اخلاقیات اور ہمارا معاشرا


انسان کی زندگی سے اگر اخلاقیات کو نکال دیا جائے، تو وہ حیوانیت کے درجے سے بھی گر جاتا ہے۔ زمانہ جدید کا انسان خود غرضی اور حرص و ہوس میں اس قدر مبتلا ہو چکا ہے کہ اسے صحیح غلط کی پہچان بہت کم رہ گئی ہے۔ مادیت پرستی نے اس سے اعلیٰ اخلاقی اقدار کو چھین لیا ہے۔ قلم کا متعصبانہ استعمال، مذہب میں بے جا جذباتیت کا عنصر، چند ٹکوں کی خاطر خوراک میں ملاوٹ، جہیز، شادی بیاہ اور فوتگی کی فرسودہ رسومات، جھوٹ اور دھوکہ دہی کا بڑھتا ہوا رجحان کسی بھی معاشرے کو اخلاقی انحطاط کا شکار کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ہمارے ہاں تو اب سڑکوں اور گلی کوچوں میں بھکاریوں کی تعداد میں بھی بے انتہا اضافہ ہو گیا ہے، جو بدمعاشی اور ڈھیٹ پن کے ساتھ ہاتھ پھیلاتے ہیں اور بھیک نہ ملنے پر باقاعدہ چیخ و پکار کر کے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرواتے ہیں۔ اسی طرح قحبہ گری، جسم فروشی، اغواء برائے تاوان اور چھوٹے چھوٹے معاملات پر قتل و غارتگری جیسے گھناؤنے جرائم میں اضافہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔

انصاف کی فراہمی تو عام آدمی کے لیے بالکل ناپید ہو کر رہ گئی ہے۔ معمولی نوعیت کے کیسز سالوں سال عدالتوں میں لٹکے رہتے ہیں۔ دوسری طرف طاقتور طبقہ جب چاہے جس وقت چاہے اعلیٰ عدالتوں سے اپنی مرضی اور منشا کے مطابق فیصلے کروا سکتا ہے۔ انتظامیہ کا حال بھی ہمارے عدالتی نظام جیسا ہی ہے۔ اشرافیہ ہر قسم کا فائدہ آسانی سے انتظامیہ سے حاصل کر لیتی ہے، جبکہ ہر طرح کے جائز اور نا جائز قوانین عام آدمی پر ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے لاگو کر دیے جاتے ہیں۔

اس پس منظر میں پبلک کا اداروں پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ ہر کوئی اپنے حساب سے دوسروں کو لوٹنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ منڈی میں فروٹ بیچنے والے سے لے کر پیٹرول پمپ پر پیٹرول بیچنے والے تک، اکثریت دوسروں کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے تلی ہوئی نظر آتی ہے۔ ناجائز منافع خوری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ شاپنگ مالز اور بازاروں میں سر عام ناجائز منافع کے ٹیگز کے ساتھ لگی ہوئی چیزیں بک رہی ہوتی ہیں۔ اور سرمایہ دار اسے غلط سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ بلکہ وہ اس بلیک میلنگ کو الٹا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا انعام سمجھ کر دن بدن اس میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔

الغرض، یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ سارا نظام حکومت ہی اشرافیہ کی طاقت اور دولت میں بڑھوتری کے لیے کام کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سارے نظام بشمول سماجی، معاشی، معاشرتی اور اقتصادی نظام امیر کو امیر تر بنانے اور غریب کو غریب تر بنانے کے لیے ترتیب دیے گئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی اپنی بہتری کی بھر پور کوشش کے باوجود ہماری اکثریت غریب پیدا ہوتی ہے، غریب پروان چڑھتی ہے اور غریب ہی مر جاتی ہے۔

آئیے، اس سرمایہ دارانہ اور غاصبانہ نظام کے خاتمے کے لئے ہم سب اپنا اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کریں۔ دوسروں کی راہ میں رکاوٹیں بچھانے کی بجائے اپنے اپنے تئیں ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔ لالچ اور حرص و ہوس کے بتوں کو توڑ کر بہترین شہری بننے کی کاوش کریں۔ نوجوان نسل کو ملازمتوں کے پیچھے بھگانے کی بجائے ذاتی کاروبار کی تشکیل اور ترویج کا درس دیا جائے اور اس حوالے سے اپنے اپنے تجربات اور مشاہدات کے لحاظ سے ان کی ٹریننگ کی کوشش بھی کی جائے۔ معاشرے میں ہونے والے ہر طرح کے ظلم و ستم اور نا انصافی کے خلاف حق علم ہر سطح پر بلند کیا جائے اور ظالم و جابر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ہر طرح کی سعی کی جائے۔ صدیوں پرانی فرسودہ روایات کو ختم کر کے معاشرے میں اعلی اخلاقی اقدار کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عاصم پرویز گورسی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments