غدار، محب اور ہم عوام


میں آپ اور سب سیاسی یا غیر سیاسی کارکن عوام وقت کے اس لمحے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنا دیے گئے ہیں۔ جذباتی تقسیم اتنی شدید کر دی گئی ہے کہ مخالف سوچ کو برداشت کرنا ایک گالی بن چکا ہے۔ آپ اپنی پسند کے لیڈر کا نام لیں تو ایک طوفان بد تمیزی آپ کی طرف سونامی کی رفتار سے چلے گا اور آپ کی انا عزت اخلاقیات عزت نفس سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔ یہ امر سونامی والوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اس کو اچھی بھلی جاگ لگ چکی ہے اور مذہبی سیاسی جماعتیں بھی اپنے کارکنوں کو جواب آں غزل ترکی با ترکی دینے پر جذبہ تہنیت سے سرفراز کرتی ہیں۔

بلکہ ایک جماعت کے ہان تو مخالف کو گالی دینا جیسے ثواب بھی تھا۔ بے غیرتا کا لفظ اسی سے تحریک انصاف والوں نے مستعار لیا تھا۔ مخالف سیاسی نظریات کو کوئی گالی دینے اور ماں بہن ایک کرنے میں جو ید طولیٰ اب حاصل ہے یہ کسی بھی زمانے میں نہ تھا بلکہ یوں کہیں کہ ایسا طوفان بد تمیزی اب زمان و مکان کی حدیں عبور کر چکا ہے۔ سات سمندر پار پاکستانی بھی ویسی ہی مہارت سے گالی دیتے ہیں جیسے کسی دور راز گاؤں کے مکیں یا کسی بڑے ترقی یافتہ شہر کے سول سوسائٹی کے نمائندے۔

اپنی من مانی کرنے کی عادت کو میرا جسم میری مرضی سے شروع کروا کر سرکاری املاک کے لئے میری مرضی کے الفاظ کی بازگشت بھی ہواؤں میں زور شور سے گونج رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے لاجز میں ایک بڑی چیئر کے حامل شخص سے بھی یہ جذبہ غلاظت قابو میں نہ رکھا جا سکا اور اس نے سیدھی بہن کی گالی داغ دی۔ جب بد تہذیبی نے ایسی تمام حدیں پار کر لیں اور پھر بھی بات نہ بن سکی بلا نہ ٹل سکی تو پھر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے کا اہتمام کیا گیا۔

ہر وہ شخص جو آپ کی سیاسی جماعت یا نظریات سے وابستہ نہ ہو آپ اسے غلام اور غدار قرار دے دیں وہ بیچارہ دبکے بیٹھ جائے گا کہ کہیں واقعی وہ ذہنی غلام تو نہیں کہیں واقعی وہ غدار تو نہیں؟ جھوٹ اتنا بولا جا رہا ہے کہ سچ جیسے چھپ کر بیٹھ گیا ہے کہ جھوٹ کی دھول بیٹھے تو وہ بھی سر اٹھائے مگر یہ اس کی بھول ہے۔ جھوٹ کی دھول اڑائی ہی اتنی جاتی ہے کہ یہ نچلے نہیں بیٹھنے دیتی۔ سچ بیچارہ تانک جھانک میں اسی دھول میں اٹ جاتا ہے اور پھر دہائیوں بعد جب کوئی منصف اعلیٰ کچھ مٹی جھاڑتا ہے تو اس کا معدوم سا چہرہ یا ہیولہ نظر آتا ہے۔

مگر اس کو بھی شک کے خانے میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے کہ سازش والا بیانیہ۔ سیکیورٹی کونسل نے دو دفعہ میٹنگ کر کے واضح کیا کہ سازش کا کچھ واضح نہیں ہوا مگر وہی شک کا پردہ اب بھی ہے۔ ایسے بات بیان کی گئی ہے کہ جس کا جو من چاہتا ہے وہ اسی طرح کی توضیع پیش کر رہا ہے۔ اور پہلے کی طرح ایک گروہ کو غدار ثابت کرنے میں لگا ہے۔ انہی صاحبان اقتدار سے بھی سوال ہے اور مجھے اپنے جیسے اندھے پیروکاروں کی آنکھ سے پٹی بھی اتارنی ہے کہ یہ لومڑی صفت کرسی پرست سیاستدان ہمیں کیسے آگ میں جھونکتے رہتے ہیں اور خود ہمیں پر حکومت کرتے رہتے ہیں۔

غدار اور محب وطن ایک ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف کبھی زبان تک نہیں کھولتے۔ اکثریت تو سگے بھائیوں کی ہے ایک غدار والی پارٹی میں ہے اور موج کر رہا ہے اور دوسرا غدار کہنے والی پارٹی میں بیٹھ کے سب سہولتیں لے رہا ہے میں اور آپ دست و گریباں ہیں اور ایک دوسرے کی نہ صرف پگڑی اچھالتے ہیں بلکہ اپنی ہی ماؤں بہنوں کو گالیاں بھی دلواتے ہیں کبھی ایک دوسرے سے اور کبھی چئر مینوں سے۔

فواد چوہدری صاحب دانیال عزیز صاحب کو دیکھ لیں کیسے باری باری حکومت میں آتے ہیں ایک غدار کہتا ہے اور دوسرا محب وطن ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ہیں بھائی! جناب اسد عمر تحریک انصاف کی روح رواں جن کی پارٹی مخالفین پر بیرونی سازش کا بیانیہ بنا چکی ہے جناب محمد زبیر سابقہ گورنر سندھ کے سگے بھائی ہیں۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ محمد زبیر صاحب مسلم لیگ نون کے عمائدین میں شمار ہوتے ہیں۔ جناب معیشت کے ماہر محترم مفتاح اسماعیل صاحب نواز کے گن گاتے نہیں تھکتے اور ان کے برادر نے بغض نواز یا شہباز میں سندھ کی گورنری چھوڑ دی عمران اسماعیل صاحب کا ذکر خیر کر رہا ہوں۔

ایسے بہت سے سگے بھائی ہیں یا نہایت قریبی رشتہ دار ہیں جنہوں نے دونوں یا تینوں پارٹیاں سنبھال رکھی ہیں کہ حکومت انہیں کے پاس ہی رہے۔ تو میرے پاکستانیوں اب آپ غور کرو۔ ہمیں غلام کہ کر پٹواری کہہ کر جیالا اور یوتھیا کہہ کر کون ایک دوسرے سے دست و گریباں کر رہا ہے؟ ہمیں نظریاتی کارکن کہہ کر ہمیں اپنے وطن اور ریاست کے خلاف کون استعمال کر رہا ہے۔ وہ بھائی بھائی ہیں دونوں ایک دوسرے کی مخالف سیاسی پارٹی میں ہیں ایک غدار ہے اور دوسرا محب؟ دونوں ایک چھت کے نیچے رہ رہے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی جان کا دشمن بنا دیا۔ ہم اس جذباتی رو میں بہہ کر اپنی ریاست کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں اپنے بھائیوں کا گلا کاٹنے لگ جاتے ہیں۔ کیوں؟ ہمیں سیاست کب آئے گی؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments