ایسی باغیانہ ذہن سازی کی گئی ہے کہ وہ صحت و سلامتی کے اقدامات کو بھی حقوق نسواں کے خلاف محسوس کرتی ہیں۔ جس کا ایک نمونہ تو شری بلوچ کی صورت میں اور دوسرا والدین کے گھروں سے فرار اختیار کرنے والی کم سن بچیوں کی صورت میں زبان زد عام ہے۔ ایسی صورت میں انارکی ہی واحد نتیجے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گویا جب معاشرہ بے حس ہو جائے تو انتشار ہی برپا ہوا کرتا ہے۔ جب سماج کے بہترین تعلیم یافتہ افراد ہی باغی ہو جائیں تو عوام الناس سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ خاص کر جب ایک شادی شدہ کھاتے پیتے گھرانے کی بال بچے دار عورت یہ کام کرے تو یہ واقعی ایک لمحۂ فکریہ ہے۔


